0

جسٹس عیسیٰ کیلئے دھمکی آمیز ویڈیو، ملزم کی ضمانت منظور

اسلام آباد ہائیکورٹ کی طرف سے جاری کردہ نوٹس کے مُطابق آج صُبح افتخار الدین مرزا کی ضمانت کی درخواست کو سماعت کیلئے مُقرر کیا گیا تھا۔ افتخار الدین مرزا وہ مُلزم ہیں جن کے ایک ویڈیو بیان میں اعلیٰ عدلیہ کی تضحیک کے ساتھ سُپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو فائرنگ اسکواڈ کے سامنے کھڑا کرکے اُڑا دینے کی تجویز دی گئی تھی۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسیٰ نے مُلزم کے خلاف مُقدمہ کے اندراج کی درخواست دی تھی جبکہ سُپریم کورٹ نے بھی سو مو ٹو نوٹس لے کر مُلزم کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کر رکھی ہے۔

مُلزم افتخارالدین مرزا اِس وقت جیل میں ہیں کیونکہ اُن کے خلاف ایف آئی اے نے اُن کیخلاف مسز سرینا عیسیٰ کی مدعیت میں انسدادِ دہشت گردی سمیت سائبر کرائم کی دیگر دفعات کے تحت مُقدمہ درج کر رکھا ہے۔ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت سے ضمانت کی درخواست مُسترد ہوجانے پر نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے ضمانت کیلئے رجوع کرکے جلدی سماعت کی درخواست جمع کروائی تھی جو اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرتے ہوئے جمعرات 20 اگست 2020ء کی تاریخ مُقرر کی تھی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے مرکزی دروازے سے ہوتا ہوا احاطہِ عدالت کے واک تھرو گیٹ کو کراس کیا تو سامنے سرینا عیسیٰ کی قانونی معاونت کرنے والے نوجوان وکیل کبیر ہاشمی موجود تھے، اُن کے پاس پہنچا تو انہوں نے بتایا کہ سماعت میں تاخیر ہے کیونکہ چیف جسٹس اطہر من اللہ پہلے اپنے یک رُکنی بینچ کے سامنے مُقدمات کی سماعت کرکے بعد میں جسٹس عامر فاروق کے ساتھ دو رُکنی ڈویژن بینچ میں ملزم افتخار الدین مرزا کے درخواستِ ضمانت کی سماعت کریں گے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے سر سبز لان سے ہوتا ہوا، چیف جسٹس کی عدالت پہنچا تو نوجوان وکیل وقاص ضمیر سے مُلاقات ہوگئی اور تھوڑی گپ شپ کے بعد کمرہِ عدالت میں جاکر بیٹھ گیا۔ 9 بجکر 40 منٹ پر سبز رنگ کا فیس ماسک پہنے چیف جسٹس اطہر مِن اللہ نے آکر مُقدمات کی سماعت شروع کردی اور 48 منٹ میں 7 مُقدمات نمٹانے کے بعد 10 بجکر 18 منٹ پر کمرہِ عدالت خالی دیکھتے ہوئے بیک بینچ پر بیٹھے سرینا عیسیٰ کے وُکلا پر نظر ڈالتے ہوئے سوال پوچھا آپ کیوں بیٹھے ہیں؟، وُکلا اسد ایڈووکیٹ، کبیر ہاشمی اور اویس ارشد نے کھڑے ہوکر جواب دیا کہ سر ڈویژن بینچ کا انتظار کررہے ہیں۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اگلا سوال پوچھا کہ آپ لوگ اُدھر کونے میں کیوں بیٹھے ہیں؟، وُکلا نے چیف جسٹس کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے جواب دیا کہ سر آواز نہیں آرہی تھی۔ چیف جسٹس اطہر منِ اللہ جو کافی دھیمے لہجے میں بول رہے تھے تینوں نوجوان وُکلا قریب آنے پر بولے آپ لوگ ڈویژن بینچ کیلئے بیٹھے ہیں؟، وُکلا نے جواب دیا جی سر۔ اِس مُختصر مُکالمہ کے بعد 10 بجکر 19 منٹ پر معزز چیف جسٹس اطہر من اللہ اپنی نشست سے اُٹھے اور چیمبر میں چلے گئے۔

کیس کی سماعت

چیف جسٹس اطہر مِن اللہ اور جسٹس عامر فاروق پر مُشتمل ڈویژن بینچ 11 بجکر 48 منٹ پر کمرہِ عدالت میں آیا۔ ریڈر کی طرف سے افتخار الدین مرزا بنام اسٹیٹ بآواز بُلند آواز پُکارے جانے پر اسٹیٹ، مدعی اور پٹیشنر کے وُکلا فوراً روسٹرم پر آکر کھڑے ہوگئے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سماعت کا آغاز کرتے ہوئے ریمارکس دیئے اِس عدالت کیلئے یہ مُشکل ہوجاتا ہے کہ اگر کسی کیخلاف اعلیٰ عدلیہ خود مدعی ہو تو شفاف ٹرائل بہت ضروری ہوجاتا ہے۔ سرینا عیسیٰ کے وکیل اویس ارشد نے چیف جسٹس کو جواب دیا کہ سر اِس ایف آئی آر میں شکایت کنندہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نہیں بلکہ اُنکی اہلیہ سرینا عیسیٰ ہیں۔

چیف جسٹس اطہر مِن اللہ نے ریمارکس دیئے کہ ہم نے ہر ایک کے شفاف اور آزاد ٹرائل کے حق کا تحفظ کرنا ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے مُلزم افتخار الدین مرزا کے وکیل سے سوال پوچھا کہ آپ کو الزام کا پتہ ہے ناں، آپ کے مؤکل نے کیا کہا تھا؟، خاتون وکیل نے ہلکا سا سر ہلاتے ہوئے جواب دیا جی پتہ ہے۔ چیف جسٹس اطہر مِن اللہ دوبارہ بولے کہ آپ کے مؤکل نے ایک جج نہیں بلکہ عدلیہ کے پورے ادارے کو نشانہ بنایا۔ ملزم کی وکیل نے جواب دیا کہ سر ہم نے سُپریم کورٹ میں معافی نامہ جمع کروایا ہے۔ چیف جسٹس نے آبزرویشن دی کہ ہمارے سامنے توہینِ عدالت نہیں ایف آئی اے کی ایف آئی آر کے مُقدمہ میں آپ موجود ہیں۔

چیف جسٹس اطہر مِن اللہ نے ریمارکس جاری رکھتے ہوئے کہا کہ آپ کے کلائنٹ نے سیاسی بُنیادوں پر کتنے سنگین الزام لگائے اور کہتے وہ خود کو مذہبی اسکالر ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر دہرایا کہ عدالت مُلزم کے شفاف ٹرائل کے حق کو یقینی بنائے گی۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے مُلزم افتخار الدین مرزا کی وکیل سے پوچھا کہ جو کُچھ مولوی صاحب نے تقریر میں کہا آپ اُس سے مُتفق ہیں؟، خاتون وکیل نے جواب دیا کہ سر میرے مؤکل نے سُپریم کورٹ میں تحریری معافی نامہ جمع کروایا ہے جبکہ اپنے بیان سے اظہارِ لاتعلقی بھی کردیا ہے۔ اِس پر جسٹس عامر فاروق نے لفظ اچھا کو لمبا کھینچتے ہوئے طنزیہ انداز میں حیرت لہجے میں حیرت سے پوچھا اچھا وہ کیسے؟، سر ہم نے وہ ویڈیو خود ریکارڈ کرکے اپ لوڈ نہیں کی تھی، اِس لئے ہم اُس ویڈیو سے اظہارِ لاتعلقی کررہے ہیں۔

جسٹس عامر فاروق نے سوال پوچھا کہ آپ کِن بُنیادوں پر ضمانت مانگ رہی ہیں؟، ملزم کی وکیل نے جواب دیا سر میڈیکل گراؤنڈز پر۔ چیف جسٹس اطہر مِن اللہ نے اسٹیٹ کے وکیل سے پوچھا کہ آپ ضمانت کے حق میں ہیں یا مُخالف؟،  اسٹیٹ کے وکیل نے ضمانت کی مُخالفت کی تو چیف جسٹس اطہر مِن اللہ نے سرینا عیسیٰ کے وُکلا سے پوچھا کہ انسدادِ دہشت گردی کی دفعات 7 اے ٹی اے کے علاوہ تو کوئی ناقابلِ ضمانت دفعہ ایف آئی آر میں موجود نہیں ناں؟۔ وکیل نے نفی میں جواب دیا تو جسٹس عامر فاروق نے انتہائی اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اِس کیس میں انسدادِ دہشت گردی کی دفعات لگتی ہی نہیں، یہ بھی اُٹھا کر ہر مُقدمہ میں انسدادِ دہشت گردی کی دفعات ڈال دیتے ہیں۔

چیف جسٹس اطہر مِن اللہ نے مُلزم افتخار الدین مرزا کو 10 لاکھ کے مچلکوں کے عوض ضمانت کا فیصلہ سُناتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ہم مُلزم کو شفاف ٹرائل کو موقع دینے کیلئے یہ ضمانت قبول کررہے ہیں۔

کمرہِ عدالت سے باہر نکلا تو اسد ایڈووکیٹ سے فیصلے پر تبصرہ مانگا، انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ معاشرے میں فساد اور خوف کی فضاء پیدا کرنا ہی دہشت گردی ہوتی ہے اور ایک مولوی جِس نے ایک سُپریم کورٹ کے جج کو فائرنگ اسکواڈ کے سامنے کھڑا کرکے اُڑا دینے کی بات کی ہو، وہ دھمکی کیسے دہشت گردی کی تشریح پر پورا نہیں اُترتی؟، اور یہ سب کُچھ ویڈیو بیان کی صورت میں کہا گیا جو پورے مُلک نے دیکھا اور خوف پھیلا کہ کیسے کوئی انتہائی دیدہ دلیری سے سُپریم کورٹ کے ججز کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے اُڑا دینے کی بات کرسکتا ہے۔

اسد ایڈووکیٹ کا مزید کہنا تھا کہ ایف آئی اے نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گُلزار احمد کو جمع کروائی گئی رپورٹ میں بتایا تھا کہ ہم نے مُلزم افتخار الدین پر انسدادِ دہشت گردی کی دفعات بھی لگائی ہیں لیکن انہوں نے کوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں