0

جانے والے تو ہمیں یاد بہت آئے گا

جانے والے تو ہمیں یاد بہت آئے گا

خالد شہزاد میرادوست میرابھائی میرا کولیگ ایک صاف ستھرے دل ودماغ کا مالک بچپن سے لے کر آخری سانس تک میرا ساتھ دینے والا، میرے ہر کام میں ہاتھ بٹانے والا ہر کٹھن اور مشکل مرحلے میں مجھ سے پہلے سینہ سپر ہونے والا ایک نیک دل انسان تھا صرف میرے ساتھ ہی نہیں دفتر کے ہر آدمی کے ساتھ اس کا برتاؤ برادرانہ اور مشفقانہ تھا آفس بوائے سے لے کر ہر بڑے عہدیدار تک اس کا رویہ برادرانہ اور دوستانہ ہوتا تھا جب بھی کسی کو کوئی مشکل درپیش آئی تو وہ سب سے پہلے اس کی مدد کے لئے پہنچ جاتے تھے۔ مجھ سمیت پورے دفتر کے عملے کو اب تک یقین نہیں آتا کہ اب وہ اس دنیا میں نہیں رہے۔ اب بھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ابھی وہ کہیں سے آکر اپنے مدبرانہ مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ ہمارا حال و احوال پوچھنا شروع کردیں گے۔ جب ہم نے ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال کا پراجیکٹ شروع کیا وہ پہلے روز سے ہی اس سے منسلک تھے۔ ہسپتال کے پہلے مرحلے میں جو ایک کٹھن مرحلہ تھا اس میں ان کے ماہرانہ مشوروں نے ہمارے کئی دشوار اورمشکل کاموں کو بڑی آسانی سے حل کر دیا۔ ان کی موجودگی سے ہمیں ایک ڈھارس رہتی تھی کہ اگر کوئی بھی مشکل آئی تو خالد بھائی ہیں نا!وہ ہسپتال کے کاموں میں گہری دلچسپی لینے کے ساتھ ساتھ ہسپتال میں داخل ڈائیلسز کے اور دیگر مریضوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے تھے،

ان کی دیکھ بھال کا خیال رکھنا ان کے عزیز و اقارب کو مریضوں کی خیریت سے آگاہ رکھنا ان کے معمولات میں شامل تھا حالانکہ یہ ان کا کام نہیں تھا اس کام کے لیے دیگر عملہ موجود ہے لیکن وہ اس حوالے سے کسی کی نہیں سنتے تھے اور آخروقت تک وہ اپنے اس کام کو ایک مقدس فریضہ سمجھ کرسرانجام دیتے رہے۔ کورونا وائرس کی موجودگی میں جبکہ بڑے بڑے لوگوں نے تنہائی اختیار کر لی تھی۔ خالد شہزاد اس مرحلہ میں بھی اپنے فرائض منصبی تندہی اور بڑی دیانتداری کے ساتھ ادا کرتے رہے۔ کورونا کے باعث بے روزگار ہونے والے لوگوں میں ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال ٹرسٹ کی طرف سے راشن کی تقسیم کا کام ہو یا کورونا سے تحفظ کے لئے تشہیری مہم وہ بڑی دلجمعی اور

جانفشانی سے یہ کرتے رہے۔ اس حوالے سے نہ انہوں نے کبھی تھکن کا اظہار کیا اورنہ ہی کام بند کیا۔حالانکہ وہ بلڈ پریشر اورشوگر کے مریض تھے مگر کام کے حوالے سے ان کے ماتھے پر کبھی شکن نہیں آتی تھی اوروہ بڑی تندہی سے اپنے امور سرانجام دیتے رہے اپنی زندگی کے آخری ایام میں بھی وہ اپنے کام معمول کے مطابق ادا کرتے رہے۔ وہ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ایک مخلص ساتھی تھے اور ڈاکٹر قدیر اکثر ان کے کاموں کو سراہتے تھے جس پروہ افتخار محسوس کرتے تھے۔ خالد بھائی ماضی اور حال کا ایک خوبصورت امتزاج تھے رواداری، ملنساری، خلوص اور پرانی روایات کا امین ہونے کے ساتھ ساتھ وہ حالات حاضرہ پر بھی پوری دسترس رکھتے تھے۔ سماجی اوررفاہی امور کے ساتھ ساتھ وہ نئی نسل کی سماجی اورثقافتی ضروریات اور تقاضوں سے بھی بہرہ ور تھے اور سماجی، ثقافتی تقریبات میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے اور نوجوانوں کے مثبت اورتعمیری کاموں میں ان سے تعاون کرتے رہتے تھے۔

جب ہم نے ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال کے 400سو بستروں پر مشتمل آٹھ منزلہ نئی عمارت کی تعمیر شروع کی تو خالد مرحوم و مغفور چونکہ رئیل سٹیٹ بزنس سے بھی وابستہ رہتے تھے اور نئی عمارت کے تعمیری اسلوب اورضروریات کو کماحقہ سمجھتے تھے اور ایسے ایسے مشورے دیتے کہ اچھے بھلے انجینئر حیران رہ جاتے تھے۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ یہ دنیا عارضی پڑاؤ ہے اورہر ذی نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے تو محسوس یہ ہوتا ہے کہ خلد آشیانی خالد شہزاد کو لاشعوری طورپر شاید یہ علم ہوچکا تھاکہ اس عارضی دنیا میں ان کاوقت اب ختم ہوچکا ہے اس لئے وہ اپنے کاموں کو جلد ازجلد نمٹانے کی کوشش کررہے تھے وہ کسی نے خوب کہا ہے

زندگی میں دو جہاں اک وہ جہاں اک یہ جہاں

ان دوجہاں کے درمیان اک سانس کا فاصلہ

گر چل رہا ہے تو یہ جہاں گر رک گیا تو پھر وہ جہاں تندہی اور محنت اور خلوص سے کام کرنے والا خالدشہزاد جو اپنے کاموں کے سلسلے میں کبھی اپنے بلڈ پریشر اور شوگرکو خاطر میں نہ لاتا تھا ہارٹ اٹیک کا شکار ہوکر اپنے خالق حقیقی سے جا ملا اوریہ اپنے اللہ کے پاس جانے کا ایک بہانہ تھا ان کو جمعۃ المبارک کا دن ملا جس پرتمام علمائے دین کا اتفاق ہے کہ اس اہم روز اپنی جان جان آفریں کے سپرد کرنے والا عذاب اور آزمائش قبر سے محفوظ رہتا ہے۔ خالد بھائی یقینا آپ اپنے اعمال نیک کی بدولت شفقت رسول اکرمﷺ سے فیضاب ہوکر جنت کے اعلیٰ درجہ پر مقیم ہوں گے!

جانے والے تو ہمیں یاد بہت آئے گا

آنکھ سے دورسہی دل سے کہاں جائے گا

مزید :

رائےکالم





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں