Home » جانے والے تیرے قدموں کے نشاں باقی ہیں!

جانے والے تیرے قدموں کے نشاں باقی ہیں!

by ONENEWS

جانے والے تیرے قدموں کے نشاں باقی ہیں!

رؤف طاہر کسی بھی موضوع پر گفتگو کرتے تو دلائل و براہین کے انبار لگا دیتے تھے۔ قدرت نے انہیں یاداشت کی کمال قوت بخشی تھی۔ قومی سیاست کی تاریخ اور حالات و حوادث پر رؤف طاہر صاحب کو گہری دسترس حاصل تھی۔ گفتگو کے دوران کسی بھی سیاسی موضوع پر تجزیئے اور تنقیدی تناظر میں اگرچہ وہ توازن کے داعی تھے مگر میاں محمد نواز شریف کی شخصیت اور سیاست کے حوالوں سے وہ قطعی طور پر یکطرفہ تھے۔ اپنی تحریروں، تقریروں، تجزیوں اور تبصروں میں میاں صاحب کی طرف رؤف صاحب کا مَیلان بڑا واشگاف تھا۔میاں نوازشریف کے خلاف ہونے والی تنقید پر بڑے جارحانہ انداز میں دفاع کرتے اور دلائل کے انبار لگا دیتے تھے۔

کونسل آف نیشنل افئرز (CNA) کے ساتھ ان کی وابستگی اور ہفتہ وار نشستوں میں باقاعدگی بے مثال تھی۔ حالاتِ حاضرہ پر تبصرے اور تجزیے ہوں یا مختص و متعین موضوعات پر اظہارِ خیال، کسی ممتاز قومی شخصیت کے خطاب اور سوال و جواب کا موقع ہو یا قومی اور بین الاقوامی سطح کے ماہرین کے ساتھ تبادلہ خیالات، ہر طرح کے قال و مقال میں رؤف طاہر صاحب کی گفتگو التفات اور ارتعاش کا سبب بنتی کہ منجمد مزاج ممبران بھی شریکِ بحث ہو جاتے تھے۔ ان کے تحرک تاب اندازِ تخاطب کا اعجاز تھا کہ خفتہ تخلیقی صلاحیتوں کے صیقل ہوتے ہی فکر و دانش کے کئی سوتے پھوٹ پڑتے۔

دمِ واپسیں سے دو روز پہلے رؤف بھائی کا فون آیا تو ہمکلام ہوتے ہی کہا ” میرانی بھائی! لگتا ہے کونسل آف نیشنل افئرز کو بھی ظالم کرونا نے آ لیا۔ لگ بھگ رْبع صدی سے سرگرمِ عمل فورم کو تعطل آشنا ہوئے اب رْبع برس ہونے کو ہے۔ اکثر احباب سی این اے اجلاسوں کا اجرا چاہتے ہیں۔ کرونا ایس او پی اپنا کر ہفتہ وار مجالس کے احیا کی ترکیب نکالی جائے”…… میں نے حامی بھری تو خندہ زن ہوئے اور لاہور لَوٹنے کی تاریخ پوچھنے لگے۔ چاہت و چاؤ کی عجب کیفیت تھی۔ کیا پتہ تھا کہ محبت اور ملائمت سے معطر لب و لہجے اور اپنائیت سے لبریز روف بھائی کی یہ باتیں طویل رفاقت کا تتمہ ہیں۔ لاہور پلٹنے کی تاریخ کے اصرار اور تکرار پر، میں نے جواباً جب دوچار ایام کا عندیہ دیا تو میرے پیمان پر ان کا بیان کہ ”حضور! ہم پھولوں کے ہار تھامے چشم براہ ہوں گے“زندگی بھر میرے جذبوں کو نمناک رکھے گا، کیونکہ دو دن بعد کا ملول منظر بڑا ناگفتنی تھا۔ کچھ سوچنے کی سکت نہ کہنے کی تاب……پھولوں سے لدے پھندے مرحوم کے مرقد کی تصویر  پر نظر پڑی تو ضبط کا یارا نہ رہا……

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں

جس  طرح  سوکھے  ہوئے  پھول کتابوں میں ملیں

رؤف صاحب کے انتقال کی خبر خزاں کی رْت میں رْستاخیز ہواؤں کی طرح جہاں جہاں پہنچی، ہر جگہ پت جھڑ اور پڑمردگی کا سماں بنتی گئی۔ علم و ادب کے حلقے اداس ہوئے۔ قال و قلم کی دنیا  سوگوار ہو گئی۔ اخبار بین قارئین کو کَرب پہنچا۔ سی این اے کے افسردہ احباب ایک دوسرے کو پْرسا دینے لگے۔ قسمت کا عجب المیہ ہے کہ ابھی چند ماہ ہوئے، سی این اے پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کی طویل رفاقت سے محروم ہوئی۔ پروفیسر ڈاکٹر احسن اختر ناز کی مفارقت بھی زیادہ پرانی بات نہیں۔ جانے والے سب دوستوں کو روف بھائی اکثر یاد رکھتے اور کہا کرتے تھے کہ فورم کے زیر اہتمام سی این اے کے مرحوم ساتھیوں کی یاد میں بڑے پیمانہ پر ایک تعزیتی تقریب کا انعقاد ہونا چاہئے۔

مرحومین کی فہرست میں مذکورہ دو ڈاکٹرز صاحبان کے علاوہ، صاحبزادہ خورشید احمد گیلانی، جسٹس  کے ایم صمدانی، ڈاکٹر انور سدید، بریگیڈئیر ظفراللہ، حسنین جاوید، فاروق نثار، کرنل اکرام اللہ، مطلوب وڑائچ، طارق احمد اور اب صاحبِ مشورہ برادرم رؤف طاہر بھی شامل ہیں۔ مردِ قلندر کی تجویز یقینا تعمیل کی متقاضی ہے۔ انشاء اللہ ترجیحی توجہ سے یادِ رفتگاں کی تقریب روبہ عمل لائی جائے گی۔ یہ سب بلند پایہ شخصیات تھیں۔ ذاتی اوصاف، سماجی خدمات اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے علاوہ سی این اے سے ان کی والہانہ وابستگی اور سرگرم کردار لائق ِ تحسین اور ناقابل ِ فراموش ہے۔ مْرورِ ایام کی وہ محفلیں اور محبتیں یاد آتی ہیں تو قلب پر کَرب کی عجیب کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ غم سے کلیجا منہ کو آتا ہے……!

کچھ رنگ ہے گزرے لمحوں کا

کچھ  اشکوں کی  باراتیں ہیں

کچھ بْھولے بسرے چہرے ہیں

کچھ  یادوں کی  برساتیں ہیں

رؤف صاحب اپنے افکار، نظریات اور خیالات کے حوالہ سے کھلی کتاب کی مانند بڑے واضح اور سہل اگیں شخصیت کے حامل تھے۔ تصنع اور بناوٹی ملمع کاریوں سے آزاد، وہ ہر طرح کے لوچ پوچ رویوں، مبہم انداز اور لنج منج اطوار سے مبرا انسان تھے۔ مزاجاً نہایت سادہ اور طبعاً بہت معصوم……ان کی زبان اور ضمیر، سوچنے اور کہنے میں کوئی تفاوت تھا اور نہ قول و فعل میں کہیں تضاد…… ڈنکے کی چوٹ پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے اور ببانگِ دہل، دل کی باتیں زبان پر لے آتے تھے۔ موقع و محل اور مصالح کی مْقتضیات سے ماورا وہ اپنے بیانئے کی بھرپور وکالت کرنے کی خْو رکھتے تھے۔ بارہا یوں ہوا کہ مجلس نشین شرکاء گفتگو کو خفا کر بیٹھتے تھے۔ سی این اے کی نشستوں میں بھی کئی دوست آزردہ خاطر ہوئے اور رؤف صاحب کے تلخ لب و لہجے کے باعث فورم سے کنارا کشی اختیار کر لی۔ ایسے مواقع کا منظر عموماً بہت جلد موقوف ہو جاتا تھا۔ دل کا سچا اور من کا اجلا انسان لمحات بھر میں برف کی طرح پگھل کر تلافیء مافات کا مجسمہ دکھائی دیتا تھا۔

”یار معاف کر دو“ حضور! دیکھیں نا میں ہاتھ جوڑتا ہوں، میری غلطی ہے۔ میرے بھائی! مانتا ہوں کہ مجھے تلخ لہجے کا مرتکب نہیں ہونا چاہئے تھا” وغیرہ وغیرہ جیسے جملے  مکارمِ اخلاق کا حَسین مظہر ہیں اور ایسا وتیرہ انکے شخصیتی اوصاف کا جْزوِلاینفک تھا۔ یہ ان کا بڑا پن تھا کہ روٹھے دوستوں کو منانے اور اپنانے میں زیادہ دیر نہیں لگاتے تھے۔

طبعاً رؤف صاحب سنجیدہ اور فطرتاً ایک پختہ مزاج انسان تھے مگر ماحول کی مناسبت سے تفنن آمیزی اور خندہ انگیزی میں بھی لاجواب تھے۔ بذلہ سنجی اور لطیفہ گوئی کی ایسی قدرت کہ بولتے تو سماں باندھ دیتے۔ پوری محفل قہقہے بار اور راحت بخش رنگوں میں ڈھل جاتی۔ اس طرح شعر و سخن کے حوالہ سے بھی وہ اعلیٰ ذوق اور کمال قوتِ حافظہ کے مالک تھے۔ نئے اور پرانے شعرا کا کلام ایسا ازبر کہ سامعین عَش عَش کر اٹھتے۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment