0

جنرل امیر حمزہ خان مرحوم کی یاد میں!

جنرل امیر حمزہ خان مرحوم کی یاد میں!

میری پوسٹنگ بطور کیپٹن، قلات سکاؤٹس خضدار میں تھی۔ گرمیوں کا موسم تھا۔ خضدار کا موسم شدید ہوتا ہے۔ یعنی گرمیوں میں سخت گرمی اور سردیوں میں شدید سردی۔ ایک شام دروازے پر دستک ہوئی تو میرے ملازم نے آکر بتایا کہ تین مہمان ہیں جو وضع قطع اور لباس سے بہت لکھے پڑھے معلوم ہوتے ہیں۔ وہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔ میں نے بتایا کہ ان کو اندر بلا لو اور ڈرائنگ روم میں بٹھاؤ، میں کپڑے تبدیل کرکے آتا ہوں۔

جب ان حضرات سے ملاقات ہوئی تو معلوم ہوا کہ تبلیغی جماعت کے افراد ہیں۔ تینوں باریش تھے۔ ایک کا تعلق لاہور سے تھا۔ وہ ایم بی بی ایس ڈاکٹر تھے اور میڈیکل سپیشلسٹ تھے۔ دوسرے صاحب فیصل آباد کے رہنے والے تھے اور زرعی یونیورسٹی میں پڑھاتے تھے وہ بھی پی ایچ ڈی تھے۔ تیسرے مہمان کا تعلق پشاور سے تھا اور وہ پیشے کے اعتبار سے انجینئر تھے۔ میں نے آمد کی وجہ پوچھی تو ایک صاحب جو ان میں زیادہ عمر کے تھے، کہنے لگے کہ ہم آپ کی یونٹ کی مسجد میں عشاء کی نماز کے بعد آپ کے جوانوں سے خطاب کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے بیٹھے بیٹھے کمانڈنگ آفیسر کو فون کیا اور ان سے اجازت لی۔ انہوں نے کہا کہ خطاب کرنے میں کوئی ہرج نہیں لیکن کوئی متنازعہ مذہبی مسئلہ زیر بحث نہ لائیں اور یہ بھی کہا کہ تم خود عشاء کی نماز مسجد میں پڑھو گے اور ان کے ساتھ رہو گے۔

میں نے ان حضرات کو بتایا کہ فوج کی مساجد میں بالعموم اس طرح کے مواعظ کی اجازت نہیں دی جاتی لیکن آپ چونکہ دور دراز مقامات سے تشریف لائے ہیں، اس لئے جو کہنا ہو، اختصار سے بیان کیجئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم صرف 15،20منٹ میں بات ختم کر دیں گے اور کسی اختلافی موضوع پر گفتگو کرنا ہماری جماعت کا منشور نہیں۔ پھر مجھ سے ذاتی طور پر سوال کیا کہ آپ کس علاقے سے ہیں؟ میں نے کہا پنجاب سے ہوں اور یہاں میرے جو ٹروپس ہیں ان کا تعلق صوبہ سرحد کے قبائلی علاقوں سے ہے۔ بس واجبی سی اردو جانتے ہیں۔وہ یہ سن کر خوش ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم نے آپ کو بھی اور آپ کے جوانوں کو بھی ایک سادہ سا پیغام دینا ہے۔ میں نے دریافت کیا کہ وہ پیغام کیا ہے تو بولے: ”سر! ہم نے خدا کو بھلا رکھا ہے اس لئے خدا نے بھی ہمیں بھلا دیا ہے ورنہ مسلم امہ آج اس مقام پر ہوتی جہاں خلفائے راشدین کے دور میں تھی!“……

وہ اتنا کہہ کر چپ ہو گئے…… میں منتظر تھا کہ شائد کوئی مزید وضاحت کریں گے لیکن انہوں نے کہا کہ بس یہی ہمارا پیغام ہے۔ ہم نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج اور توحید کو بھلا بیٹھے ہیں۔ میں نے جب ان کو یہ بتایا کہ ہمارے جوان، جے سی اوز اور آفیسرز تقریباً سارے کے سارے باقاعدگی سے نماز پڑھتے اور حتی الوسع باقی اراکینِ اسلام کی پیروی کرتے ہیں تو بہت خوش ہوئے…… عشاء کی نماز میں انہوں نے یہی باتیں کیں۔ پشاور کے انجینئر صاحب نے جب مائک سنبھالا تو پشتو میں بات شروع کی اور میں دیکھ رہا تھا کہ صحنِ مسجد میں تمام حضرات ہمہ تن گوش ہو کر ان کا خطاب سن رہے تھے۔

پھر کافی سال گزر گئے۔…… میری پوسٹنگ جی ایچ کیو، راولپنڈی میں ہوگئی۔ مجھے اپنے پروفیشنل فرائض کے علاوہ ایک سہ ماہی جریدے کی ادارت بھی کرنا پڑی۔ میں اپنے کالموں میں یہ تفصیل کئی بار بتا چکا ہوں۔ اردو زبان میں پیشہ ورانہ دفاعی امور پر لکھنے والوں کی بہت کمی تھی اور یہ ادارت میرے لئے ایک چیلنج تھی۔ ایک روز میرے دفتر میں ایک سفید ریش بزرگ تشریف لائے اور مصافحہ کرتے ہوئے کہا: ”میجر جنرل  امیر حمزہ خان……“ میں تعظیماً اٹھ کھڑا ہوا۔ گفتگو کا سلسلہ چلا تو فرمانے لگے: ”میں نے آپ کا پروفیشنل میگزین دیکھا ہے۔ میں بھی اس میں لکھنا چاہتا ہوں …… کیا اجازت ہے؟“ میں نے حیرت اور مسرت کا اظہار کیا…… اس طرح انہوں نے ”پاکستان آرمی جرنل“ میں دفاعی امور پر لکھنا شروع کیا اور اپنی وفات تک لکھتے رہے۔ میری ایک کتاب: ”انفنٹری: ملکہء جنگ“ کا پیش لفظ بھی انہوں نے لکھا…… 1971ء کی پاک بھارت جنگ میں وہ 105انڈی پنڈنٹ بریگیڈ گروپ کے کمانڈر تھے۔ ان ہی کی ایک یونٹ (6ایف ایف) نے سلیمانکی فرنٹ پر دشمن کے دانت کھٹے کئے اور میجر شبیر شریف شہید کو اسی محاذ پر  ”نشانِ حیدر“ کا اعزاز عطا ہوا۔ جنرل صاحب خود ”ہلال جرات اور ستارۂ جرات“ کے اعزازات کے حامل تھے…… سراپا سولجر، محبِ وطن، اسلام کے شیدائی اور قرآن کریم تو گویا ان کو پورا حفظ تھا۔ ملتان کینٹ (38قاسم روڈ) کے رہنے والے تھے۔ متعدد بار ان سے ملاقات کا شرف حاصل رہا اور پہروں پاکستان کے دفاعی امور پر گفتگو رہتی۔ اگر خودستائی تصور نہ فرمائیں تو ان کے پیش لفظ کے چند فقرات……: ”کرنل غلام جیلانی خان صاحب کا تعلق انفنٹری سے نہیں لیکن انہوں نے انفنٹری کے ماضی اور اس کے تدریجی ارتقا پر جو کچھ لکھا ہے وہ ان کی تحقیقانہ کاوش اور پیشہ ورانہ سوجھ بوجھ کا آئنہ دار ہے۔ جو تاریخی حقائق اس کتاب میں لکھے گئے ہیں وہ نہ صرف قابلِ ستائش ہیں بلکہ ہم جیسے انفنٹری سے تعلق رکھنے والوں کے لئے باعثِ حیرت بھی ہیں۔ مصنف کے علمی اور تحقیقی کام اور زبان و بیان کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے یہ کام برسوں کی ریاضت کے بعد مکمل کیا ہو گا“۔

انہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد تبلیغی جماعت جوائن کر لی اور اپنی وفات تک یہ ساتھ نبھایا۔ ان سے میری کئی ملاقاتیں ذکریہ مسجد، راولپنڈی اور G-7 اسلام آباد کی جامع مسجد میں ہوئیں یا پھر وہ غریب خانے (ذیشان کالونی، ڈھوک، چوہدریاں راولپنڈی) پر تشریف لاتے۔ خدا ان کی روح کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے (آمین)

میں نے ایک ملاقات میں جسارت کرکے ان سے یہ پوچھ لیا کہ آپ جیسا Decorated سولجر جو ہلالِ جرات اور ستارۂ جرات جیسے بہادری کے اعزازات کا حامل ہو وہ بعد از ریٹائرمنٹ تبلیغی جماعت میں کیسے چلا گیا؟ اور اس جماعت کا وہ سحر کیا ہے کہ کئی ریٹائرڈ سینئر آفیسرز اس میں چلے جاتے ہیں؟…… انہوں نے میرا سوال نہائت تحمل سے سنا اور کہا: ”جیلانی صاحب! میں نے ساری عمر فوج میں گزاری اور جن اعزازات کا آپ نے نام لیا وہ پاک آرمی نے مفت میں میری جھولی میں نہیں ڈال دیئے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ آج پاک فوج کے ہر فرد کو یہ نکتہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ”ہم خدا کو بھول چکے ہیں اور اسی لئے خدا بھی ہم کو بھول گیا ہے“…… مجھے ان کا یہ فقرہ سن کر برسوں پہلے خضدار کے تین مہمانوں کی یاد آئی جنہوں نے عین مین یہی الفاظ اس روز عشا کی نماز کے بعد اپنے خطاب میں کہے تھے!…… میں نے اس فقرے کی تشریح اور وضاحت چاہی تو وہ ڈیڑھ دو گھنٹے تک بولتے رہے۔ کلامِ اقبال کے شیدائی تھے۔ ایک شعر پڑھا:

متاعِ بے بہا ہے درد و سوزِ آرزو مندی

مقامِ بندگی دے کر نہ لوں شانِ خداوندی

اور پھر کہا کہ ”مقامِ بندگی“، مقامِ خداوندی سے اولیٰ تر ہے“۔ میں نے ان کو ٹوکا کہ یہ ”جملہ“ خدا کے حضور گستاخی ہے۔ کہنے لگے: ”نہیں گستاخی نہیں،انتہائی عجز و انکساری ہے۔ خدا نے اچھا کیا کہ انسان کو سکون سے محروم رکھا۔ خدا اور بندے میں تفریق کرنے کے لئے سکون و راحت کا وجود  اور عدم وجود ایک واٹرشیڈ ہے“۔

میں گھر آیا تو جنرل صاحب کی گفتگو کے زیرِ اثر ذیل کی آزاد نظم موزوں ہوئی جو پیشِ قارئین ہے…… اس کا عنوان میں نے ”ناز و نیاز“ رکھا تھا:

خدائے برتر ازل کے دن جب بنا چکا

مشتِ خاکِ آدم سے

اک حسین اور جمیل پائیکر

تو اس نے سوچا

کہ آؤ اس شاہکار پر سے

مکان اور لامکاں میں جو کچھ کہ

میں نے اب تک کیا ہے پیدا

نثار کر دوں

………………

تو سب سے پہلے خدا نے

قوت کو اور عظمت کو، دبدبے کو

نحیف و نازک سے اس غبارے

کے جسم و جاں میں اتار ڈالا

تو اس کی سطوت سے، اس کی ہیبت سے

دل فرشتوں کے کانپ اٹھے

تو پھر خدا نے جمال و عقل و شعور و دانش کے

عیش و راحت کے

سب خزانے

ایک عجیب گدا جسم ہے

یوں عنایت کئے کہ جیسے

یہ نوعِ انساں کی اپنی ذاتی کوئی مِلک ہو

……………………

خدا نخواستہ

تو اس نے دیکھا

کہ اس کا گودام جس میں ساری

یہ نعمتیں بھر رکھی تھیں اس نے

بڑی ہی سرعت سے گھٹ رہا ہے

فقط ایک شے اس میں رہ گئی ہے باقی

کہ جس کو ”تسکین“ نام دیجئے

کہ یا قرار و سکون کہیے

……………………

تو پھر خدائے عظیم و برتر نے

ایک لمحے کو رک کے سوچا

…………………………

کہ یہ سکون و قرار و تسکیں بھی گر

میں بخش دوں اپنے نائب کو

ایس حسین اور جمیل پِیکر کو

تو بجا ہے

مگر یہ کھٹکا ہے، یہ گماں ہے

کہ اپنے ترکش کا تیرِ آخر بھی میں چلا دوں

پرسکون ، صبر ، تقرری اور راحت

یہ عطیہ بھی اس کو دے دوں

تو پھر یہ میری کہاں سنے گا؟

………………

یہی عطیئے، یہی تحائف خدا بنیں گے

مرا بھی، اس کا بھی

دونوں ہی کا زیاں ہے اس میں

……………………

تو پھر خدا نے سوچا……

کہ آؤ ان آخری عطیّوں کو

ان سکون و قرار و راحت کے آبگینوں کو

اپنے سینے ہی میں چھپا لوں

کہ یہ شرارہ کہ جس کو میں نے

مہ و ستارہ کا، آفتابِ درخشاں کا

اک نمونہ بنا دیا ہے

یہ اپنی شوکت کے، اپنی عظمت کے

زعم میں جب

ہر ایک ہستی کو بھول جائے

تو یہ خلش اس کے آڑے آئے

سکوں نہ پائے، قرار و تسکیں کے خواب دیکھے

مجھے پکارے

گلے لگائے!

مزید :

رائےکالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں