0

جنگ میں قتل سپاہی ہو گئےسرخرو ظل الٰہی ہو گئے

جنگ میں قتل سپاہی ہو گئے،سرخرو ظل الٰہی ہو گئے

کسی محکمے کا کوئی چھوٹا ملازم جب بڑا کام کر دکھاتا ہے تو اسے اس محکمے کے بڑے ا فسر اپنے نام سے منسوب کر لیتے ہیں ریلوے پولیس کے ایک ملازم نے ایک بار مجھے بتایا کہ اس نے کراچی جانے والی ٹرین سے دہشت گردی کے لئے استعمال ہونے والا اسلحہ کافی مقدار میں ملزم سمیت پکڑا جسے اس کے سینئرز نے اپنے نام سے پیش کر دیا محکمہ پولیس میں تو عام ہے جب کوئی کانسٹیبل۔ اے ایس آئی کسی بڑے ملزم کو گرفتار کرتے ہیں تو بڑے افسر اسے اپنی شبانہ روز محنت سے تعبیر کردیتے ہیں کوئی ایس ایچ او کوئی بڑی کارروائی کرتے ہوئے بڑی کارکردگی دکھاتا ہے تو اخبارات میں خبریں لگتی ہیں کہ ڈی پی او صاحب کی سربراہی میں فلاں تھانے کے ایس ایچ او نے یہ کارنامہ کردکھایا، حالانکہ افسر صرف اپنے دفاتر میں بیٹھے حکم چلاتے ہیں، جبکہ اس کی تعمیل کے لئے ملازمین پاؤں کی جوتیاں تک گھسا دیتے ہیں میں کسی غیر ملکی مشاعرے میں تھا، جس میں ایک شاعر نے کلام پڑھا جس کا نام معذرت سے یاد نہیں رہا۔

جنگ میں قتل سپاہی ہوگئے۔ سرخرو ظل الٰہی ہوگئے

جی یہ ظل الٰہی ہی ہر حال میں سرخرو ٹھہرتے ہیں انہوں نے ایک ایسا کام جو کبھی سوچا بھی نہ ہو اور وہ کوئی معمولی سپاہی بھی کردکھائے تو ظل الٰہی اسے اپنی جرائت رندانہ سے ملاتے ہیں ایسے ہی ہمارے ظل الٰہی جناب عمران خان صاحب ہیں جن کی زندگی کا مقصد شائد پاکستان کا وزیراعظم بننا تھا مخالفین کو زچ کرنا تھا اور بس ……ہاں اگر ان کی حکمرانی میں کہیں کوئی بڑا مگر مثبت کام کسی نے کر دکھایا تو اسے اپنی حکومت اور اپنی دن رات کی انتھک محنت کا ثمرقرار دے دیا خان اعظم نے جب پاکستان کا اقتدار سنبھالا تو خان اعظم اور کچھ کر پائے یا نہیں، لیکن دھواں دھار تقاریر ضرور کیں اور اپنی ہی بات سے پھر جانا انکی طبیعت ثانی ٹھہری جس کی مثال کہ خان اعظم اپنے لئے جانے والے یو ٹرن کو درست قرار دے چکے ہیں خان اعظم ہیلتھ ورکرز کے لئے بڑی پر تاثیر گفتگو کیا کرتے خطابات دیتے اور نہ جانے کیا کیا، لیکن پی ٹی آئی کی حکومت کی جانب سے حالیہ بجٹ میں پاپولیشن ویلفیئر پر کوئی ایک لفظ کوئی بات کوئی ایک خیال پیش نہ کیا جا سکا صد حیف کہ بجٹ میں پاپولیشن جیسا اہم شعبہ نظر انداز کر دیا گیا یوں تو پاکستان میں تقریبا ہر دور میں غریب آدمی کے لئے زندگی کا ہر راستہ بڑا کٹھن رہا، لیکن غریب کی زندگی اس بار جس کرب سے گذررہی ہے پہلے کبھی زندگی کی ایسی دردناک شکل دیکھنے کو نہیں ملی،جناب آصف علی زرداری پر اور کئی سوالات اٹھا ئے جاسکتے ہیں، لیکن ان کی حکومت میں ملازمین خوش تھے، بلکہ بہت خوش تھے آصف زرداری صاحب کے اقتدار میں ملازم اپنی ملازمتوں کے حوالے سے پرسکون تھے۔

