Home » جرنیلوں کا وزیراعظم عوام کا درد محسوس نہیں کرسکتا، نوازشریف

جرنیلوں کا وزیراعظم عوام کا درد محسوس نہیں کرسکتا، نوازشریف

by ONENEWS

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے ہزارہ برادری سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا ہے کہ چند جرنیلوں کی بخشش سے وزیراعظم بننے والا کبھی عوام کا درد محسوس نہیں کر سکتا۔

ٹوئٹر پر وزیراعظم عمران خان کا بیان شیئر کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ ’اپنے پیاروں کی میتیں لیے بیٹھے مظلوم لوگ ایسے سنگدل انسان کی راہ دیکھ رہے ہیں جو انہیں ’بلیک میلر‘ کہہ کر ان کے زخموں پر نمک پاشی کر رہا ہے۔ کیا اس پتھر دل شخص کو مسلط کرنے والوں کو بھی کوئی ندامت ہے؟‘

اس سے قبل مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے قائد نوازشریف نے ہزارہ برادری کے احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے ملک بھر میں جماعت کی قیادت اور کارکنان کو احتجاج میں شرکت کی ہدایت کی ہے۔

نواز شریف نے کہا ہے کہ ہزارہ برادری کے شہدا کے معاملے کو پی ڈی ایم کے فورم پر اٹھائیں گے۔ انہوں نے شاہد خاقان عباسی کو مولانا فضل الرحمن اور دیگر قائدین سے فوری رابطہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

دوسری جانب ذبح کردہ مزدوروں کے لواحقین لاشوں کے ہمراہ چھٹے روز بھی شدید سردی میں کوئٹہ کے مغربی بائی پاس پر دھرنا دے کر بیٹھے ہیں جبکہ وزیراعظم نے شرط عائد کی ہے کہ وہ لاشوں کو دفنا دیں، پھر وہ کوئٹہ آئیں گے۔

مسلم لیگ ن کی نائب رہنما مریم نواز نے وزیراعظم کے بیان کو ’انسانیت سے عاری‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان لاشوں کے ساتھ ضد لگا کر بیٹھے ہیں۔ ہزارہ برادری آپ سے دلاسہ مانگ رہی ہے اور آپ انہیں بلیک میلرز قرار دے رہے ہیں۔

کوئٹہ سے واپسی پر کراچی میں ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ وہ اس بارے میں گفتگو نہیں کرنا چاہتی تھی مگر عمران خان کا بیان سن کر میرا دل دہل گیا ہے۔

کوئٹہ کے مظاہرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے کراچی میں درجنوں مقامات پر بھی تین دن سے دھرنے جاری ہیں جس کے باعث کراچی میں بیشتر مرکزی شاہراہوں پر ٹریفک معطل ہے اور نظام زندگی متاثر ہوا ہے۔

سندھ کے وزیر اطلاعات ناصر حسین شاہ نے مظاہرین سما ٹی وی کی ساطت سے مظاہرین سے اپیل کی ہے کہ دھرنے جاری رکھیں لیکن اس بات کا بھی ضرور خیال رکھیں کہ روڈ پر گاڑی گزر سکے۔

انہوں نے کہا کہ ’کل بھی اسپتالوں میں آکسیجن کی سپلائی متاثر ہوگئی تھی اور سڑکوں پر بزرگوں، خواتین اور بچوں کو تکالیف ہورہی تھیں۔

ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ’میں اپیل کرتا ہوں کہ سڑکیں کھول دی جائیں۔ تاکہ لوگوں کو تکیلف نہ ہو۔ کیوں کہ وہ سب اس دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ اتنا بڑا سانحہ ہوا ہے، اس کے پیچھے ملک دشمن لوگ ہیں۔ جو چاہتے ہیں کہ ملک میں انتشار بڑھے، فرقہ واریت بڑھے، لسانیت بڑھے، تاکہ یہاں انتشار برپا ہو۔‘

You may also like

Leave a Comment