Home » جلسہ جلسہ کھیلتی اپوزیشن

جلسہ جلسہ کھیلتی اپوزیشن

by ONENEWS

جلسہ جلسہ کھیلتی اپوزیشن

اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی سیاسی جلسے کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ اس کے شرکاء کی تعداد سے لگایا جاتا ہے، لیکن بیشتر تجزیہ نگار جلسے کے شرکاء کی بدن بولی اور جوش و جذبے کو بھی اہمیت دیتے ہیں۔ شرکاء کی تعداد کے حوالے سے ہمارے ہاں بہت دلچسپ وطیرہ ہے۔ جلسہ کے حامی اصل تعداد کو دس سے ضرب دے کر بتاتے ہیں اور مخالفین دس سے تقسیم کرکے بتاتے ہیں۔ اس سلسلے میں حافظہ ایک واقعہ(خاصا پرانا) نہیں بھولتا۔ 1979ء میں ملتان سٹیڈیم میں مذہبی جماعت کی تین روزہ کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس سٹیڈیم میں پیمائش کے حساب سے 75ہزار افراد کے بیٹھنے کی گنجائش بتائی جاتی ہے۔ ہم دو تین دوست بھی کانفرنس دیکھنے گئے۔ اپنی اہمیت کے اعتبار سے بلاشبہ یہ تاریخی کانفرنس تھی۔ ملک بھر سے جیّد علماء، دینی و روحانی زعماء اس میں شریک تھے۔رات کو کانفرنس کے دوران بھی دور سے آئے ہوئے بعض شرکاء تھک کر، چادریں بچھا کر سوئے پڑے تھے۔ سٹیڈیم کے اندر سیڑھیوں کے ساتھ ساتھ اشیائے خورد و نوش کی ریڑھیاں لگی ہوئی تھیں۔ لوگ آ جا رہے تھے۔ گھومنا کچھ مشکل نہ تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ لوگ کچھا کھچ نہیں تھے۔ چنانچہ لوگ جتنے بھی تھے، مکمل گنجائش سے کم تھے۔ اگلے روز ایک حامی اخبار نے شرکاء کی تعداد 25لاکھ چھاپ دی،جبکہ ایک موقر قومی اخبار نے ایک لاکھ سے زائد تحریر کی۔ اسی شام کانفرنس کے سٹیج سے متذکرہ قومی اخبار کے خلاف احتجاج کیا گیا، اس کا پرچہ جلایا گیا اور بعض شرکاء اس کے رپورٹر کو مارنے کے لئے دوڑے۔ منتظمین نے بڑی مشکل سے اس سینئر اخبار نویس کو بچایا۔

اس وقت ملتان کی کل آبادی بھی 25لاکھ نہیں ہوگی، مگر منتظمین کی نظر میں سچائی یہی تھی کہ 75ہزار کے سٹیڈیم میں کھلے کھلے بیٹھے شرکاء کی تعداد 25لاکھ تھی۔ گزشتہ دنوں ملتان کے پی ڈی ایم کے شرکاء کی تعداد بھی اپوزیشن کے خیال میں لاکھوں میں تھی، جبکہ حکومتی وزراء اسے سینکڑوں میں بتاتے ہوئے جلسی قرار دے رہے تھے۔ یہ جلسہ ہونا تو ایک دن 30نومبر کو تھا، مگر حکومتی بے تدبیری نے چار پانچ دن شہرمیں جلسہ بنائے رکھا۔ پی ڈی ایم کا اگلا جلسہ 13دسمبر کو مینار پاکستان لاہور پر ہے، مگر لگتا ہے کہ اپوزیشن خصوصاً مسلم لیگ(ن) کو جلسے کرنے آ گئے ہیں۔ وہ دس گیارہ دن پہلے سے ہی گلی گلی، شہر شہر جلسہ جلسہ کھیل رہی ہے۔ حکمران ایک جلسہ عام سے ہی ڈرا رہے ہیں کہ کورونا ہو جائے گا۔ جوکوئی بھی کورونا قوانین کی خلاف ورزی کرے گااس پر مقدمہ ہوگا۔ حتیٰ کہ جلسے میں کرسیاں بچھانے والے بھی نہیں بچیں گے۔حکومت کی ترجمان ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان تو دھمکی بھی دے رہی ہیں کہ ”قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا“، یہی نہیں بلکہ جوڈو کراٹے کا مظاہرہ کرکے پلیٹیں توڑنے کے بعد کہا کہ مَیں نے مکا اپوزیشن کو مارا ہے۔ اسی طرح وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز، صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان، وفاقی مشیر ڈاکٹر شہباز گل بھی روز اپوزیشن کے خلاف پریس کانفرنس کرنا اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں۔ اس سے اپوزیشن تو ڈرتی نہیں، البتہ ان کے جلسے یا ریلی وغیرہ کی مفت میں پبلسٹی ہو جاتی ہے۔ جو کام انہوں نے لاکھوں کے خرچے سے بینر اشتہار پینا فلیکس لگا کر کرنا ہوتا ہے۔

وہ کام حکومت کے یہ نادان دوست سرکاری خرچ پر کر دیتے ہیں۔ اب بھی پی ڈی ایم کا جلسہ ہفتہ عشرہ پہلے ہی زبان زد خاص و عام (Talk of The Town) بن چکا ہے۔ حکومت کی طرف سے قومی ذرائع ابلاغ پر ”مجرموں اور مفروروں“کی تصاویر اور آواز دکھانے،سنانے پر پابندی ہے، مگر لگتا ہے کہ سوشل میڈیا اتنا فعال ہو گیا ہے کہ حکومت دشمن عناصر اب اس روایتی مین سٹریم میڈیا کے محتاج نہیں رہے۔ اتوار کو لاہور میں مسلم لیگ (ن) نے اپنے سوشل میڈیا ورکرز کے اجلاس کے نام پر جو جلسہ کیا اس میں سابق وزیراعظم میاں نوازشریف نے پون گھنٹہ تک میڈیا لنک سے خطاب کیا جو سوشل میڈیا نے گھر گھر پہنچا دیا۔ لوگوں نے ٹی وی بند کرکے موبائل فون پر یو ٹیوب لگا لی جس میں باپ بیٹی کے خطابات سمیت پورا جلسہ براہ راست دکھایا گیا۔ اب رہی سہی کسر حکومتی ”دانشور“ پوری کر دیں گے۔ وہ چار پانچ دن میاں نوازشریف اور مریم نواز کی تقریروں کو رگڑا لگاتے رہیں گے جو تمام چینلوں سے نشر ہوگا اور اخبارات میں شائع ہوگا۔ اس طرح جن لوگوں نے یوٹیوب پر جلسہ نہیں دیکھا، انہیں یہ حکومتی نمائندے دکھا دیں گے۔ مریم نواز نے ملتان کے جلسہ میں جو طنزیہ اسلوبِ خطابت اختیار کیا تھا اس کی عوامی پذیرائی دیکھتے ہوئے انہوں نے لاہور کے سوشل میڈیا ورکرز کنونشن میں مزید آگے بڑھایا اور وزیراعظم کو ”تابعدار خان“ کا نیا القاب دے دیا۔

جلسوں نے مریم نواز کو عوامی مقرر بنا دیا ہے اور اب وہ عوامی پذیرائی کے اس مقام پر پہنچ گئی ہیں کہ وہ اپنے والد کی کمی محسوس نہیں ہونے دیتیں  حکومت نے بھی ان کے چچا، قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں شہبازشریف، ان کے بیٹے اور پنجاب اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف حمزہ شہباز شریف کو جیل میں بند کرکے مریم نواز کو مسلم لیگ(ن) کا غیر اعلانیہ قائد بنا دیا ہے۔ پیپلزپارٹی اور جے یو آئی بھی لاہور کے جلسے کو کامیاب بنانے کے لئے مختلف شہروں میں جلسے کر رہی ہیں۔ان میں مقررین کا لب و لہجہ جارحانہ اور بعض اوقات قابل اعتراض ہو جاتاہے، ان جلسوں، ریلیوں سے حکومت کا تو پتہ نہیں کچھ بگڑتا ہے یا نہیں، البتہ ایک تشویشناک صورت حال پیدا ہو رہی ہے،جس پر بہت سوچ بچار کی ضرورت ہے۔ پنجاب میں پہلی بار لوگ جوق در جوق اس بیانیے کو سننے کے لئے نکل رہے ہیں جس کا پہلے تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اس پر جو بات کہتے ہوئے پہلے زبان جلتی تھی، اب اس پر سرعام تالیاں بجتی سنائی دیتی ہیں۔ اس بیانیے کو فروغ ملنے کی وجوہات کا جائزہ لینا وقت کی ضرورت ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو مرض لا علاج ہو جائے۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment