0

جنوبی پنجاب سیکرٹریٹوائسرائے کا نظام ثابت نہ ہو!

جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ،وائسرائے کا نظام ثابت نہ ہو!

جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے لئے پہلے ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے زاہد اختر زمان نے عوام کو یہ خوشخبری سنائی ہے کہ وہ دو دن ملتان، دو دن بہاولپور او ر ایک دن ڈیرہ غازی خان میں بیٹھا کریں گے، بیٹھا کریں گے کی بجائے اگر وہ یہ کہتے کہ شرفِ دیدار کرایا کریں گے تو زیادہ موزوں رہتا۔پنجاب کے چیف سیکرٹری کو لاٹ صاحب بھی کہا جاتا ہے، جنوبی پنجاب کے لئے علیحدہ سیکرٹریٹ کا جو نظام ابھی تک سامنے آیا ہے،اُس سے تو ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی حیثیت کسی مغل حکمران جیسی ہو گئی ہے،جو دہلی کے تخت سے اُٹھ کر برصغیر کے مختلف حصوں کا دورہ کرتا تھا اور ہر جگہ دربار لگا کر فیصلے سناتا تھا۔ اب یہاں جنوبی پنجاب والے یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ ایک سہل اور اچھا نظام ہوتا تو چیف سیکرٹری لاہور میں بیٹھ کر فیصلے نہ کرتا،ویسے اب لاہور میں بیٹھے ہوئے چیف سیکرٹری کو دو دن راولپنڈی، دو دن لاہور اور ایک دن سیالکوٹ میں گذارنا چاہئے تاکہ جنوبی پنجاب کی طرح امیر پنجاب والوں کی محرومیوں کا بھی ازالہ ہو سکے۔یہ سیاسی مجبوریاں بھی کیا کیا گل کھلاتی ہیں،اکیلے طارق بشیر چیمہ نے ملتان کے بڑے بڑے جغادری تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں اور ارکانِ اسمبلی کو پچھاڑ دیا ہے، سب منہ چھپاتے پھرتے ہیں، کیونکہ ملتان کے عوام اُنہیں پتھر مارنے کو تیار ہیں، جنہوں نے اتنی بڑی نمائندگی کے باوجود اس جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کو ملتان کی بجائے بہاولپور میں بننے دیا۔

میری تو عقل سے باہر ہے کہ یہ نظام چلے گا کیسے؟ اس علاقے کے لئے جن دو افسروں زاہد اختر زمان اور انعام غنی کو تعینات کیا گیا ہے غالباً فی الوقت اُنہیں خود سمجھ نہیں آ رہی کہ انہوں نے کام کرنا کیسے ہے، بس وہ فی الحال طفل تسلیوں سے کام لے رہے ہیں اور ایسے ایسے خواب دکھا رہے ہیں کہ جو شاید لاہور والوں نے بھی نہ دیکھے،حالانکہ وہاں وڈا تے اصل سیکرٹریٹ موجود ہے۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے یہ مژدہ سنایا کہ تمام محکموں کے خود مختار سیکرٹریز یہاں تعینات کئے جائیں گے۔ اب پہلا سوال یہ ذہن میں ابھرتا ہے کہ کیا ایڈیشنل چیف سیکرٹری کے ساتھ یہ سیکرٹری صاحبان بھی موبائل سیکرٹریٹ چلائیں گے،یعنی دو دِن اِدھر اور دو دن اُدھر، کیا اس کی وجہ سے عوام چکرا نہیں جائیں گے کہ پروانہ اِدھر جائے یا اُدھر، یہ کس قسم کی بے یقینی عوام کا مقدر بننے جا رہی ہے۔ کیا ملک کے کسی اور حصے میں بھی یہ نظام رائج ہے۔ کیا وزیراعظم، وزرائے اعلیٰ بھی دِنوں کی تقسیم کر کے نظامِ حکومت چلا رہے ہیں۔

اس طرح تو دارالحکومتوں کی بھی ضرورت نہیں، ون مین آرمی کی طرح ون مین حکومت بھی اسٹنگر میزائل کی طرح چلائی جائے۔ مجھے تو یہ لگتا ہے کہ اس چوں چوں کے مربہ نظام کی وجہ سے جلد ہی عوام یہ کہنے پر مجبور ہو جائیں گے، ہم پہ احساں جو نہ کرتے تو یہ احساں ہوتا ہے۔اگر حکومت میں ایک بڑا فیصلہ کرنے کی صلاحیت اور ہمت نہیں تھی، تو بہتر تھا وہی نظام چلنے دیا جاتا۔ کیا کسی نے اس بات کا بھی اندازہ لگایا ہے کہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل آئی جی کے اس علاقے میں تین تین دفاتر سے اخراجات کتنے بڑھ جائیں گے۔ سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف کو الزام دیا جاتا ہے کہ ان کے چار چار کیمپ آفس تھے، اب یہاں تین تین کیمپ دفاتر کا تجربہ کس خوشی میں کیا جا رہا ہے۔کیا ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل آئی جی صرف اپنا لیپ ٹاپ لے کر اِن دفاتر میں جایا کریں گے، ظاہر ہے آگے پورا نظام موجود ہو گا تو وہ کام کریں گے، عملہ، عمارت، انفراسٹرکچر اور دیگر معاملات تو لازمی مہیا کئے جائیں گے۔وہاں تعینات عملہ پانچ دن مکھیاں مارے گا اور دو دن لاٹ صاحب کے آنے پر مکھیاں اُڑائے گا۔

سنا ہے جب برصغیر میں انگریزی وائسرائے ہوا کرتے تھے تو انہوں نے یہی نظام رکھا ہوا تھا، جہاں جاتے پہلے سے دفتر موجود ہوتا، مگر صاحبو ، اس غریب ملک پر یہ بوجھ کیوں ڈالا جا رہا ہے۔اس طرح تو ٹی اے ڈی اے کی مد میں ہی ہر ماہ کروڑوں روپے ادا کرنے پڑیں گے،چونکہ افسران ایک دفتر سے دوسرے دفتر سفر کریں گے، اُن کی رہائش گاہ ہر جگہ تو نہیں ہو گی،انہیں ہوٹلوں یا گیسٹ ہاؤسوں میں قیام و طعام کرنا پڑے گا۔یہ بھگتان کون بھگتے گا۔کیا پنجاب کا خزانہ صرف اسی مقصد کے لئے استعمال ہو گا یا جنوبی پنجاب کے لئے بجٹ اسی مد میں صرف کیا جائے گا۔ یہ عقدہ تو آنے والے مہینوں میں حل ہو گا کہ اس نئے نظام سے جنوبی پنجاب کے عوام کو کیا ریلیف ملا، جو صورتِ حال نظر آ رہی ہے،اُس کے خدوخال کچھ اتنے حوصلہ افزا نہیں۔ایڈیشنل آئی جی انعام غنی جب صحافیوں سے ملاقات میں یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ جنوبی پنجاب کے عوام کو پولیسنگ میں بڑی بہتری نظر آئے گی، تو مَیں سوچ رہا تھا کہ اِن صاحب کی ساری سروس پنجاب پولیس میں گذری ہے، وہاں اگر یہ کوئی تبدیلی نہیں لا سکے تو یہاں کون سی نئی پولیس ہے کہ جس کی وجہ سے وہ بہتری لے آئیں گے۔

وہی افسر، وہی اہلکار، وہی حیلے وہی بہانے، جب صوبے کی پولیس بہتر نہیں تو اُس کے ذیلی علاقے کی کیسے بہتر ہو سکتی ہے۔ پھر مَیں نے صحافیوں کو یہ کہتے سنا کہ ایڈیشنل آئی جی کی پریس بریفنگ بھی اُس ڈی پی او جیسی تھی، جو کسی ضلع میں تعینات ہوتا ہے، تو بڑھے دعوے کرتا ہے، بڑے سہانے خواب دکھاتا ہے، کرپٹ پولیس اہلکاروں کو نشانِ عبرت بنانے کا مژدہ سناتا ہے اور یہ جملہ بھی ضرور کہتا ہے کہ اُس کے دروازے ہر آدمی کے لئے کھلے ہیں، مجھے اسی جملے کو سن کر وحشت سی ہونے لگتی ہے۔یہ جملہ بذاتِ خود اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کہنے والا افسر خودکو بادشاہئ وقت سمجھ رہا ہے اور رعایا کو خوشخبری سنا رہا ہے کہ اُس نے اپنے دروازے اُن پر کھول دیئے ہیں،حالانکہ کسی افسر کی عوام کے سامنے اوقات ہی کیا ہے،اُسے انگریزی میں پبلک سرونٹ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ وہ عوام کا ملازم ہے، اب کوئی عوام کا ملازم یہ بڑھک مارتا اچھا لگتا ہے کہ اُس کے دروازے اُن پر کھلے ہیں۔ایڈیشنل آئی جی انعام غنی نے بھی یہ ”خوشخبری“ سنائی ہے کہ اُن کے دروازے سب کے لئے کھلے ہیں، حالانکہ سب جانتے ہیں کہ دروازے کبھی کھلے نہیں ملتے، صاحب بہادر نے خود کو پروٹوکول اور حفاظتی حصار میں بند کر رکھا ہوتا ہے۔

مَیں اُن لوگوں میں سے ہوں جو رجائیت پر یقین رکھتے ہیں،جو امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔ اگرچہ یہاں جنوبی پنجاب میں سیکرٹریٹ کی اس تقسیم کو جنوبی پنجاب صوبے کی تحریک میں دراڑ ڈالنے کی سازش قرار دیا جا رہا ہے، احتجاج بھی ہو رہا ہے اور مظاہرے بھی، سرائیکی قوم پرست جماعتوں نے تو اسے یکسر مسترد کر دیا ہے، تاہم میرا خیال ہے اس فیصلے سے ایک جمود ٹوٹا ہے، برف پگھلی ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ اس موضوع پر کوئی بات نہیں سنتا تھا،جنوبی پنجاب کا نام تک لینا گوارا نہیں کرتا تھا۔ تخت ِ لاہور کے نزدیک یہ ایک بڑا جرم تھا کہ اُس کی عملداری کو چیلنج کیا جائے۔ اسٹیبلشمنٹ کی یہ بھی سازشں ہوتی تھی کہ علیحدہ صوبے کے معاملے پر ملتان اور بہاولپور کو لڑا دیا جائے۔یہ کام اب بھی کیا گیا، مگر کریڈٹ دینا چاہئے۔وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو کہ انہوں نے درمیانی راہ نکال کر جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کی بنیاد رکھ دی۔اب مرحلہ اسے کامیاب بنانے کا ہے،اس مقصد کے لئے سیاسی و انتظامی قیادت کو مربوط حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ غنچہ بن کھلے مرجھانے سے بچ جائے۔

مزید :

رائےکالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں