Home » جمعیت علمائے اسلام کے اندر کا محاذ

جمعیت علمائے اسلام کے اندر کا محاذ

by ONENEWS

جمعیت علمائے اسلام کے اندر سے مولانا محمد خان شیرانی، حافظ حسین احمد، مولانا گل نصیب، شجاع الملک وغیرہ کی پارٹی قائد اور پالیسیوں پر نقد و جرح نے جے یو آئی کو بحران سے دوچار کر رکھا ہے۔ خصوصاً ایسے حالات میں کہ جب جمعیت علمائے اسلام پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی قیادت کررہی ہے اور ایک مؤثر وار کی تدبیر کررہی ہے، مولانا فضل الرحمان کے آگے نیب کے ذریعے بند باندھا جارہا ہے، کردار کشی کی مہم زوروں پر ہے، سچ یہ بھی ہے کہ مولانا کیخلاف محاذ عمران خان ہی شروع کرچکے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کو جلسوں اور مختلف مواقعوں پر ناشائستہ الفاظ سے پکارتے، تمسخر اڑاتے، گویا کشمکش کی فضاء عمران خان کی پیدا کردہ ہے۔

سیاسی جماعتیں کمزوریوں سے مبرا نہیں مگر خود تحریک انصاف کی حکومت کئی کمزوریاں و ناکامیاں لئے قائم ہے۔ یقیناً مقتدرہ فریق ہے، جس نے اپنی سیاسی قوت و اختیار ہاتھ سے جانے نہیں دینی ہے، یہ منظر نامہ عوام کے اعصاب پر بھاری ہے، عوام گوناگوں مصائب، مسائل اور مشکلات سے دوچار ہیں، سوال ان کے جینے کا آکھڑا ہوا ہے۔ اس تناظر میں یہ سیاسی جنگ جواز کے کئی مضبوط دلائل رکھتی ہے۔ چنانچہ مولانا محمد خان شیرانی ہو یا حافظ حسین احمد کے اظہارات دراصل اپنے پاﺅں پر کلہاڑی کے وار ثابت ہوئے ہیں۔

اختلاف اگر جماعتی اداروں کے اندر ہوں تو اس کے بڑے مثبت، وسیع اور ہمہ پہلو اثرات جماعتوں پر مرتب ہوتے ہیں،  آگے کی راہ و بہتری کے راستوں کا تعین ہوتا ہے، ویسے اندر کے معاملات اگر گلی کوچوں میں بیان ہونگے تو وقتی اور جذباتی ماحول تو بن جاتا ہے، کسی حد تک مقاصد حاصل کرلئے جاتے ہیں مگر تاریخ کا نوشتہ یہ بھی ہے کہ جُز آخر کار تنہاء اور بہت پیچھے رہ جاتا ہے، پر جماعتیں اپنی جگہ قائم رہتی ہیں۔

یہ امر عیاں ہے کہ مولانا محمد خان شیرانی کے اظہارات و بیانات مقتدرہ اور تحریک انصاف کو تقویت دے رہے ہیں بلکہ اب تو مخالفین مولانا شیرانی کو دلیل کے طور پر پیش کررہے ہیں، مولانا شیرانی اگر مولانا فضل الرحمان کو سلیکٹڈ، جھوٹا اور دھوکہ کرنے والا کہتے ہیں تو گویا وہ مخالفین کے الزامات پر تصدیق کی مہر ثبت کرتے ہیں۔

مولانا شیرانی اپنی جماعت کے اندر بڑی سطح کے رہنماء ہیں، اس جماعت کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی اور سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے ہیں، اسلامی نظریاتی کونسل جیسے بڑے آئینی ادارے کے چیئرمین رہے ہیں۔ خود مولانا شیرانی سالوں بلوچستان کے امیر رہے ہیں، جمعیت میں انہیں مختار کُل کے طعنے دیئے جاتے، جمعیت کے اندر اگر انتخابی نظام پراگندہ ہے تو اس میں خود انہیں اور ان کا حلقہ اثر شامل رہا ہے۔

جمعیت علمائے اسلام نظریاتی کے قیام میں بڑا عامل مولانا شیرانی کو سمجھا جاتا ہے، تب مولانا عصمت اللہ کہتے تھے کہ وہ مولانا شیرانی سے ”مباہلہ“ کرنے کو تیار ہیں کہ جو جھوٹا ہوگا اس پر اللہ کا عذاب نازل ہو۔ مولانا شیرانی نے صوبے کے تمام اضلاع میں دفاتر کے قیام کا ارادہ کیا ہے، یہ بھی نئی بات نہیں ہے، ان کے یونٹ تو سالوں سے موجود ہیں، نہ ان کی متوازی تنظیم راز تھی۔ ان کے لوگوں نے 2019ء کے لانگ مارچ میں کارکنوں کی عدم شرکت کیلئے باقاعدہ کام کیا۔

مولانا شیرانی پارٹی سے الگ ہونے کے امکان کو مسترد کرچکے ہیں بلکہ وہ گھر پر قبضہ (پارٹی قیادت سے) چھڑانے کی بات کرتے ہیں۔ اشارہ مولانا فضل الرحمان کی جانب ہی ہے۔ مولانا شیرانی کا پارٹی پالیسیوں سے شاید ہی اتفاق رہا ہو، کشمیر اور افغانستان کے مسئلے پر پارٹی مؤقف کے برعکس رائے رکھتے ہیں، جس کا اظہار کرتے رہتے ہیں، فلسطین مسئلہ پر امت اور جمعیت کے مؤقف کے برعکس خیالات کا اظہار کیا، ان کے بعض دلائل اسرائیل ہی کے حق میں جاتے ہیں۔

جب اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین تھے تو احمدی مسئلہ پر اپنی سوچ و آراء کے تحت نئی بحث شروع کرنی چاہی، جس کے آگے مولانا طاہر اشرفی مزاحم ہوئے، مولانا فضل الرحمن کی پی ڈی ایم قیادت سے متعلق مولانا کوثر نیازی مرحوم کی کتاب کا حوالہ دے کر تو مولانا شیرانی نے بادی النظر میں مولانا مفتی محمود مرحوم کی قیادت اور شخصیت پر بھی سوال اٹھایا ہے۔ مولانا کوثر نیازی نے اپنی کتاب ”اور لائن کٹ گئی“ میں لکھا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو حزب اختلاف کی تحریک، پی این اے کی سربراہی مولانا مفتی محمود کو دیئے جانے پر خوش تھے کیونکہ ان کے خیال میں مولانا مفتی محمود کی شخصیت میں عوام کیلئے کوئی خاص کشش نہیں تھی اور پی این اے کی تحریک کو عوام میں پذیرائی نہیں ملے گی۔

سو اب اگر اختلاف ہی اختلاف ہے تو کیوں نہ اپنی نئی جماعت ہی بنا لیں۔ بہر کیف اِن زعماء کے اعتراضات جمعیت کے اداروں کے اندر توجہ اور بحث طلب ہیں، اگر 2019ء میں دھرنا دیا جاتا ہے اور شوریٰ سے بعد میں منظوری لی جاتی ہے، یا حافظ حسین احمد کا یہ کہنا کہ پارٹی 2018ء کے عام انتخابات کے بعد فیصلہ کرچکی تھی کہ مولانا فضل الرحمن صدارتی انتخاب میں حصہ نہ لیں، نہ ہی ان کا بیٹا ڈپٹی اسپیکر کے عہدے کیلئے کے امیدوار بنے۔ نواز شریف کے پیغام پر مولانا فضل الرحمن نے فیصلہ کے برعکس صدارتی انتخاب لڑا، یہ کہ جماعت نے اسلام آباد دھرنا کے ضمن میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا ساتھ نہ دینے اور وعدہ خلافی کا کہا تھا اور جمعیت بیٹھی رہی جبکہ ان جماعتوں نے ساتھ نہ دیا۔

حافظ حسین احمد کہتے ہیں کہ ایف اے ٹی ایف اور فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق قانون سازی کے وقت بھی یہی کہا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا، اگر یہ کہتے ہیں کہ پارٹی کے اندر کئے گئے فیصلوں پر مکمل عملدرآمد نہیں ہوسکا تو یہ سارے معاملات پارٹی کے اندر زیر بحث آنے چاہئیں۔ ان بڑوں کا اعتراض ہے کہ پارٹی دستور کے مطابق چلائی جائے اور جماعتی انتخابات موروثیت کی بجائے شفاف ہوں۔ بھائی، بیٹوں کو کھپانے اور پرانے لوگوں کو فارغ کرنے کی سیاست نہ ہو۔ پارٹی کارکن آگاہ ہونے چاہئیں کہ آیا واقعی خیبر پشتونخوا میں سینیٹ انتخابات سے متعلق کئے گئے فیصلوں پر عمل نہیں ہوا۔

یہ بھی پڑھیں : مولانا محمد خان شیرانی کا نقارہ

حافظ حسین احمد یہ بات بھی کرتے ہیں کہ پارٹی نے آزادی مارچ چھوڑ کر اُٹھنے کا فیصلہ نہیں کیا تھا اور سوال کرتے ہیں کہ کیا وہ لوگ جن سے مولانا فضل الرحمن، چوہدری شجاعت اور پرویز الٰہی کے ہمراہ ملے سلیکٹر نہیں تھے؟۔ حافظ حسین احمد سے پہلے پہل اطلاعات کی ذمہ داری سے ہٹائے گئے، بعد میں ان کی پارٹی رکنیت معطل کی گئی۔ مولانا شیرانی کے بارے میں بھی کمیٹی بن چکی ہے، عین ممکن ہے کے ان کے متعلق اب کوئی اقدام کیا جائے۔ بہرحال جمعیت علمائے اسلام کے اندر کا یہ محاذ وقتی نقصان کا باعث ضرور بنا ہے۔

.

You may also like

Leave a Comment