0

جنرل راشد دوستم افغانستان کے افسانوی تاریخ

افسانوی داستان کے ایک افغان مورخ ، جنرل راشد دوستم

جنیوا امن معاہدے کے نتیجے میں سوویت یونین کو افغانستان سے ”محفوظ واپسی“ کا راستہ ملا، لیکن افغانستان میں امن قائم نہیں ہو سکا، اشتراکی واپس چلے گئے،لیکن ان کی کٹھ پتلی حکومت ڈاکٹر نجیب اللہ کی سربراہی میں تقریباً تین سال تک قائم رہی، اس طرح اشتراکی افواج کی واپسی کے بعد اشتراکیوں کے ایجنٹ کو تخت ِ کابل سے ہٹانے کی جدوجہد جاری رہی۔جنرل حمید گل کی قیادت میں آپریشن جلال آباد بھی کیا گیا تاکہ افغان مجاہدین کی حکومت قائم کی جا سکے،لیکن ہمیں کامیابی حاصل نہ ہو سکی، پھر ڈاکٹر نجیب اللہ حکومت کے خاتمے کے بعد مجاہدین گروپوں میں حصولِ اقتدار کی جنگ شروع ہو گئی، جس نے خانہ جنگی کی صورت اختیار کر لی، جس کے بطن سے طالبان ابھرے اور پھر پورے افغانستان پر چھا گئے،انہوں نے گلبدین حکمت یار سمیت احمد شاہ مسعودکے شمالی اتحاد اور دیگر جنگجو گروپوں کو زیر نگیں کیا۔ شکست دی اور افغانستان میں امن بحال کیا۔ حکومتی رٹ قائم کر کے دکھائی۔

دوحا امن مذاکرات اور طالبان امریکہ امن معاہدے کے بعد جارح امریکیوں کو افغانستان سے ایسے ہی ”محفوظ واپسی“ کا راستہ مل گیا ہے جیسے جنیوا امن معاہدے کے بعد اشتراکیوں کو ملا تھا، جس طرح اشتراکی افواج کی واپسی کے بعد کٹھ پتلی نجیب اللہ کی حکومت قائم رکھی گئی ایسے ہی دوحا امن مذاکرات کے بعد امریکی کٹھ پتلی اشرف غنی تخت ِ کابل پر فائز ہے۔تاریخ اپنے آپ کو دہرانے کی تیاری کر رہی ہے، جنگ ہو کر رہے گی۔ طالبان فاتح ہیں، جبکہ اشرف غنی حملہ آوروں کا ساتھی/ ایجنٹ ہے اس کا حکمران رہنا افغانوں کی دو ہزار سالہ تاریخ کے موافق نہیں ہے، اشرف غنی افغانستان کے مستقبل کا کسی طرح بھی سٹیک ہولڈر نہیں ہے اسے ویسے ہی جانا ہو گا جیسے ڈاکٹر نجیب اللہ کو ہلاک کر کے رخصت کیا گیا تھا۔امریکی افغانستان میں نااتفاقی کا بیج بو چکے ہیں اس کا کڑوا پھل بھی ضرور آئے گا۔

گزشتہ دِنوں جنرل رشید احمد دوستم کو افغان صدر کے فرمان کے ذریعے ”مارشل“ کا اعلیٰ خطاب عطا کیا گیا ہے، ذرا صدر افغانستان سے کوئی پوچھے کہ انہوں نے کون سے اعلیٰ جنگی کارنامے سرانجام دیئے ہیں کہ ان کے بدلے میں انہیں ”مارشل“ کا خطاب دیا گیا۔رشید دوستم ایک بدنام زمانہ کردار ہے۔افغانستان کی تاریخ میں تین طرح کے کردار ملتے ہیں یا ہم افغانستان اور ہندو کش کے پار اس خطے میں بسنے والوں کو طبائع ارو خصائص کے مطابق تین گروپوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ایک وہ لوگ ہیں جو آزادی پسند ہیں وہ اپنے طرزِ معاشرت میں کسی کی مداخلت پسند نہیں کرتے ہیں یہ جنگجو اور غیرت مند گروہ ہے جو حملہ آوروں سے ہی نہیں،بلکہ اپنے بھائی بندوں سے بھی برسر پیکار رہتا ہے، جنگجوئی ان کا طرزِ فکر و عمل ہے یہی گروہ تھا جس نے چار افغان جنگوں میں برطانیہ عظمیٰ کی افواج کو شکست دی۔ اسی طرزِ فکر و عمل کے افغانوں نے اشتراکی افواج کو شکست سے ہمکنار کیا اور یہی لوگ امریکی اتحادیوں سے لڑ کر کامیاب و کامران ہوئے یہ لوگ کبھی مجاہدین افغانستان کے پرچم تلے جمع ہو کر اشتراکیوں کے خلاف لڑے اور پھر طالبان و حقانی نیٹ ورک کے ذریعے امریکی اتحادی افواج کے خلاف سینہ سپر ہوئے اور کامیاب ہوئے۔یہ گروہ ہمیشہ سے اپنی آزادی و خود مختاری کا تحفظ کرتا اور کامیاب ہوتا آیا ہے۔

دوسرا گروہ وہ ہے جو حصولِ اقتدار کے لئے ”آلہ کار“ کا کردار ادا کرنے کے لئے ہمیشہ تیار رہتا ہے، اپنے بیرونی آقاؤں کے ساتھ گٹھ جوڑ کے ذریعے، سازش اور دھونس دھاندلی کے ذریعے غیر ملکیوں کے ایجنڈے پر گامزن رہتا ہے۔کنگ ظاہر شاہ، سردار داؤد، حفیظ اللہ امین اور نور محمد ترکئی جیسے افراد اسی گروہ میں شمار کئے جاتے ہیں، پھر جب غاصب اور جارح اقوام کی افواج ان کے ملک پر چڑھ دوڑتی ہیں تو اسی گروہ کے لوگ اپنی خدمات پیش کرتے ہیں،حصول اقتدار کے لئے غیر ملکی آقاؤں اور ان کی افواج کے ایجنٹ بن کر ایسے لوگ اپنی ہی قوم کے ساتھ دشمنی کرتے نظر آتے ہیں،بیرک کارمل اور نجیب اللہ جیسے لوگ اسی شمار میں آتے ہیں۔حامد کرزئی، عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی ایسے ہی کردار ہیں جو اپنے اقتدار کی سلامتی کے لئے برطانوی اشتراکی اور امریکی تو کیا شیطان کے بھی نمائندے بننے کے لئے تیار رہتے ہیں۔تیسرا گروہ ایسے لوگوں پر مشتمل ہے جو صرف اور صرف حصول زر کے لئے ہر کام کرنے کو تیار رہتے ہیں۔اس سوچ کے لوگ،اقتدار کے حریص گروہ کے ساتھ شامل ہو کر غیر ملکی آقاؤں کے ایجنڈے پر چلتے ہیں اس طرح بنیادی طور پر دو گروہ بھی پائے جاتے ہیں۔ایک محب وطن آزادی پسند، جنگجو اور دوسرا ان کا مخالف اور اقتدار و زر کا حریص گروہ،صدیوں سے ایسے ہی ہوتا چلا آیا ہے اب بھی ایسا ہی ہو کر رہے گا۔

طالبان فاتح ہیں، افغانستان ان کا ہے یہ سرزمین، یہ کوہ ودمن انہی کے ہیں، انہوں نے ان پر اپنا استحقاق20سالہ جدوجہد کے ذریعے ثابت بھی کر دیا ہے، طالبان۔ امریکہ امن معاہدہ اس کی دلیل ہے۔ امریکی بھی یہ بات تسلیم کر چکے ہیں کہ مسئلہ افغانستان کے اصل فریق طالبان اور وہ لوگ ہیں، جنہوں نے قربانیاں دے کر امریکیوں کو ان کے ساتھ مذاکرات کی میز تک پہنچایا۔ افغانستان پر یہی گروہ حکمران ہو گا تو یہاں امن قائم ہو گا۔کٹی پتی حکمران آنے والے دِنوں میں حالات کو دیکھتے ہوئے مختلف قومیتوں کو اپنے ساتھ چلانے کی کاوشیں کر رہے ہیں تاکہ جب ان کی طالبان و فاتح گروہوں کے ساتھ پنجہ آزمائی ہو تو وہ اپنی حکومت کو بچا سکیں۔رشید احمد دوستم80ء کی دہائی میں افغانستان کے منتظر پر نمودار ہوا۔یہ قومیت کے اعتبار سے ازبک ہے اپنے چالیس سالہ کیریئر میں یہ ہمیشہ اپنی وفادار داریاں وقت کے مطابق بدلتا رہا اور اس کا مقصد وحید ِ اقتدار رہا ہے۔ اشتراکی افواج کے خلاف جس وقت پشتون مجاہدین جہاد کر رہے تھے تو اس نے حملہ آوروں کی مدد سے، حملہ آوروں کی مدد کے لئے ایک ملیشیا قائم کی جسے ”گلم جلم ملیشیا“ کا نام دیا گیا، اسے ”بوری لپیٹ ملیشیا“ بھی کہا جاتا تھا، کیونکہ یہ لوگ دشمن کو قالین وغیرہ میں لپیٹ کر ہلاک کرتے تھے۔

یہ ملیشیا جرائم پیشہ ازبک قوم کے20ہزار افراد پر مشتمل تھی، پھر جب اشتراکی افواج کی واپسی کا اعلان ہوا تو اس نے نجیب اللہ حکومت میں شرکت کی کاوشیں شروع کر دیں۔1992ء میں جب نجیب اللہ حکومت کے دن گنے جا چکے تو اس نے مجاہدین حکومت میں شامل ہونے کے لئے پروفیسر برہان الدین ربانی سے روابط بڑھانے شروع کر دیئے، اس نے کچھ دیر کے لئے گلبدین حکمت یارکے ساتھ بھی اتحاد قائم کیا۔ پھر یہ شمالی اتحاد کی طرف چلا گیا،جہاں اس نے چھ صوبوں پر اپنا اثرو رسوخ قائم کیا یہاں تقریباً 50 لاکھ نفوس بستے ہیں۔1997ء میں 43برس کی عمر میں یہ شخص شمالی افغانستان میں ایک ننھی منی ریاست کا حکمران تھا۔یہ سفاکی سے اپنے دشمنوں کو قتل کرتا رہا ہے۔1998ء میں طالبان کے خوف سے ترکی فرار ہو گیا۔ ایک سال بعد واپس آ کر اس نے احمد شاہ مسعود کی قیادت میں طالبان دشمن شمالی اتحاد میں شمولیت اختیار کی۔نائن الیون سے چند روز پہلے جب احمد شاہ مسعود کی ہلاکت کے بعد جنرل فہیمی کو اتحاد کا ملٹری کمانڈر تعینات کیا گیا تو دوستم نے اس کا حکم ماننے سے انکار کر دیا۔ دوستم پر لوگوں کو ہلاک کرنے کے ساتھ ساتھ جنسی درندگی اور کھلے عام شراب نوشی کے الزامات بھی ہیں، لیکن 2014ء میں جنرل دوستم نائب صدر منتخب ہوا اور اب اشرف غنی نے اسے مارشل کا اعزاز دیا ہے تاکہ اس کی طاقت و قوت کو آنے والے دِنوں میں اپنی حکومت بچانے کے لئے استعمال کیا جا سکے۔

مزید :

رائےکالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں