Home » جنگی جرائم کے ملزم رشید دوستم کی تاریخی ترقی

جنگی جرائم کے ملزم رشید دوستم کی تاریخی ترقی

by ONENEWS


افغانستان کے صدر اشرف غنی نے سابق وار لارڈ اور شمالی اتحاد کے سربراہ عبدالرشید دوستم کو ترقی دے کر افغان فوج کے اعلی ترین منصب ’مارشل‘ سے نواز دیا ہے۔ جنگی جرائم کے الزامات کا سامنے کرنے والے دوستم سے قبل ملکی تاریخ میں صرف دو شخصیات اس اعلیٰ عسکری منصب پر پہنچ پائی تھیں۔

افغانستان کے سابق چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے ملک کا اعلی ترین عسکری منصب پانے پر دوستم کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوستم کو مارشل کے مرتبے پر فائز کرنا یہ اُن ہزاروں ’مجاہدین‘ کی قربانیوں کا اعتراف ہے جنہوں نے گزرے برسوں کے دوران ملک کے دفاع میں اپنی جانیں قربان کیں اور زخمی ہوئے۔

عبدالرشید دوستم 2015 سے 2019 کے درمیان افغان صدر اشرف غنی کا حلیف اور ان کا نائب رہا۔ پھر دوستم نے وفاداری تبدیل کرتے ہوئے 2019 کے صدارتی انتخابات میں عبداللہ عبداللہ کی حمایت کی۔

رواں سال مارچ میں اشرف غنی اور عبداللہ عبدللہ دونوں کی جانب سے صدارتی انتخابات جیتنے کے اعلان کے بعد ملک میں آئینی بحران نے جنم لے لیا۔ یہ صورت حال مئی تک جاری رہی۔ پھر دونوں شخصیات نے اقتدار اور اختیارات کی تقسیم سے متعلق ایک معاہدے پر دستخط کر دیے۔ معاہدے کے تحت اشرف غنی کو کرسی صدارت پر برا جمان رہنا تھا اور اس کے مقابل عبداللہ عبداللہ کو افغان طالبان تحریک کے ساتھ مذاکرات کے معاملے کی نگرانی کرنا تھی۔

شراکت اقتدار کے معاہدے میں عبدالرشید دوستم کو مارشل کے منصب پر ترقی دیے جانے کی شق بھی شامل تھی۔

دوستم کا شمار نمایاں ترین ازبک کمانڈروں میں ہوتا ہے اور جنگوں میں اپنے وحشیانہ پن کے سبب معروف ہے۔ دوستم پر جنگی جرائم کے ارتکاب کے بھی الزامات ہیں۔ ان میں اہم ترین وہ قتل عام تھا جب 2001 میں کارگو کنٹینروں کے اندر موجود طالبان تحریک کے تقریبا دو ہزار افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔

دوستم پر 2016 میں الزام عائد کیا گیا کہ اس نے اپنے کارندوں کو حکم دیا کہ اس کے ایک سیاسی حریف کو اغوا کر کے اسے بندوق کے زور پر زیادتی کا نشانہ بنایا جائے۔ بعد ازاں مئی 2017 میں دوستم علاج کی غرض سے سرکاری طور پر ترکی چلا گیا۔ جولائی میں وہ واپس آیا تو کابل کے ہوائی اڈے پر خود کش حملہ ہوا جس میں دوستم محفوظ رہا مگر دیگر 23 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔



Source link

You may also like

Leave a Comment