انہوں نے ملازمین کو بڑے ریلیف دئیے بلکہ کئی کئی سالوں سے نکالے گئے ملازمین کو بحال کر دیا ان کی سابقہ تنخواہیں تک دی گئیں ایسے ہی ہم نواز شریف صاحب پر نقطہ چینی کر سکتے ہیں، لیکن آج ملک میں توانائی بحران نہ ہونے کے برابر ہے، جس کا کریڈٹ مسلم لیگ(ن) کی حکومت کو ہی تو جاتا ہے ورنہ کرونا جیسی خطرناک وبا میں ا گر عوام پر لوڈ شیڈنگ کا عذاب بھی مسلط کر دیا جاتا کیسی خوفناک صورت حال ہوتی آپ اس کا اندازہ لگا سکتے ہیں، لیکن پی ٹی آئی کی حکومت نے عوام کو کوئی ریلیف دیا ہو اس حکومت کی کہانی میں ایسا کوئی کردار نہیں ملتا اب خواتین نے جناب عمران خان کو ان کی تحریک میں بڑا سپورٹ کیا تھا، لیکن آج محکمہ بہبود آبادی کی خواتین اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا شکوہ کرتی دکھائی دیتی ہیں، حالانکہ ان ورکرز میں پی ٹی آئی کی اپنی کارکن اور ووٹرز بھی شامل ہیں مسلم لیگ (ن) کی پچھلی گورنمنٹ نے محکمہ بہبود آبادی میں ہیلتھ ورکروں کو بھرتی کیا تھا جن کی کوالفیکشن میٹرک یا شائد مڈل رکھی گئی تھی لیکن گریجوائٹ امیدواروں نے اپلائی کیا اور نہائیت مشکل سے یہ نوکری حاصل کی ان کی تنخواہ صرف نو ہزار روپے مقرر ہوئی یہ سینکڑوں ورکرز دن بھر رکشوں گاڑیوں کے کرائے ان نو ہزار سے ا داکر کے سخت محنت کے ساتھ گاوں گاؤں گھوم کراور دیگر اخراجات اٹھا کر نوکری کے فرائض ادا کررہی ہیں کہ شائد جب کبھی انہیں ریگولر کیا جائے گا ان کے حالات کچھ بہتر ہوجائیں گے انہی ورکرز نے اپنی نوکریوں کے لئے پچھلے سال مال روڈ پر اپنے معصوم بچوں کے ساتھ کئی روز دھرنا دیا۔

احتجاج کیا موجودہ حکومت نے انہیں ریگولر کرنے کا وعدہ کیا اور حکومت کی جانب سے اس وعدۂ فردا پر احتجاج ختم کرایا گیا کہ جلد انہیں ریگولر کردیا جائے گا، لیکن آج تک یہ وعدہ وفا نہ ہو سکاخان اعظم تو ایک کروڑ نوکریوں کے وعدے کیا کرتے تھے، لیکن آج پہلے سے ملازم افراد کو بھی مشکلات کا سامنا ہے خان صاحب اکثر ایک بات کرتے تھکتے نہیں میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا کسی کو نہیں چھوڑوں گا تو جناب خان صاحب اس میں صرف آپکے سیاسی مخالفین شامل ہیں یا عام آدمی بھی؟ ادھربی این پی(مینگل)نے حکومت سے اتحاد ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کا اعلان بی این پی رہنما جناب اختر مینگل نے قومی اسمبلی میں کیا بی این پی کی قومی اسمبلی میں چار نشستیں ہیں کچھ روز قبل خواجہ آصف نے حکومت کی کمزور بنیادوں کا ذکر بھی کیا تھا، یعنی حکومت سے تو اس کے اپنے اتحادی بھی ان سے نالاں ہیں، جناب عمران خان صاحب دوسروں کو خوش رکھئے اور خود بھی خوش رہئے آپکو اس فلسفے کو سمجھنا ہی ہوگا فرانس میں بھی میڈیکل ورکرز تنخواہوں میں اضافے کے لئے سڑکوں پر آگئے ہیں۔

عالیجاہ آپ نے ہیلتھ ورکرز کی بہبود آبادی کے لئے ایپ تو لانچ کر دی ہے جو کہ خوش آئند ہے لیکن محکمہ بہبود آبادی کی ورکرز کا کیا کیا؟

مزید :

رائےکالم





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں