Home » جج ارشد ملک کی موت پر مریم نواز کے سوالات

جج ارشد ملک کی موت پر مریم نواز کے سوالات

by ONENEWS

میاں نواز شریف کو سزا دینے اور بعد میں دباؤ کا اعتراف کرنے والے احتساب عدالت کے جج مبینہ طور پر کرونا وائرس کے باعث انتقال کرگئے ہیں مگر ان کے اہل خانہ نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کا کرونا ٹیسٹ منفی آیا تھا۔

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے مرحوم جج کی بخشش اور اہل خانہ کے لیے صبر کی دعا کے ساتھ اس کیس سے جڑے عوامل پر سوالات بھی اٹھائے ہیں۔

گزشتہ برس مریم نواز نے ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے ویڈیوز دکھائی تھیں جس میں ارشد ملک اعتراف کرتے ہوئے نظر آئے کہ ان پر نواز شریف اور مریم نواز کو سزا دینے کے لیے دباؤ ڈالا گیا اور بلیک میل کیا گیا۔ بعد ازاں ان کو جج کے عہدے سے معزول کیا گیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں مریم نواز نے کہا کہ ’جج ارشد ملک وہاں چلے گئے جہاں ہم سب کو جانا ہے۔ اللّہ نے انہیں توفیق دی کہ وہ جاتے جاتے نواز شریف سے معافی مانگ کر اپنے ضمیر کا بڑا بوجھ ہلکا کر گئے اور بتا گئے کہ انہیں کس نے نواز شریف کو جھوٹی سزا دینے کے لیے بلیک میل کیا استعمال کیا۔‘

مریم نواز نے کہا کہ چونکہ ’اس سازش کا انکشاف اور اعتراف کرنے والا کردار اب اس دنیا میں نہیں۔ اب یہ مطالبہ زور پکڑے گا کہ آزاد اور بہادر ججوں پر مشتمل  کمیشن اس کی تحقیقات کرے تاکہ عوام حقائق جان سکیں۔‘

مریم نواز نے سوال اٹھایا کہ ’تین بار کا وزیراعظم مفرور قرار دے دیا گیا لیکن نواز شریف کے خلاف عدالتی سازش پر کوئی کمیشن کیوں نہیں بنا۔ بہت کچھ بتانے کے لئے تیار شخص کی موت کا انتظار کیوں کیا گیا؟‘

انہوں نے پوچھا کہ ’ارشد ملک اپنے اعتراف اور انکشافات کے ڈیڑھ سال بعد فوت ہوئے۔ ڈیڑھ سال میں نوازشریف کو انصاف نا ملنے کا زمہ دار کون ہے۔ جس کیس میں نوازشریف کو اشتہاری دلانے کی جلدی تھی، اس کیس کی سزا سنانے والے جج کے اعتراف پر کوئی ایک دن بھی سماعت کیوں نہیں ہوئی؟‘

مسلم لیگ ن کی نائب صدر نے کہا کہ ’یہ سویلین بالادستی کی جنگ لڑنے والے نواز شریف کا سوال ہے، جسے اقامہ کی بنیاد پر نااہل قرار دے کر ایک کٹھ پتلی کو مسلط کیا گیا۔ جج ارشد ملک کی موت سے پہلے انصاف کی موت کا جواب بھی دینا ہو گا۔‘

مریم نواز نے کہا کہ ’یہ ان لوگوں کے لیے سبق ہے جو ظالم بھی ہیں اور اقتدار اور طاقت کے نشے میں اندھے بھی ہیں۔ مجھے ایسے لوگوں کے انجام سے ڈر لگتا ہے۔ اللّہ ظالم کے ساتھ نہیں۔ ظالم برباد ہو کر رہے گا، یہ اللّہ کا نظام ہے۔‘

سابق جج ارشد ملک اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال میں وفات پا گئے۔ میڈیا پر چلنے والی خبروں کے مطابق ان کی موت کرونا وائرس سے ہوئی مگر ارشد ملک کے بیٹے نے بی بی بی اردو سروس کو بتایا کہ ان کے والد کا کرونا ٹیسٹ منفی آیا تھا اور موت کی وجہ دل کا دورہ ہے۔

ارشد ملک نے دسمبر 2018 میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کو العزیزیہ سٹیل مل کے مقدمے میں سات سال قید کی سزا سنائی تھی۔ جب مریم نواز نے ان کی اعترافی ویڈیوز دکھائی لاہور ہائیکورٹ نے ان کو برطرف کردیا۔

ارشد ملک نے ایک بیانِ حلفی دیا تھا جس میں انہوں نے نواز شریف کے بیٹے سے ملاقات کا اعتراف کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ ارشد ملک نے جو بیان حلفی جمع کروایا تھا وہ دراصل ان کا اعترافِ جرم تھا۔

You may also like

Leave a Comment