0

جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کا قیام عثمان بزدار بازی لے گئے

جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کا قیام، عثمان بزدار بازی لے گئے

کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے، وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے کچھ عرصہ پہلے کئے گئے اپنے اعلان کے مطابق جنوبی پنجاب میں علیحدہ سکرٹریٹ کے یکم جولائی سے کام کرنے کی راہ ہموار کر دی ہے۔ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے لئے دو بڑے افسروں کا تقرر کر دیا گیا ہے۔ ایڈیشنل چیف سکریٹری کا قرعہ فال زاہد اختر زمان کے نام نکلا ہے جبکہ ایڈیشنل آئی جی انعام غنی کو تعینات کیا گیا ہے۔ ان دونوں افسران نے فوری چارج سنبھال لیا ہے اور اب آگے کی پیش رفت ان دونوں کی ذمہ داری ہے۔ بجٹ میں جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے لئے ڈیڑھ ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ یاد رہے کہ پچھلے سال اس مقصد کے لئے تین ارب روپے رکھے گئے تھے، مگر وہ استعمال نہ ہو سکے۔ یوں عثمان بزدار پنجاب کے پہلے وزیر اعلیٰ بن گئے ہیں جن کے دور میں پنجاب دو انتظامی یونٹوں میں تقسیم ہوا ہے۔ یہ تو آنے والا وقت بتائے گا کہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کو کتنا با اختیار بنایا گیا ہے، تاہم اس فیصلے سے اس بنیادی حقیقت کو تسلیم کر لیا گیا ہے کہ پنجاب جیسے بڑے صوبے کے انتظامی معاملات چلانے کے لئے صرف لاہور سیکرٹریٹ کافی نہیں جنوبی پنجاب کے بعض شہروں سے لاہور کا فاصلہ دس بارہ گھنٹوں پر محیط ہوتا ہے ایسے میں لوگوں کا اپنے مسائل کے لئے اتنا طویل سفر کرنا اور پھر لاہور میں اپنے قیام کے اخراجات برداشت کرنا ہمیشہ ہی سے ایک مسئلہ رہا ہے، جو غالباً اب ختم ہونے جا رہا ہے۔

اگرچہ جنوبی پنجاب کے عوام کی ادھوری خواہش پوری ہوئی ہے۔ کیونکہ وہ علیحدہ صوبہ چاتہے ہیں تاہم یہ علیحدہ سیکرٹریٹ بھی کسی معجزے سے کم نہیں سب دیکھ چکے ہیں کہ سابق دورِ حکومت میں اس وقت کے گورنر ملک رفیق رجوانہ نے جن کا تعلق ملتان سے ہے بڑے طمطراق سے یہ اعلان کر دیا تھا کہ جنوبی پنجاب کا علیحدہ سیکرٹریٹ قائم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے تاریخ بھی دیدی تھی، مگر پھر ایک عرصے تک انہیں منہ چھپانا پڑا کیونکہ نا معلوم وجوہات کی بنا پر ان کا یہ اعلان کاغذی ثابت ہوا صحافی ان سے سوال پوچھتے تھے تو وہ خاموشی اختیار کر لیتے تھے۔ حتیٰ کہ انہیں ہاتھ باندھ کر یہ تسلیم کرنا پڑا کہ وہ علیحدہ سیکرٹریٹ کے قیام میں ناکام ہو گئے ہیں اس زمانے میں کہا یہ جاتا تھا کہ گورنر رفیق رجوانہ کے اس یکطرفہ اعلان کا شہباز شریف نے برا منایا ہے اور چیف سکریٹری کو کہہ دیا ہے کہ گورنر کے اس ضمن میں اعلانات پر عمل نہ کیا جائے۔

اگر گورنر کی حیثیت سے رفیق رجوانہ جنوبی پنجاب کے لئے علیحدہ سیکرٹریٹ بنانے میں کامیاب ہو جاتے تو آج عثمان بزدار کی بجائے ان کا نام اس حوالے سے تاریخ میں جگہ بنا چکا ہوتا۔ یہ مرحلہ جو وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے طے کیا ہے، اب بھی اتنا آسان نہیں تھا۔ اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے قیام کے ساتھ ہی جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، وزیر اعظم عمران خان نے اس کے لئے ایک سو دن کی مدت بھی دی تھی۔ اس سے پہلے انتخابی مہم کے دوران بھی اس کا بہت ڈھنڈورا بھی پیٹا گیا تھا۔ جس کی وجہ سے تحریک انصاف کو ملتان سے بالخصوص اور جنوبی پنجاب سے بالعموم واضع کامیابی ملی۔ لیکن اقتدار میں آتے ہی عمران خان اور تحریک انصاف کی قیادت کو علم ہو گیا کہ یہ معاملہ اتنا آسان نہیں۔ اس میں حد درجہ اُلجھاوے اور رکاوٹیں ہیں سو پہلے مرحلے پر علیحدہ صوبے کا معاملہ یہ کہہ کر ردی میں ڈال دیا گیا کہ پارلیمینٹ میں اکثریت نہیں اس لئے نئے صوبے کا آئینی بل منظور نہیں کرایا جا سکتا۔

جب تنقید زیادہ بڑھی اور جواب دینا مشکل ہو گیا تو یہ راہ نکالی گئی کہ علیحدہ سیکرٹریٹ چونکہ آئینی ترمیم کے بغیر قائم کیا جا سکتا ہے اس لئے اس کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ مگر یہ معاملہ بھی ٹیڑھی لکیر ثابت ہوا، پچھلے بجٹ میں اس سیکرٹریٹ کے لئے فنڈز بھی رکھے گئے اور خود وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ یکم جولائی 2019ء سے یہ سیکرٹریٹ کام شروع کر دے گا مگر اسٹیبلشمنٹ نہ مانی، اب پتہ نہیں اسٹیبلشمنٹ کو کیسے منایا گیا ہے۔ اگر جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ خود مختار ثابت نہیں ہوتا اور یہاں تعینات ہونے والے ایڈیشنل چیف سکریٹری اور ایڈیشنل آئی جی کا کردار وہی رہتا ہے جو لاہور میں اس عہدے کے افسران کا ہے تو پھر یہ معاملہ آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا والا ثابت ہوگا۔ اگر یہاں کے ایڈیشنل چیف سکریٹری اور ایڈیشنل آئی جی نے حتمی منظوری لاہور میں بیٹھے چیف سکریٹری اور آئی جی سے لینی ہے تو پھر عوام کی حالت اس محاورے کے مطابق ہو گی کہ نماز یں بخشوانے گئے تھے، روزے گلے پڑ گئے، اگر ان افسروں کی تعیناتی کے باوجود لوگوں کو لاہور کا چکر لگانا پڑتا ہے تو اس سیکرٹریٹ کے قیام کا سارا مقصد ہی فوت ہو جائے گا۔

ابھی یہ واضع نہیں کہ علیحدہ سیکرٹریٹ کے لئے انتظامی تقسیم کا کیا فارمولا وضع کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے اسٹیبلشمنٹ اور بیورو کریسی نے اگر بعد از خرابی بسیار اس کے قیام کی اجازت دی ہے تو دودھ میں مینگنیاں لازمی ڈالی ہوں گی۔ اس میں ایک خرابی کی بنیاد تو پہلے ہی رکھ دی گئی ہے کہ ایڈیشنل چیف سکریٹری ملتان اور ایڈیشنل آئی جی بہاولپور بیٹھیں گے۔ یہ بھی اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ ہوگا کہ سیکرٹریٹ کے دو بڑے افسران ایک سو کلومیٹر کے فاصلے پر بیٹھیں گے تاہم ان سب باتوں کے باوجود جنوبی پنجاب کے عوام اس سیکرٹریٹ کے قیام پر خوش ہیں اسے علیحدہ صوبے کی طرف ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے لئے ایڈیشنل چیف زاہد زمان اختر کو بنایا گیا ہے۔ یہ اس لئے بہت اچھا فیصلہ ہے کہ زاہد اختر زمان مختلف حیثیتوں میں یہاں اپنی ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں اور اسی علاقے کے مسائل اور لوگوں کے مزاج کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں۔ اسی طرح ایڈیشنل آئی جی انعام غنی ایک منجھے ہوئے پروفیشنل پولیس افسر ہیں۔ یہ دونوں افسران عوام کی بہت سی توقعات پوری کر سکتے ہیں اور انہیں کرنی بھی چاہئیں کیونکہ ان کے لئے نئی پوسٹیں نکالی ہی اس لئے گئی ہیں کہ وہ جنوبی پنجاب کے عوام کی محرومیوں اور مسائل کا ازالہ کر سکیں۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ جنوبی پنجاب میں تحصیل اور ضلع کی سطح پر تعینات افسران بے تاج بادشاہ بن جاتے ہیں کیونکہ انہیں لاہور سے دوری کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ کسی گرفت کا ڈر نہیں ہوتا اب راجن پور یا جتوئی میں تعینات ڈی سی یا اسسٹنٹ کمشنر عوام سے جو چاہیں سلوک کریں۔ انہیں کون پوچھ سکتا ہے۔ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ قائم ہونے سے کم از کم جنوبی پنجاب کے دور افتادہ علاقوں میں گورننس کو بہتر بنانے کا ضرور موقع ملے گا تاہم اس کا انحصار ان افسران پر ہے جنہیں جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کا مدارالمہام بنا کر بھیجا گیا ہے دیکھتے ہیں صوبے کے اندر علیحدہ انتظامی سیکرٹریٹ بنانے کا تجربہ کس حد تک کامیاب ہوتا ہے، تاہم وزیر اعلیٰ عثمان بزدار اس حوالے سے بازی لے گئے ہیں کہ انہوں نے پنجاب میں ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ تاریخ میں جب کبھی جنوبی پنجاب کا ذکر آئے گا، یہ بھی کہا جائے گا اس وقت پنجاب کے اقتدارِ اعلیٰ کی کمان عثمان بزدار کے ہاتھ میں بھی۔ ایں سعادت بزور بازونیست۔

مزید :

رائےکالم





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں