Home » جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی

by ONENEWS

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی

یہ اپنے علامہ اقبال بھی عجیب و غریب طرح کے قومی شاعر تھے۔ انہوں نے کوئی ایسا موضوع نہیں چھوڑا جس پر کچھ نہ کچھ ارشاد نہ فرمایا ہو۔ اب آپ ہی فیصلہ کریں کہ شاعری اور زراعت کا بھلا آپس میں کیا تعلق ہے۔ لیکن اس کا ذکر بعد میں کریں گے…… میں آج کالم لکھنے سے پہلے اس کا عنوان سوچ رہا تھا۔ میرے پیٹی بھائی بھی اسی مرحلے سے گزرتے ہوں گے۔ بعض احباب کالم لکھنے کے بعد عنوان سوچتے ہیں جبکہ بعض لکھنے سے پہلے یہ سوچتے ہیں کہ کس پر کالم لکھا جائے۔ کئی دنوں سے میں بھی سوچ رہا تھا کہ ہمارے میڈیا (الیکٹرانک اور پریس/ پرنٹ دونوں) پر انڈیا کے سکھ کسانوں کے احتجاج پر کچھ نہیں کہا لکھا جا رہا۔ایک  سکھ ڈاکٹر امر جیت سنگھ کی ایک وڈیو کافی دنوں سے سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے جس میں انہوں نے کھل کر پاکستانیوں کو ’لتاڑا‘ ہے اور انہیں یاد دلایا ہے کہ ساری دنیا سکھوں کے احتجاج کے ساتھ کھڑی ہے لیکن پاکستان نے کسی بھی سرکاری یا نجی سطح پر انڈیا کے کسانوں کی حمائت میں زبان نہیں کھولی۔ بابا امرجیت سنگھ نے نام لے کر پاکستانی وزیراعظم اور آرمی چیف کی تعریفیں کیں اور کہا کہ ہمارا تو مکہ مدینہ ہی پاکستان میں ہے۔ ہم نے ہمیشہ ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں کے حقوق کی بات کی ہے اور کشمیری مسلمانوں کا ساتھ بھی دیا ہے۔ لیکن پاکستان کا میڈیا اور حکومت اس سلسلے میں خاموش ہے۔ کسی چینل پر کوئی خبر دی بھی گئی ہے تو وہ ایک طرح کی اشک شوئی ہے۔

میں خود بھی کئی دنوں سے دیکھ رہا ہوں کہ کینیڈا کے وزیراعظم نے انڈیا کے سکھ کسانوں کے حق میں آواز اٹھائی ہے۔ اگر یہ سمجھا جائے کہ جسٹن ٹروڈو کی حمائت کی پشت پر ان کی سیاسی مجبوری ہے تو برطانیہ کے اراکین پارلیمنٹ کو کیا ضرورت تھی کہ وہ سکھوں کے اس زرعی احتجاج میں اپنا حصہ ڈالتے۔ برطانیہ کے درجنوں اراکین پارلیمان نے انڈیا کے سکھ احتجاج کی پاسداری کی ہے۔ لیکن پاکستان میں آج تک کسی چینل نے اس موضوع پر کوئی ٹاک شو منعقد نہیں کیا۔ پاکستانی میڈیا کے قارئین و ناظرین کو تو یہ بھی معلوم ہی نہیں کہ سکھ کسان کس وجہ سے دہلی کی طرف مارچ کر رہے ہیں اور ان کا مطالبہ کیا ہے۔

جہاں تک سکھ کسانوں کے مطالبے کا تعلق ہے تو وہ مختصر ترین الفاظ میں یہ ہے کہ مودی سرکار نے ابھی پچھلے ماہ ہندوستان بھر میں نئی ’زرعی اصلاحات‘ کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔ 1947ء سے آج تک ہوتا یہ رہا ہے کہ پنجاب اور ہریانہ میں کہ جو گندم اور چاول پیدا کرنے والی دو بڑی ریاستیں ہیں ان کی پیداوار خود حکومت خریدتی آ رہی ہے۔ لیکن اب مودی حکومت نے یہ پالیسی تبدیل کر دی ہے اور کہا ہے کہ آئندہ کسانوں کی فصل حکومت نہیں بلکہ پرائیویٹ کمپنیاں خریدا کریں گی۔

لیکن یہ کارپوریٹ ٹیک اوور بالخصوص ان انڈین کسانوں کے حق میں زہرِ قاتل ہے جو چند ایکڑ زمین کے مالک ہیں۔ دوسری طرف مودی سرکار کا کہنا ہے کہ کسانوں کو جب حکومتی محتاجی سے نجات ملے گی تو ان کو فائدہ ہوگا جبکہ کسانوں کا موقف یہ ہے کہ اگر حکومت ان کی پیداوار نہیں اٹھائے گی تو نجی کمپنیاں ان کو وہ قیمت نہیں دے سکیں گی جو اب تک حکومت ان کو دیتی آئی ہے۔ یہ کمپنیاں مول تول کریں گی اور اس طرح چھوٹا کسان غریب سے غریب تر ہوتا جائے گا اور اس کی پیداوار (بالخصوص) گندم اور چاول سستے داموں خرید لئے جائیں گے۔ انڈیا کے 15کروڑ کھیت(فارم)ایسے ہیں جن کا اوسط رقبہ فی کھیت صرف تین ایکڑ ہے۔ ان کسانوں نے نئے قانون کے خلاف پنجاب اور ہریانہ سے مارچ شروع کیا ہے اور دارالحکومت دہلی کو جانے والی سڑکیں بلاک کر دی ہیں۔ یہ احتجاج گزشتہ تین چار ہفتوں سے جاری ہے۔ ان لوگوں نے دہلی کا گویا گھیراؤ کیا ہوا ہے۔ پہلے پہل صرف دہلی کے مغربی حصے (ہریانہ اور پنجاب) کی طرف سے گھیراؤ تھا۔ لیکن اب تو مشرقی انڈیا کی ریاستوں سے بھی احتجاجی ریلیاں، دہلی کی طرف نکالی جا رہی ہیں  اور انہوں نے مشرقی سمت سے آکر (آسام اور سوگر) دارالحکومت کا گھیراؤ کرکے سڑکیں بلاک کر دی ہیں۔ دو تین دن پہلے جنوبی ہند کی ریاستوں (کیرالہ اور کرناٹک وغیرہ) کے کسانوں نے بھی پنجاب کے کسانوں سے یک جہتی کے اظہار کے طور پر دہلی کی طرف مارچ شروع کر دیا ہے۔

مودی کے سر پر نجانے کیا بھوت سوار ہے کہ وہ ہندوستان کو ہندو (اور شدھ ہندو) ریاست بنانے کا خواب دیکھ رہا ہے۔ پہلے جموں اور کشمیر کے مسلمانوں کا قافیہ تنگ کیا، اس ریاست کا خصوصی سٹیٹس ختم کیا۔ پھر مسلمانوں کی شہریت کے حقوق کا کھڑاگ کھڑا کیا۔ اور اب سکھوں کے خلاف یہ نئے زرعی قوانین نافذ کئے جا رہے ہیں۔

لیکن مودی سرکارکو شاید معلوم نہیں کہ انڈیا کے مسلمانوں کی ایذا رسانی کی بات اور ہے جبکہ سکھوں کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ انڈین ملٹری میں سکھوں کی تعداد 20 فیصد سے زیادہ ہے۔ سکھ شدید قسم کے مذہبی اعتقادات رکھتے ہیں اور بہت دلیر اور ضدی قوم شمار ہوتے ہیں، جن کا مظاہرہ اندرا گاندھی کے دور میں پورا ہندوستان دیکھ چکا ہے۔ اب مودی نے پنجاب اور ہریانہ کے سکھوں کو للکارا ہے۔ بی جے پی کا صدر امیت شاہ، مودی سے بھی بڑا ’کٹرہندو‘ ہے۔ وہ ہندوستانی اقلیتوں کو خاطر میں نہیں لاتا۔لیکن اس کا پالا صرف مقبوضہ جموں اور کشمیر کے مظلوم مسلمانوں سے پڑا ہے۔ اور وہ اپنی شمال مغربی ریاستوں کے سکھوں کی تاریخ سے شاید نابلد ہے۔

انڈیا کو آج کل کورونا کی وجہ سے بدترین اقتصادی بحران کا سامنا ہے۔ مودی کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے انڈیا کی غریب پبلک پہلے ہی بہت تنگ آ چکی ہے۔ کورونا کی نئی لہر نہ صرف دنیا میں از سرِ نو تباہی مچا رہی ہے بلکہ جون کی نسبت اب دسمبر کے ایام میں بھی شرحِ اموات دگنی ہو چکی ہے۔ کورونا بنیادی طور پر پھیپھڑوں سے شروع ہونے والا مرض ہے۔ اور اس مرض کی شدت میں سموگ نے اور بھی اضافہ کر دیا ہے۔ بھارتی حکومت نے پنجاب اور ہریانہ کے کسانوں کو بار بار تنبیہ کی ہے کہ گندم اور چاول کا بھوسہ نہ جلائیں۔ اس کا دھواں نہ صرف دہلی بلکہ پورے وسطی ہندوستان تک پہنچتا ہے اور یہاں کی آبادیوں کے سینے کے امراض میں اضافہ کرتا ہے۔ لیکن جب اس سال بھی کسانوں نے بھوسہ جلانا بند نہ کیا تو حکومت نے باقاعدہ ایک آرڈیننس نافذ کر دیا جس کی رو سے فصلوں کے بھوسہ جلانے والوں کو چھ ماہ کی قیدا ور ایک کروڑ روپے تک جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔

اب چونکہ انڈیا کے کسانوں کی بات نہیں سنی گئی، ان کی پروڈیوس کو سرکار نہیں خرید رہی اور کارپوریٹ ادارے یہ کام کرنے والے ہیں تو کسانوں میں ایک زبردست مزاحمتی تحریک شروع ہو گئی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اب کسانوں کو گندم اور چاول کا بھوسہ جمع کرکے اکٹھے جلا دینا چاہیے تاکہ دہلی اور ہندوستان کے دوسرے وسطی حصوں میں سموگ کی شدت میں اضافہ ہو اور یہ سموگ، کورونا سے مل کر حکومت کے لئے مزید مشکلات پیدا کرے اور حکومت کو مجبورکرے کہ وہ کسانوں سے ڈائیلاگ کرکے اپنی نئی ’زرعی پالیسی‘  واپس لے۔

حکومت نے جو اعداد و شمار جاری کئے ہیں، ان کی رو سے نومبر 2020ء میں کورونا سے مرنے والوں کی تعداد 2612تک پہنچ گئی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ روزانہ اوسطاً تقریباً 870 لوگ موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔ لیکن اب دسمبر میں یہ تعداد بڑھ کر 950 یومیہ تک جا پہنچی ہے اور اگر سموگ کا عالم وہی رہا جس کی ’نوید‘ ہریانہ اور پنجاب کے کسان سنا رہے تو یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

سکھ کسانوں کا کہنا ہے کہ حکومت ہماری بات سننے کی بجائے فضائی آلودگی کو کم کرنے کی دوسری تدابیر کی طرف جا رہی ہے۔ مثلاً دہلی کے لئے نئی الیکٹرک بسیں خریدی جا رہی ہیں، کاروں اور رکشاؤں میں نئے انجن نصب کرنے کی طرف پیشرفت کی جا رہی ہے اور دہلی کے نواح میں واقع کارخانوں کو فضائی آلودگی سے پاک ٹیکنالوجیکل مشینری کی تنصیب کے احکام جاری کئے جا رہے ہیں۔ لیکن سکھوں کی بات نہیں سنی جا رہی۔ ان کی زرعی پیداوار سستی کرکے سکھ برادری کی تدریجی موت کے سامان کئے جا رہے ہیں۔ لیکن سکھوں نے بھی اب تہیہ کر لیا ہے کہ پہلے کپاس، گندم اور چاول کی جن باقیات کو رفتہ رفتہ قسط وار جلایا جاتا تھا اب انہوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ گرمیوں میں ان باقیات کو جمع کرتے رہو اور جب موسم سرما آئے تو ان انباروں اور ڈھیروں کو یکبارگی آگ لگا دو۔ مشرق کی طرف سے آسام اور تری پورہ کی سرد ہوائیں دہلی کا رخ کریں گی اور مغرب کی طرف سے ان فصلی باقیات کو جلانے سے دھوئیں کے بادل دارالحکومت کا رخ کرکے مرکزی (یونین) سرکار کا جینا محال کر دیں گے۔

بعض سکھ خاندان تو علامہ اقبال کے اس شعر پر من و عن عمل پیرا ہونے کا عزم کئے ہوئے ہیں:

جس کھیت سے دہقاں کو میسّر نہیں روزی

اس کھیت کے ہر خوشہ ء گندم کو جلا دو

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment