Home » جلسہ گوجرانوالے کا

جلسہ گوجرانوالے کا

by ONENEWS

اپوزیشن کے گیارہ جماعتی اتحاد کا جلسہ گوجرانوالہ میں ویسا ہی ہوا جیسا ہونا چاہیے تھا۔ یہ شہر بلکہ ضلع، بلکہ ڈویژن مسلم لیگ(ن) کا گڑھ ہے، اور گذشتہ انتخابات میں یہاں اس نے جو ووٹ لیے، اور جو نشستیں لیں،وہ اس کی گواہی کے لیے کافی ہیں۔ایک زمانے میں پیپلزپارٹی یہاں کی بڑی طاقت تھی،لیکن اب اس کا اثرو رسوخ چند حلقوں میں سمٹ چکا ہے،اس کے باوجود اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کو تختہئ دار پر لٹکایا گیا،تو احتجاج کرتے ہوئے یہاں کے کئی جیالوں نے خود سوزی کر ڈالی تھی۔اُس وقت خود کش حملوں کا رواج نہیں تھا،اور پاکستان اس طرح کی وارداتوں سے ناآشنا تھا،اگر یہ کلچر پروان چڑھ چکا ہوتا تو اپنے آپ کو آگ لگانے والے دس، بیس کیا سینکڑوں، ہزاروں کولے مرتے۔ بلاول بھٹو زرداری نے اپنی تقریر کا آغاز ہی ان گوجرانوالوی ”شہدا“ کے تذکرے سے کیا،تو گویا اپنے آپ کو پیپلزپارٹی کی تاریخ سے منسلک کر لیا،جس کے بارے میں اور جو کچھ بھی کہا جائے، یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ عوام سے کٹی ہوئی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے آپ کو عوام سے جس طرح جوڑا،اور ان کے دُکھوں کے جس طرح ترجمان بن کر اُبھرے،اس ہی کی وجہ سے ان کا نام اب تک دِلوں سے محو نہیں ہو رہا۔ان کی معاشی، سیاسی اور انتظامی پالیسیوں نے ملک کو جو کچھ دیا،اس کے منفی اور مثبت اثرات پر بحث آج بھی جاری ہے،اور آئندہ بھی جاری رہے گی۔پاکستانی صنعتوں کو قومیانے کے نام پر سرکاری تحویل میں لینے کے نتیجے میں جو ابتری پیدا ہوئی، پاکستان اس کے اثرات سے (پوری طرح) اب تک نہیں نکل سکا۔اگر صنعتی ترقی کا پہیہ نہ روکا جاتا تو آج پاکستان جاپان اور جرمنی نہیں تو جنوبی کوریا، ملائشیا اور تائیوان کے برابر تو ضرور کھڑا ہوتا، لیکن جذباتی نعروں نے ایسی آگ لگائی کہ جو تھا جل گیا۔پاکستان آج بھی ایک پسماندہ ملک کے طور پر آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا،اپنے خرچے پورے کرنے کی صلاحیت سے محروم۔سرمایہ کاروں کے خلاف جو طوفانِ بدتمیزی اٹھایا گیا، اس کے نتیجے میں آج بھی انہیں مشکوک نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والوں کو طرح طرح کے لالچ دے کر پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی جاتی ہے، لیکن اپنے ملک سے تعلق رکھنے والوں کو ”مافیا“ ”مافیا“ کہہ کر کلیجے ٹھنڈے کیے جاتے ہیں۔ میڈیا،  انتظامیہ، عدلیہ، سیاسی جماعتیں سب اس مشغلے میں مصروف ہیں۔انتظامیہ نے بدعنوانی کا ایسا بازار گرم کر رکھا ہے،جو سرد ہونے میں نہیں آتا۔ تحریک انصاف کی تبدیلی سرکار بھی اس معاملے میں منفیّت کی آخری حدوں کو چھو رہی ہے،اس کے سائے میں سانس لینے والی نیب نے انتظامیہ کو مفلوج کر رکھا ہے،سو وہ کچھوے کی چال چلتی ہے، جبکہ وزیراعظم عمران خان اس سے خرگوش کی طرح دوڑنے کی توقعات پالتے اور ان کا اظہار کرتے  چلے جاتے ہیں۔گندم اور چینی کی قیمتوں میں  اضافے کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ بروقت درآمد کر کے مارکیٹ میں استحکام پیدا نہیں کیا جا سکا۔سرکاری افسر نیب کے ڈر سے پھونک پھونک کر قدم رکھتے، اور تاخیر کرتے چلے گئے۔ مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ ڈالی، اور اب وہ حکومت کی کمر توڑنے کے ارادے باندھ رہے ہیں۔

بات گوجرانوالہ کے جلسے سے شروع ہوئی تھی، سو وہیں واپس چلتے ہیں۔ یہ جلسہ کامیاب اور زوردار ہونا تھا، سو ہوا۔ حکومت نے اس کی راہ میں جو بھی رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کی، وہ ناکام ہونا تھیں، سو ہوئیں۔وزیراعظم عمران خان کے دائیں بائیں اور آگے پیچھے پرورش پانے والے حضرات  اتنے کودن اور کند ذہن بھی ہو سکتے ہیں کہ وہ جلسے کی ناکامی پر شرطیں لگائیں، اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔کوئی سٹیڈیم بھرنے کا چیلنج دے رہا تھا، کوئی اپنے راولپنڈی اور اسلام آباد کے اجتماعات کی خلاف ورزیوں کو بھول کر کورونا کی دہائی دے رہا تھا، کوئی جلسہ گاہ میں خالی جگہوں کی نشاندہی کر رہا تھا، کوئی سٹیج کے بڑا ہونے کا رونا رو رہا تھا، کوئی اس پر خرچ ہونے والی رقم کا حساب کر رہا تھا، کوئی مولانا فضل الرحمن کی توہین کرنے پر تلا ہوا تھا،کوئی مریم نواز شریف کا انکار کرنے پر بضد تھا، کوئی نواز شریف اور شہباز شریف کے درمیان فاصلوں کی نشاندہی کر رہا تھا۔ ایک بزرجمہر تو یہ خبر بھی لے آئے کہ نیب کی حراست میں شہباز شریف طاقتور حلقوں سے خفیہ ملاقاتیں کر رہے ہیں۔اس واہی تباہی سے حکومت ہی کا نقصان ہوا کہ دُنیا بھر کی نظریں جلسہ پر مرکوز ہو گئیں۔ بین الاقوامی نشریاتی اداروں کے نمائندے بھاگ بھاگ کر گوجرانوالہ پہنچے، وہاں سروں کو گننے اور سر دھننے لگ گئے۔

اس جلسے نے اپوزیشن کے لہو کو گرما دیا ہے، نواز شریف کو مزید شیر بنا دیا ہے،مریم نواز کا نقش جما دیا ہے اور بلاول بھٹو زرداری کا خوشگوار چہرہ دکھا دیا ہے۔مولانا فضل الرحمن کو نیا حوصلہ دے دیا۔ محمود خان اچکزئی اور میاں افتخار حسین اور ان کے ہم نواؤں کا نعرہ پنجاب میں لگا دیا ہے اور ایک بار پھر اس حقیقت کوجتلا دیا ہے کہ اپوزیشن کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔حکومت سو فیصد لوگوں کی نمائندہ ہے نہ ہو سکتی ہے،نہ کبھی ہوتی ہے، اور نہ کبھی ہو گی۔حکومت اور اپوزیشن کے درمیان چند ووٹوں کا فرق ہوتا ہے، سو میں سے اکاون ووٹ لینے والا حکومت کرنے کا حق حاصل کر لیتا ہے، لیکن انچاس کا انکار کر کے چین سے نہیں رہ سکتا۔اگر وہ انچاس کا انکار کرے گا تو اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارے گا۔حکومت کرپشن، کرپشن کی جو بھی رٹ لگائے، جو بھی طعن توڑے، این آر او نہ دینے کے جو بھی نعرے لگائے، اُسے اپوزیشن کی بات سننا ہو گی، اس کے ساتھ بیٹھنا ہو گا،اس کی جائز شکایات کو دور کرنا ہو گا۔گذشتہ دو سال کے دوران حکومتی کارکردگی دعوؤں کے مطابق نہیں رہی۔ دودھ اور شہد کی نہریں بہا دینے کے دعوے کھوکھلے ثابت ہوئے ہیں۔بدانتظامی اور مہنگائی نے لوگوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔کسی بھی شعبے میں مثالی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا جا سکا۔ گذشتہ حکومت سے موازنہ میں خود کو بہتر ثابت نہیں کیا جا سکا۔صرف اپوزیشن کے خلاف نعرہ بازی سے حکومت کا کام نہیں چل سکتا، اس کا قد اونچا نہیں ہو سکتا۔لوگوں کے مسائل پر توجہ دینا پڑے گی،کچھ کر کے دکھانا پڑے گا، وگرنہ وہی ہو گا جو ہوتا چلا آیا ہے۔حکومت کو گرانا تو شاید آسان نہ ہو، لیکن اسے چلانا مشکل ہوتا جاے گا۔عوام کو غلام بنایا جا سکتا ہے، نہ رکھا جا سکتا ہے۔ان کی بات سننا ہو گی،ان کے مسائل کی طرف توجہ دینا ہو گی،ان کی شکایات دور کرنا ہوں گی۔کیا آپ نے سنا نہیں ہے کہ تنگ آمد بجنگ آمد۔

وزیراعظم عمران خان اپنے نابالغ ساتھیوں کے اعصاب کو مضبوط کرنے کے لیے انہیں خمیرہ مروارید نہیں تو گاؤ زبان تو بہرحال کھلائیں۔ ان کی خوشامد کے نام پر وہ انہی کے راستے میں کانٹے بکھیر رہے ہیں۔ایک جلسہ بہرحال ایک جلسہ ہے،اسے بارش کا پہلا قطرہ بھی کہا جا سکتا ہے،اس کے بعد موسلادھار مینہ برس سکتا ہے، اور بادل اڑ کر دور بھی جا سکتے ہیں۔ اسے کوئی آندھی کہے، یا طوفان، بھونچال سمجھے یا نہ سمجھے، اس کی دھمک بہروں کو بھی سنائی دے گئی ہے۔نواز شریف کے بیانیے کے اثرات کے بارے میں مختلف آرا موجود ہیں، انہوں نے جس طرح اپنے ”حریفوں“ کی نشاندہی کی،اس نے مسلم لیگ(ن) کی طاقت میں اضافہ کیا یا کمی،اس بارے میں تجزیہ کار یکسو نہیں ہیں۔اس نکتے کا ادراک بہرحال ضروری ہے کہ ہنڈیا کو  لذیذ بنانے کے لیے نمک کی ایک چٹکی کافی ہوتی ہے۔اگر پوری شیشی انڈیل دی جائے تو کھانا حلق سے نیچے نہیں اُتر سکتا۔شیخ رشید تو اپنے سابق لیڈر کو ”الطاف حسین“ بنانے پر تل گئے ہیں۔مسلم لیگ(ن) پر پابندی لگوانے کی دھمکی بھی دے گذرے ہیں۔لاہور،کراچی اور ڈھاکہ کے درمیان جو فاصلہ ہے،موسم اور آب و ہوا کا جو فرق ہے،اُس کا خیال ہر فریق کو رکھنا ہو گا۔ جو اسے نظر انداز کرے گا،خسارہ اُس کے مقدر میں لکھا جائے گا۔

(یہ کالم روزنامہ ”پاکستان“ اور  روزنامہ ”دُنیا“ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment