Home » جنرل لودھی کا گھسا پٹا ڈاکٹرائن

جنرل لودھی کا گھسا پٹا ڈاکٹرائن

by ONENEWS

جنرل لودھی کا گھسا پٹا ڈاکٹرائن

المیہ ہے کہ جسے کرنے کو اور کوئی کام نہیں ہوتا وہ دانشوربن جاتا ہے اور اپنی رائے کو یوں تھوپنے کی کوشش کرتا ہے جیسے عملی زندگی میں قد م قدم پر کامیابیوں کے جھنڈے گاڑکر آیا ہو۔پاکستان کو ایک ایسی تجربہ گاہ بنادیا گیا ہے کہ جس میں تمام فارمولے یکے بعد دیگر پٹتے چلے آ رہے ہیں۔جب کوئی تجربہ نا کام ہونے لگتا ہے تو نیا تجربہ کرنے کا شوشا چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ عوام کی توجہ نا کامیوں کا سبب بننے والے عوامل اور افراد سے ہٹی رہے۔ریاستی اداروں کے بندوبست سے کھڑی کی جانے والی عمران حکومت روز اول سے ہی سے کارکردگی دکھانے میں ناکام ہے۔اس حکومت کولانے والے محض ایک سال بعد ہی اس نتیجہ پر پہنچ چکے تھے کہ ان تلو ں میں تیل نہیں۔2019ء کے رمضان المبارک کے دوران ایک اعلیٰ افسر کے ہاں افطاری میں انہیں اس حوالے سے بالکل یکسو پایا کہ نیاپاکستان تو کیا بننا تھا پرانا بھی خراب ہوتا جا رہا ہے۔ اب تقریباً دو سال کے بعد یہ موضوع چھیڑ دیا گیا ہے کہ اصل خرابی آئین اور نظام حکومت میں ہے۔یہ کھاتہ کھولنے کا بنیادی مقصد تو یہی ہے کہ ریاستی ناکامیاں چھپانے کیلئے عوام کو ایک بار پھر سے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا جائے۔ سب سے پہلے تو مخصوص اینکروں کے ذریعے موجودہ سسٹم کو لپیٹ کر صدارتی نظا م لانے کی تجاویز سامنے لائی گئیں تاکہ عوام کی ذہن سازی ہو سکے، پھر بحث شروع کرانے کیلئے ا خبارات میں مضامین شائع کرائے گئے۔ابتدا میں ٹارگٹ بظاہر صر ف 18ویں ترمیم تھی لیکن اب”پورا پیکج“ پیش کیا جا رہا ہے۔ سابق سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعیم خالد لودھی نے اس ٹاسک میں آگے بڑھ کر اپنا حصہ ڈالا ہے۔

بڑے اور حساس عہدوں پر رہنے والی شخصیات جب ایسے معاملات پر رائے زنی کرتی ہیں تو عام تاثر یہی ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ محض ایک شحض کی ذاتی رائے نہیں بلکہ ہم خیالوں کی سوچ کی بھی عکاسی کی جا رہی ہے۔ اس سے قطع نظر کہ ایسے کسی منصوبے پرعمل درآمد ہوگا یا نہیں ہوگا یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ایسے”دانشوروں“ کا گروہ اپنے طور پر کیسے کیسے پلان بنا رہا ہے۔ آئینی غیر آئینی کی بحث ہے ہی نہیں۔کچھ عرصے پہلے تک ملک بھر میں 5ہزار افراد کو لٹکانے کی بات سرکاری طور پر کی جاتی تھی۔کیا وہ آئینی یا قانونی تھی؟۔آئیے سابق سیکرٹری دفاع کے اعلیٰ دماغ میں پھوٹنے والے بیش قیمت نکات کا جائزہ لیں۔ ایک قومی ا نگریز ی اخبار میں سلسلہ وار لکھے جانے والے مضامین میں نعیم خالد لودھی نے تجویز دی ہے کہ ملک میں نیا نظام متعارف کرایا جانا چاہیے۔اس نئے نظام کیلئے عبوری حکومت تشکیل دی جانی چاہیے جس کی سربراہی غیر سیاسی اعلیٰ عدلیہ کے ججز بشمول ریٹائرڈ بیوروکریٹس،دیانت دار جرنلز اور دیگر ٹیکنو کریٹس کریں جن پر سٹیک ہولڈرز متفق ہوں۔ملک کے صوبوں کو چھوٹے چھوٹے انتظامی یونٹس میں تقسیم کردیا جائے۔ پرانی سیاسی قیادت کو کسی بھی صورت آگے نہ آنے دیا جائے۔عدلیہ میں بھرتی نچلی سطح سے ہواور وہی جج ترقی کر کے آگے آئیں۔ سیاسی جماعتوں کو پہلے بلدیات میں خود کو ثابت کرنا چاہیے پھر اپنے قابل عمل منشور کے ساتھ آگے آئیں۔ایک خاص مدت کے بعد صاف ستھری شخصیات کوانتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی جانی چاہیے(ایک مضبوط،غیر جانبدار الیکشن کمیشن اس بات کو یقینی بنانے کیلئے کافی ہے۔)نعیم خان لودھی کے مطابق قانون ساز اسمبلی کو چاہیے کہ وہ تین سے چھ ماہ میں ایک نیا آئین تیار کرے یا اس آئین میں ایسی تبدیلی لائے جو خامیوں سے پاک ہو،گورننس کا نظام ایسا ہو جو عوام کی فلاح کو یقینی بنائے جس میں تعلیم،انصاف،صحت اور مساوی معاشی مواقع کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

موجودہ فرسودہ سسٹم اور ا س کے مختلف ذیلی نظاموں کے نا کام ہونے کی وجہ سے ہمیں جن خطرات کا سامنا ہے اس کے مقابلہ میں ہمیں مشترکہ طور پر تیزی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔“ان سطور کو پڑھ کر بآسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سب سے زیادہ زور پر انی سیاسی قیادت کا راستہ روکنے پر دیا گیا ہے۔جنرل صاحب کی یہ پریشانی ”جائز“ہے کیونکہ یہ تاثر عام ہے کہ کسی مضبوط اور مقبول سیاستدان کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ذوالفقار علی بھٹو، محترمہ بینظیر بھٹو اور نواز شریف کے ساتھ جو ہوا اسے اسی تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ جنرل لودھی کی یہ تازہ تجویز دراصل پہلے فوجی آمر جنرل ایوب خان کے بد نام زمانہ قانون ایبڈو کی فوٹو کا پی ہے۔ جس کے تحت 1959ء میں مارشل لاء لگاتے ہی متحدہ پاکستا ن کے چوٹی کے78سیاستدانوں کو نا اہل قرار دیدیا گیا تھا۔

سابق وزیراعظم حسین شہید سہروردی کو بھی اسی آرڈر کے تحت نشانہ بنا کر گرفتا ر گیا تھا۔ اپنے اقتدار کو دوام دینے اور مخالفین کی آواز کوخاموش کرانے کیلئے کیے گئے ان اقدامات کا نتیجہ 1971ء میں سقوط ڈھاکہ کی صورت میں برآمد ہوا۔جنرل مشرف کے دور میں بڑے سیاستدانوں کو سائیڈ لائن کرنے کے بعد باقی سب کیلئے بی اے کی شرط اس لیے رکھی گئی کہ وہ بعض پختہ کار چہروں کی پارلیمنٹ میں موجودگی ا پنے لیے درد سر سمجھتے تھے۔حالیہ تاریخ میں نواز شریف کی تاحیات نااہلی کا مقصد بھی انہیں سیاست سے باہر کرنا تھا۔2018ء کے عام انتخابا ت کا مرکزی خیال بھی یہی تھا کہ مقبول اور پختہ کا ر سیاستدانوں کو پارلیمنٹ سے آؤ ٹ کیا جائے۔ پیپلز پارٹی کو چکمہ دے کر عارضی طور پر اقتدار کی گاڑی پر سوار کرایا گیا تھا منصوبہ یہ تھا کہ دوران سفر اسے دھکا دے کر باہر گرا دیا جائے گا مگر بعض وجوہات کی بنا پر یہ اب تک پورا نہیں ہو سکا منصوبہ بڑی حد تک کا میاب ہوا مگر آج اس کی قیمت پورا ملک سیاسی افراتفری کی صورت میں چکا رہا ہے۔تاریخ شاہد ہے کہ یہ حربے قابل عمل نہیں رہے بلکہ ملک کیلئے سخت نقصا ن کا سبب بنے۔

جنرل لودھی نے ایک ایسی عبوری حکومت کی بات بھی کی جو بقول ان کے دیانتدار جرنلوں،ججوں،بیوروکریٹس اور ٹیکنو کریٹس پر مشتمل ہو۔موصوف چونکہ اپنے ہی ہم خیالوں کے ساتھ مگن رہتے ہیں۔ اس لیے شایدانہیں علم نہیں کہ مذکورہ چاروں شعبوں کے کئی بڑوں بارے میں عوام کی رائے کیا ہے؟ انہوں نے ملک کوچھوٹے چھوٹے انتظامی یونٹوں میں تقسیم کرنے اور نیا آئین لانے کی تجویز بھی دی۔یعنی پارلیمانی سسٹم کو لپیٹ کرصدارتی نظام لایا جائے حالانکہ پاکستان میں صدارتی نظام کا بھر پور طریقے سے تجربہ ہو چکا ہے اور ہر بار یہ خوفناک طریقے سے پٹ کر منہدم ہوگیا۔جنرل ایوب،جنرل یحییٰ،جنرل ضیاء الحق،جنرل مشرف ”آہنی“ صدور تھے۔عدالتوں اور خفیہ ایجنسیوں سمیت تمام ادارے ان کی جیب میں تھے مگر ملک کیلئے کچھ کرنا تو دور کی بات،درست سمت کا تعین تک نہ کیا جا سکا۔کرپشن کا باقاعدہ آغاز جنرل ایوب خان نے اپنے خاندان کو کاروبارکرائے اورملک کے بڑے صنعت کاروں میں شامل کرا کے سکھ کا سانس لیا۔ جنرل لودھی نے یہ تجویز بھی دی ہے کہ عدلیہ میں بھرتی نچلی سطح سے ہو اور وہی جج ترقی کر کے آگے آئیں۔گویاوہ چاہتے ہیں کہ ججوں کی بھی ایک ایسی اکیڈمی قائم کی جائے جس سے ارشاد حسن،ثاقب نثار غیرہ تیار ہو کر نکلیں۔

جنرل لودھی نے تعلیم،انصاف،صحت،مساوی معاشی مواقع اور بلدیاتی اداروں کی بات بھی کی ہے جو ہمیشہ سے ہر سیاسی جماعت کے منشور میں شامل ہے۔ جمہوریت پر شب خون مارنے والے بھی یہی نعر ے لگاتے ہیں۔اس میں کچھ بھی نیانہیں،ہاں مگر جنرل لودھی نے یہ بات بالکل درست کی ہے کہ ہمیں جن خطرات کا سامنا ہے اس کے لیے مشترکہ طور پر تیزی سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے لیکن ا س میں چندرکاوٹیں ہیں۔پہلی بات تو یہ ہے کہ کسی ایک معاملے پر سب متحد ہو گئے تو کس کے غلبے کے خلاف ہو نگے؟دوسرا یہ کہ تیزی سے اقدامات کرنے ہیں تو1973ء کے آئین کے حقیقی معنوں میں نفاذ کے سوا کوئی اور راستہ ہے ہی نہیں۔حسن اتفاق سے بقاء کا راستہ بھی یہی ہے، باقی سب ہوائی قلعے ہیں۔ ایسا کب تک چلے گا کہ من مانی کوئی اور کرے مگر اس کا خمیازہ ملک کے عوام اور جغرافیے کو بھگتنا پڑے۔جو کچھ جنرل لودھی کے دماغ میں ہے اس پر پوری طرح سے عمل درآمد کربھی لیا جائے تو پاکستا ن کو زیادہ سے زیادہ میانمار بنایاجا سکتا ہے۔

مزید :

رائےکالم

You may also like

Leave a Comment