0

جناب میاں محمود الرشید!سید مودودیؒ اور منصورہ اسٹیشن آپ بنا سکتے ہیں

جناب میاں محمود الرشید!”سید مودودیؒ اور منصورہ اسٹیشن آپ بنا سکتے ہیں“

مسلم لیگ(ن) کے اقتدار اور اپوزیشن کے ادوار کی کہانیاں تاریخ کا حصہ ہیں،درجنوں واقعات میں سے جو سب سے زیادہ وائرل ہوئے ہیں ان میں کہا گیا ہے جب مسلم لیگ(ن) اقتدار میں ہوتی ہے تو کسی کو خاطر میں نہیں لاتی، حتیٰ کی اقتدار تک پہنچانے والی عوام کو بھی، اور جب اپوزیشن میں آتی ہے تو پاؤں پڑنے اور پکڑنے میں بھی عار محسوس نہیں کرتی، اور یہ بھی مشہور ہے جن سے مفادات وابستہ ہوں ان سے تعلق ختم نہیں کرتے،ان پر نوازشات کی بارش کر دیتے ہیں،جن سے بغض رکھتے ہیں ان کو قبر تک معاف نہیں کرتے۔

آج کے کالم میں اپنے قارئین کو ایسی کہانی سناؤں گاجس کا مَیں عینی شاہد ہوں، ہو سکتا ہے میاں برادران کی بلاوجہ کی محبت کا شکار احباب کوئی جواز تلاش کرنے کی کوشش کریں میری ان دوستوں سے درخواست ہے وہ اختلافی رائے قائم کرتے ہوئے عوامی مفاد، زمینی حقائق اور اخلاقی قدروں کو ضرور سامنے رکھیں۔اگر میرے دلائل اور تاریخی ثبوت میں وژن محسوس کریں تو پھر میری درخواست ہو گی کہ چوتھی دفعہ اقتدار کے حصول کے لئے آصف علی زرداری کے دربار میں حاضری دینے والے صدر مسلم لیگ(ن) میاں شہباز شریف کو یہ ضرور باور کرانے میں معاونت کریں گے، کینہ، بغض کی سیاست دیرپا نہیں ہوتی۔

https://dailypakistan.com.pk/11-Sep-2020/1182391

پیٹ پھاڑ کر پیسہ نکالنے اور گلیوں میں گھسیٹنے کے نعرے بعض دفعہ گھٹنے ٹیکنے اور تھوکا ہوا دوبارہ چاٹنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ بات پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن)  کی نئی رشتے داری کی طرف چلی گئی، حالانکہ مَیں آج کہانی جماعت اسلامی اور مسلم لیگ(ن) کی رشتے داری کی سنانے کے موڈ میں ہوں۔

مَیں زمانہ طالب علم سے جناب حیدر وائیں مرحوم سے لے کر میاں شہبازشریف کے ادوار کاعینی شاہد ہوں،لیکن کیا کریں حالات اور  رشتے بدلتے دیر نہیں لگتی، تاریخ بتاتی ہے، مسلم لیگ(ن) نے اقتدار کے حصول کے لئے جب بھی ضرورت پڑی جماعت اسلامی کو استعمال کیا، کارکنان جماعت زندہ باد نواز شریف کرتے کرتے میاں نواز شریف کو اسلام آباد پہنچا کر ایسے واپس آئے جیسے کہا جاتا ہے، ”گھر کو بدو لوٹ کر آئے“ تمہید یہ طویل ہو گئی۔

آج کے کالم کا عنوان مَیں نے رکھا تھا ”سید مودودیؒ اور منصورہ کے نام سے میاں شہباز شریف کو اتنی نفرت کیوں تھی؟“ اسے مَیں نے پھاڑ دیا، پھر لکھا میاں شہباز شریف کا سید مودودی ؒ اور منصورہ سے نفرت کا عملی اظہار؟ اسے بھی مَیں نے پھاڑ دیا اور پھر طویل سوچ بچار کے بعد مَیں نے آج کے کالم کو عنوان دیا ہے ”جناب میاں محمود الرشید، سید مودودیؒ اور منصورہ اسٹیشن آپ بنا سکتے ہیں“۔

میرے قارئین یقینا سوچنے میں حق بجانب ہیں اتنے اہم موضوعات موجود ہیں اس کے باوجود مَیں نے سابق لارڈ میئر، سابق چیئرمین اورنج ٹرین سابق رکن اسلامی جمعیت طلبہ خواجہ حسان کی بے بسی اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی سید مودودیؒ کے نام اور منصورہ کے نام سے تاریخ میں کی جانے والی نفرت کو موضوع کیوں بنایا ہے۔ قارئین کے علم میں لانا چاہتا ہوں میاں شہباز شریف کی دو عملی اور منصورہ اور سید مودودیؒ  کے نام سے نفرت کی وجہ سے لاکھوں خاندان آج تکلیف میں ہیں۔ اہل ِ لاہور سمیت دُنیا بھر میں میاں شہباز شریف کی تعریف کی جاتی ہے اس نے لاہور کو پیرس بنا دیا ہے اور ہیڈ بریج، انڈر پاسز، یو ٹرن، سپیڈو، میٹرو ٹرین جیسے کامیاب منصوبے دیئے ہیں، ان کی ٹاؤن پلاننگ کی مثال دی جاتی ہے، پھر کہا جاتا ہے انہیں جب پتہ چلے کہ جہاں غلطی ہو گئی ہے عوام کو تکلیف ہے غلطی کا ازالہ کر کے فوری درستگی کر دی جاتی ہے، مگر دو معاملات ایسے ہیں۔ بقول خواجہ حسان میری خواہش اور جماعت اسلامی کے اکابرین اور اہل ِ علاقہ کی بار بار درخواستوں کے باوجود میاں شہباز شریف نہیں مانے۔ اس کی سزا آج بھی ملتان چونگی اور اس سے ملحقہ علاقوں میں رہائش پذیر لاکھوں نفوش بھگت رہے ہیں۔ اس میں پہلا ہے ملتان چونگی کا چوک نہ بنانا، دوسرا ہے سید مودودی مارکیٹ، سید مودودی انسٹیٹیوٹ، منصورہ ڈگری کالج جو پوری دُنیا میں علاقے کی پہچان ہیں، سپیڈو بس کا سٹاپ ان ناموں میں سے منصورہ کالج سٹاپ یا سید مودودی مارکیٹ سٹاپ رکھنے کی بجائے ایلیفنٹ روڈ،یعنی ہاتھی روڈ رکھا گیا ہے، اس نام سے کوئی واقف نہیں ہے نہ جواز موجود ہے۔اس صدی کی عظیم شخصیت سید مودودیؒ  اور مشہور عام منصورہ ڈگری کالج نام رکھنے کی بجائے ہاتھی روڈ رکھنا عملی نفرت نہیں تو کیا ہے؟

اسی طرح اورنج ٹرین کا سٹاپ منصورہ رکھنے کی بجائے وحدت سٹاپ رکھنے کا کیا جواز ہے، حالانکہ خواجہ حسان سمیت مسلم لیگ(ن) کے ایم پی اے سیف الملوک، ایم این اے افضل کھوکھر اس بات سے آگاہ ہیں منصورہ کے ساتھ منصورہ ہسپتال اور دو بڑے ہائی سکول اور منصورہ ہائر سکینڈری سکول میں ہزاروں طلبہ طالبات زیر تعلیم ہیں۔ منصورہ ہسپتال میں سینکڑوں مریضوں کی آمدو رفت رہتی ہے، منصورہ کے بالمقابل، درجنوں آبادیوں کے فوت ہونے والوں کے جنازے منصورہ کی گراؤنڈ اور مسجد میں ہوتے ہیں، زمینی حقائق کو سامنے رکھنے کی بجائے اس کے برعکس فیصلہ کیا گیا، راستہ دیا گیا نہ یو ٹرن قریب بنایا گیا، کیٹ آئیز جو ٹیپا اور ایل ڈی اے کے کلرکوں نے اپنے گھروں کے سامنے لگا رکھے ہیں،اہل ِ علاقہ کے بار بار کے مطالبے کے باوجود منصورہ ہسپتال اور سکولوں کے سامنے نہیں لگائے جا رہے، مسلم لیگ(ن) کی جماعت اسلامی سے اتحاد نہ کرنے کی سزا اہل ِ علاقہ کے لاکھوں مکینوں اور منصورہ ہسپتال میں آنے والے مریضوں، سکولوں اور کالجوں میں پڑنے والے ہزاروں طلبہ و طالبات اور ان کے والدین کو دی جا رہی ہے، تاریخ بتاتی ہے اسلامی جمعیت طلبہ کے سابق رکن شہباز شریف کا سپاہی خواجہ حسان تو یہ نہیں کر سکتا تھا، کیونکہ وہ ملازم تھا اب عوام کس سے گلا کریں؟ دلچسپ بات یہ ہے مسلم لیگ(ن) کے بوئے ہوئے کانٹے پی ٹی آئی تو سمیٹ سکتی ہے اب بھی جماعت اسلامی کے ذمہ داران کا واسطہ اسلامی جمعیت طلبہ کے سابق رکن اور ناظم صوبہ صوبائی وزیر چیئرمین اورنج ٹرین میاں محمود الرشید سے ہے ان سے جاری خط و کتابت بھی میرے پاس موجود ہے۔ میاں محمود الرشید کے پاس اہل علاقہ کے دِل جیتنے کا سنہری موقع ہے وہ ہاتھی روڈ کی بجائے سپیڈو بس کے سٹاپ کا نام منصورہ ڈگری کالج یا سید مودودی سپاٹ رکھیں اور دوسرا ملتان چونگی کا چوک، جہاں 24 گھنٹے گھمسان کی جنگ جاری رہتی ہے اس کو دوبارہ ڈیزائن کروائیں اور لاکھوں مکینوں کے لئے آسانیاں پیدا کریں اور ساتھ ہی اورنج ٹرین کے سٹاپ کا نام جہاں منصورہ اسٹیشن کی بجائے  وحدت اسٹیشن رکھا گیا ہے،اسے منصورہ اسٹیشن کرا  کر اس کی بھی درستگی کروائیں اسی طرح جنازوں کی گزر گاہ کا راستہ دلائیں اور ہسپتال،سکولوں کے سامنے کیٹ آئیز لگوائیں اور اہل علاقہ کی دُعائیں لیں۔ جناب محمود الرشید آپ آگاہ ہیں،جناب خواجہ حسان صاحب کے تو بس میں نہیں تھا وہ تو میاں شہباز شریف کے ملازم تھے آپ تو خود مختار ہیں، منصورہ اور سید مودودیؒ سے دائمی تعلق بھی رکھتے ہیں آپ نے تو کسی سے اجازت بھی نہیں لینی، بس کمشنر اور چیف سیکرٹری کو احکامات جاری کرنے ہیں نیک کام کر گزریئے۔عوام سے دُعائیں لینے اور اکابرین سے قائم رشتوں کو  مزید دوام بخشنے کا بہترین موقع ہے۔

مزید :

رائےکالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں