0

جنوبی پنجاب میں انتظامی کھچڑی

جنوبی پنجاب میں انتظامی کھچڑی

آنے والے دِنوں میں جنوبی پنجاب کس قسم کی گورننس کا تجربہ کرنے جا رہا ہے اُس کی تھوڑی بہت علامتیں ابھی سے ظاہر ہونا شروع ہو چکی ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے لئے مختلف محکموں کے سیکرٹریز کی منظوری کیا دی، ایک نیا پنڈورا بکس کھل گیا۔اب یہ جھگڑا شروع ہو چکا ہے کہ کون سے محکمے بہاولپور میں کام کریں گے اور کن محکموں کا قرعہ ملتان کے نام نکلے گا۔طارق بشیر چیمہ اور خسرو بختیار تمام اہم محکمے بہاولپور میں رکھنا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں انہیں کوئی دشواری بھی پیش نہیں آئے گی، کیونکہ ملتان کی نمائندگی کرنے والے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور اُن کے ساتھی ارکانِ اسمبلی اس حوالے سے لاتعلق ہو کر بیٹھ گئے ہیں،صرف ایک رکن قومی اسمبلی احمد حسن ڈیہڑ ملتان کا مقدمہ لڑ رہے ہیں اور اس بات پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ جنوبی پنجاب کا سیکرٹریٹ ملتان میں قائم کیا جائے اور سبھی محکموں کے سیکرٹریز ملتان میں بیٹھیں۔ بقول اُن کے وہ اس معاملے پر مستعفی ہونے کو بھی تیار ہیں اور انہوں نے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو استعفا وزیراعظم عمران خان کو پیش کرنے کے لئے دے بھی دیا تھا،مگر بعدازاں اُن کی یقین دہانی پر پھاڑ دیا۔

اپنے سیاسی وعدوں کی تکمیل کے لئے تحریک انصاف کو کتنے پاپڑ بیلنے پڑ رہے ہیں، اس کی اہم ترین مثال جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کا وعدہ ہے، جو اب ایک ایسی کڑوی گولی بن گیا ہے جسے نگلنا بھی مشکل ہے اور اُگلنا تو ہے دشوار،اس مطالبے کو پہلے تو عمران خان سمیت سبھی متعلقہ وزراء اور ارکانِ اسمبلی حیلے بہانوں سے ٹالتے رہے، جب بات نہ بنی تو عذر تراشا گیا کہ چونکہ دوتہائی اکثریت حاصل نہیں،اِس لئے صوبہ نہیں بن سکتا، جب جنوبی پنجاب کے عوام نے اس عذر کو مسترد کر دیا اور وعدہ یاد دلاتے رہے تو ایک پتلی گلی تلاش کی گئی،اس کے ذریعے یہ خوشخبری سنائی گئی کہ علیحدہ سیکرٹریٹ چونکہ ایک انتظامی حکم سے قائم کیا جا سکتا ہے،اِس لئے جنوبی پنجاب میں علیحدہ سیکرٹریٹ قائم کیا جائے گا۔اس پر بھی اسٹیبلشمنٹ نے خاصے روڑے اٹکائے، بیورو کریسی نہ مانی تاہم عوامی دباؤ جاری رہا۔بالآخر علیحدہ سیکرٹریٹ قائم کرنے کی مظوری مل گئی، مگردودھ میں مینگنیاں ڈال دی گئیں۔ اسٹیبلشمنٹ پھر اپنا کام دکھانے میں کامیاب رہی،اس سیکرٹریٹ کا ایک صدر مقام بنانے کی بجائے دو بنا دیئے گئے،یعنی ایک اور جھگڑے کی بنیاد رکھ دی گئی۔ اعتراض ہونے لگے تو تعینات ہونے والے ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے ایک پریس کانفرنس میں یہ دو ٹوک اعلان کر دیا کہ سیکرٹریٹ صرف بہاولپور میں قائم کیا گیا ہے، ملتان اور ڈی جی خان میں کیمپ آفس کام کریں گے، اس پر شور شرابہ  ہوا تو وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کو ملتان آ کر یہ طفل تسلی دینی پڑی کہ نئے صدر مقام کا فیصلہ جنوبی پنجاب کی اسمبلی کرے گی، فی الوقت ایڈیشنل چیف سیکرٹری تین دن بہاولپور اور تین دن ملتان بیٹھا کریں گے، گویا وہ بھی اس بات کو نہیں جھٹلا سکے کہ ملتان کی مرکزی حیثیت ختم کر کے اسے بہاولپور کے برابر لاکھڑا کیا گیا ہے۔

اب جھگڑا اس مرحلے میں داخل ہو چکا ہے کہ کون سے محکمے ملتان کو ملیں گے اور کون سے بہاولپور میں کام کریں گے، صرف اسی بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جنوبی پنجاب میں کس قسم کی گورننس کا ڈول ڈالا جا رہا ہے۔ جنوبی پنجاب کے عوام بھی عجیب مخمصے میں مبتلا ہو چکے ہیں اب تو انہیں لاہور سیکرٹریٹ جنت لگنے لگا ہے، جہاں تمام محکموں کے سیکرٹریز ایک ہی جگہ مل جاتے تھے، جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ تو آدھا تیتر آدھا  بٹیر بن گیا ہے۔ کبھی وہ بہاولپور کی طرف بھاگ رہے ہوں گے اور کبھی ملتان کا رُخ کریں گے، پھر یہ ضروری نہیں کہ اُن کا کام بھی ہو جائے، پہلے تو یاد کرنے میں ایک عرصہ لگ جائے گا کہ کون سا سیکرٹری کہاں بیٹھتا ہے۔ راجن پور سے بہاولپور جانے والے کو لاہور جانا کتنا سہل لگتا ہو گا۔ پاکستان میں کہیں ایسا نہیں کہ محکموں کی بندر بانٹ اس انداز سے کی گئی ہو۔ یہ کوئی مذاق تھوڑی ہے کہ عوام کو فٹ بال بنا دیا جائے اور  وہ ایک شہر سے دوسرے شہر میں دھکے کھاتے رہیں۔صاف نظر آ رہا ہے کہ تحریک انصاف کی مرکزی وصوبائی حکومتوں نے اپنے سر سے بلا ٹالنے کے لئے یہ تجربہ کیا ہے اس سے حکومت کی اتحادی جماعت مسلم لیگ(ق) بھی راضی ہو گئی ہے اور وہ اتحادی بھی جو انتخابات سے پہلے صوبہ محاذ بنائے تحریک انصاف  میں شامل ہوئے تھے۔

شور شرابہ تو ملتان کے ارکانِ اسمبلی کو کرنا چاہئے تھا، مگر حیران کن طور پر شاہ محمود قریشی اور اُن کا گروپ اس معاملے میں دفاعی پوزیشن اختیار کئے ہوئے ہے، ایسے جیسے انہیں چُپ لگ گئی ہو، جیسے کسی نے انہیں اس پر آواز اٹھانے سے روک دیا ہو۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار بھی ساری نوازشات بہاولپور پر جاری رکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کا ریجنل دفتر بھی ملتان سے بہاولپور منتقل کرنے کی منظوری دی، حالانکہ ملتان میں اُس کے لئے سات کروڑ روپے کی لاگت سے نیا عالیشان دفتر بھی قائم ہو چکا ہے۔یاد رہے کہ یہ محکمہ نصف صدی سے بھی زیادہ عرصے سے ملتان میں کام کر رہا تھا۔ وزیراعلیٰ نے نیا اکنامک  زون بھی بہاولپور کو دیا ہے، حالانکہ ملتان کی آبادی کے لحاظ سے یہاں اُس کی ضرورت زیادہ تھی۔ یہ سب باتیں ملتان کے عوام میں اضطراب پیدا کر رہی ہیں،مگر ان کی کہیں شنوائی نہیں ہو رہی ہے۔اب یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ تمام اہم محکموں کے سیکرٹری صاحبان بہاولپور میں بیٹھیں گے اور ملتان کو غیر اہم اور غیر عوامی محکمے دے کر ٹرخا دیا جائے گا،کیونکہ اس معاملے میں طارق بشیر چیمہ اور خسرو ختیار جتنے سرگرم نظر آتے ہیں، شاہ محمود قریشی اور اُن کے ساتھی اتنے ہی غیر سنجیدہ اور لاتعلق ہیں۔

پنجاب حکومت کی طرف سے یہ دعویٰ تو کیا گیا ہے کہ علیحدہ سیکرٹریٹ میں جو سیکرٹری تعینات کئے گئے ہیں وہ مکمل طور پر بااختیار ہوں گے، مگر دوسری طرف حقیقت یہ ہے کہ تعینات ہونے والے افسران کی اکثریت 19ویں گریڈ کی حامل ہے، جبکہ صوبائی سطح پر سیکرٹری کا عہدہ کم از کم 20اور21 گریڈ کا ہوتا ہے،اسی بات سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ سیکرٹریز کتنے بااختیار ہوں گے۔ ایک جونیئر افسر اپنے سینئر افسر کی حکم عدولی کیسے کر سکتا ہے۔ وہ ہر معاملے میں اپنے محکمے کے صوبائی سیکرٹری کی طرف دیکھے گا اور اُس کی منظوری لے کر فائل پر دستخط کرے گا۔اس طرح لوگوں کے کام بروقت کیسے ہوں گے، جس قسم کی انتظامی تقسیم کی گئی ہے اُس نوعیت کی تقسیم تو پہلے بھی موجود تھی، ڈویژن میں کمشنرز ایک خاص حد تک فیصلے کرنے میں آزاد ہوتے تھے۔اب یہ کام 19ویں گریڈ کے سیکرٹریز کریں گے،لیکن حتمی اختیار تو پھر بھی لاہور میں بیٹھی ہوئی بیورو کریسی کے پاس ہو گا۔ پالیسی سازی بھی مرکزی سطح پر ہو گی۔جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ میں تعینات افسران اُس پر عملدرآمد کے پابند ہوں گے، جب صوبے کا وزیراعلیٰ ایک، چیف سیکرٹری ایک اور اسمبلی ایک ہو تو جنوبی پنجاب کو خود مختار سیکرٹریٹ کسی معجزے کے تحت مل سکتا ہے۔ میرے نزدیک علیحدہ صوبے کے مطالبے کو پس پشت ڈالنے کے لئے یہ سارا کھیل کھیلا گیا ہے۔ اس سے عوام کو فائدہ تو شاید نہ ہو البتہ اُن کے مسائل بڑھنے کا امکان سو فیصد موجود ہے۔

مزید :

رائےکالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں