Home » جنج ٹُر پئی واجیاں نال

جنج ٹُر پئی واجیاں نال

by ONENEWS


جنج ٹُر پئی واجیاں نال

جانو یہ پاکستان ہے یہاں پنڈ وسدا نہیں اور اچکے پہلے تیار ہو جاتے ہیں۔پھر ہوتا یہ ہے کہ پنڈ وسدا بھی ہے اور اچکے اس پنڈ کو لوٹ کر اگلے پنڈ کی تیاری میں لگ جاتے ہیں۔یقین کریں میں وہ چوہا نہیں جو جہاز ڈوبتا دیکھ کر چھلانگ مار دیتا ہے۔سوچتا ہوں کہ اگر عمران حکومت ختم ہو جائے تو پھر کیا ہو گا۔پھر سوچتا ہوں اقتدار ایسی گلی ہے جو بھی اس سے نکلا پریشان نکلا۔ہمیں یہ بات مان لینی چاہیے کہ ہم مافیاز کے محفوظ نرغے میں زندگی گزارنے والی قوم ہیں یہ مافیاز اتنے طاقتور ہیں کہ کسی بھی مقبول کو ٹکا ٹوکری اور کسی بھی نوٹنکی باز کو ہیرو نمبرون بنا سکتے ہیں۔پی ٹی آئی حکومت کے قیام پر جب اچکے پنڈ میں اچے شملے اور کڑھائی والی دھوتیاں باندھ کر داخل ہو رہے تھے تو ہم تب ہی سمجھ گئے تھے کہ انجام گلستاں کیا ہو گا۔سنتا سنگھ بیگم کو جوتے دلانے لے گئے،سیلز مین نے لمبی ہیل والی خوبصورت پمپی جوتی دکھائی،سنتا سنگھ بولا نئیں کوئی سادہ سی دکھاؤ۔سیلز مین بولا سردار جی جوتی آپ نے نئیں بھابی نے پہننی ہے۔سنتا سنگھ بولا پتر بعد میں اے جتی توں نئیں میں کھانی ہے۔

خیر ہمیں ہیل والی جوتیوں سے پٹنے کی عادت ہے۔لمبی ہیل ہی ہماری بہتر healingکرتی ہے۔میں آج بھی کہتا ہوں کہ ہمارے پاس عمران خان سے اچھی چوائس نہیں۔ہاں آپ مجھ سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ اقتدار میں کپتان جیسی معصومیت اور شرافت کی ضرورت نہیں ہوتی،نواب آف کالا باغ جیسی دبنگ شخصیت کی چاہیے ہوتی ہے۔مظہر شاہ کی طرح بڑھکیں لگانا کچھ اور،اور حقیت میں ”پھٹیاں بھننا“کچھ اور ہوتا ہے۔ہم وہ ہیں قبر کی مٹی سوکھی نہیں ”دوجا ویاہ کرن ٹر“پڑتے ہیں ۔ابھی حکومت حلف اٹھاتی ہے اس کے جانے کی تاریخیں آنی شروع ہو جاتی ہیں 47ء سے یہی ٹوپی ڈرامہ ہو رہا ہے۔ہمارے بچے ”پپ جی“کھیلتے کھیلتے بوڑھے ہو جاتے ہیں اور ٹیچنگ سٹریچنگ تک والے اور والیوں پر ھذا من فضل ربی رہتا ہے۔کھانے کے بعد سنتا سنگھ نے اپنی پلیٹ دھو کر سلیقے سے میز پر رکھی۔

بیگم بولیں،کر دتا نا عزت دا کباڑہ پاگلا یہ گھر نئیں ہوٹل ہے۔اب کوئی ہمیں بتائے کہ سلیقے سے برتن دھونے کی عادت کیسے ختم کریں۔اسلام،سوشلزم،روشن ازم،جمہوری ازم کون کون سی پلیٹیں ہم نے نہیں دھوئیں۔پھر بھی اونچی ہیل اور پھٹکار ہمارا مقدر رہی۔اب ہم تقدیر کو گالی نہیں دے سکتے ہم اپنے اپنے قاتل خود محنت کر کے اسمبلیوں تک پہنچاتے ہیں۔شوگر ملوں کے مالک،آٹا ملوں کے مالک،کبھی فیکٹریوں کے مالک،پٹرول کمپنیوں کے مالک،ادویہ ساز کمپنیوں کے مالک ان سب کے ماتھے ایسے چومتے ہیں جیسے مرشد کے بچوں کے چومے جاتے ہیں۔گھوڑا گھانس سے محبت کرے گا تو کھائے گا کہاں سے۔بھئی جب آپ ان مالکان کو چوم چاٹ کر خود اسمبلیوں میں بھیجیں گے تو پھر وہ گھانس سے کیوں محبت کریں گے آپ مافیا کو روتے ہیں۔

اس ساری کہانی میں کوئی نہیں بتا سکتا کہ ”ہیر کون ہے،رانجھا کون“۔”گلاں آپ کرتے ہیں ٹکے ٹکے دیاں“ یہ احتساب،یہ مافیاز کے گلے میں پٹہ،یہ کمیشن خوروں کو نکیل ڈالنا ایک دیونے کا خواب ہی ہو سکتا ہے اور اس سوسائٹی میں دیوانوں کی کوئی گنجائش نہیں۔یہ ”سیانوں اور مہا سیانوں“ کا معاشرہ ہے۔میں نے اسی لئے خواب دیکھنے چھوڑ دیئے۔جواخانے پر چھاپہ پڑ گیا۔بنتا سنگھ بھاگ کر پولیس کی گاڑی میں جا بیٹھا،پولیس والا بولا تجھے بہت جلدی ہے،بنتا سنگھ بولا بھائی جان پچھلی واری وی کھڑا ہو کہ تھانے گیا سی۔میں ایک سلجھا الجھا بنتا سنگھ ہوں۔ہر الیکشن کے چھاپے کے بعد بھاگ کر حکومتی گاڑی میں بیٹھ جاتا ہوں۔جب جانا ہی تھانے ہے تو کھڑے ہو کر کیوں جاؤں۔سو میرے پٹرول،چینی،آٹے،بجلی کے لئے پورے یقین سے خوار ہونے والے پاکستانیو۔آؤ مل کر عمران حکومت کے جانے کی تاریخیں اور فال نکالیں،کیونکہ اس ملک کی تقدیر میں شاید یہی رہ گیا ہے۔ہر جانے والا آنے والے کیخلاف سلیکٹرز کا طعنہ تیار رکھتا ہے اور پھر سلیکٹرز سے امید کرتا ہے کہ وہ اشارہ کرے تا کہ وہ اچھل اچھل کر کہہ سکے”جنج ٹر پئی واجیاں نال اؤے میں لڈیاں پاواں“

مزید :

رائےکالم





Source link

You may also like

Leave a Comment