Home » تعلیمی نظام تباہی کے دہانے پر؟

تعلیمی نظام تباہی کے دہانے پر؟

by ONENEWS

تعلیمی نظام تباہی کے دہانے پر؟

پاکستان کا تعلیمی نظام پہلے ہی دُنیا بھر کی یونیورسٹیوں کے معیار کا تصور نہیں کیا جاتا۔ سرکاری تعلیمی اداروں کی کارکردگی بھی ہمیشہ سوالیہ رہی ہے، پرائیویٹ تعلیمی اداروں سے لاکھ اختلاف کے باوجود اس کی کارکردگی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، نجی تعلیمی اداروں نے عالمی سطح پر بھی پاکستان کی سفید پوشی کا بھرم کسی نہ کسی سطح پر برقرار رکھا ہوا ہے اس کے باوجود دو کروڑ سے زائد بچے بچیاں اپنے لئے تعلیم کے دروازے کھولنے کے منتظر ہیں۔2018ء کے انتخابات میں موجودہ حکومت کی طرف سے دکھائے گئے خواب بڑی اہمیت کے حامل تھے۔ تحریک انصاف کا گزشتہ 22سال سے تسلسل سے لگایا جانے والا نعرہ یکساں نصاب کا نعرہ تھا، جس نے تحریک کے منشور کی مقبولیت میں بڑا اضافہ کیا تھا۔ تحریک انصاف کی حکومت نے یکساں نصاب تعلیم کے نعرے کو عملی جامعہ پہنانے کے لئے اپنے سب سے ذہین اور مدبر رکن قومی اسمبلی چودھری شفقت محمود کو یکساں نصاب تعلیم کا مشکل ترین ٹاسک دے کر وفاقی وزیر تعلیم مقرر کیا اور انہیں یکساں نصاب تعلیم کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے پوری طرح بااختیار بنایا گیا، ان کا عمل قابل ِ ستائش تھا کہ انہوں نے مشکل ترین کام کی تکمیل کے لئے حلف اٹھاتے ہی شروع کیا اور اس کے لئے مشاورتی عمل کو بھی آگے بڑھایا،

مگر ان کے تیز ترین اقدامات کے آگے کورونا سیسہ پلائی دیوار بن کر2020ء میں سامنے آیا اور ان کے اخلاص سے شروع کئے گئے یکساں نصاب تعلیم کے مشن کو نظر لگ گئی، مَیں بڑے محتاط انداز میں  نظر کا لفظ استعمال کر رہا ہوں ورنہ تنقید کرنے والوں نے تو ان کے خلاف دلائل کے ساتھ جو پنڈورا بکس کھولا ہے،اس نے تو یکساں نصاب تعلیم کے نام پر شروع ہونے والی عظیم تحریک کو ہی مشکوک بنا دیا ہے،اساتذہ نے علیحدہ سوال اٹھائے ہیں، پبلشر علیحدہ رو رہے یں، سب سے زیادہ تنقید اُس وقت درست نظر آئی جب وفاقی وزیر تعلیم کی طرف سے یہ بات سامنے آئی کہ یکساں نصاب تعلیم سرکاری تعلیمی اداروں اور مدارس کے طلبہ کے پرائمری سطح کے لئے ہو گا،

حالانکہ ملک بھر میں سرکاری تعلیمی اداروں کی تعداد نجی تعلیمی اداروں کے مقابلے میں کم ہے۔ اہل ِ پاکستان کو سب سے زائد شکایات  نجی تعلیمی اداروں میں طرح طرح کے پڑھائے جانے والے نصاب اور مہنگے ترین سلیبس ہیں اللہ کرے میرے تمام خدشات غلط ثابت ہوں، کہا جا رہا ہے یکساں نصاب تعلیم کا ایجنڈا دراصل دینی مدارس کے طلبہ کو نیٹ میں لانے کا پروگرام ہے اگر تحریک انصاف کی حکومت یکساں نصاب تعلیم کے مشن کی تکمیل کے لئے اتنی ہی مخلص ہوتی تو عوام  کی مشکلات کو سامنے رکھتے ہوئے سب سے پہلے پرائیویٹ سکولوں کے نصاب کو یکساں کرنے کے لئے اقدام کرتی اور مہنگے نصاب سے ستائے ہوئے عوام کو ریلیف ملتا، بات ہو رہی تھی کہ تحریک انصاف کی حکومت کی طرف سے اپنے انتخابی نعرے اور منشور پر عمل درآمد کی۔شومی  ایں قسمت تحریک انصاف کی حکومت یکساں نصاب تعلیم کے خواب کو عملی تعبیر دینے کے قریب تھی کہ کورونا کی وبا نے قوم کو آن گھیرا اور لاک ڈاؤن ہو گیا،تعلیمی ادارے بند ہو گئے اور فروری سے نومبر تک پورا پاکستانی تعلیمی نظام ہچکولے کھاتا رہا۔

پاکستانی تعلیمی نظام میں نجی شعبہ کا کردار زیادہ اہم رہا ہے اِس لئے بغیر منصوبہ بندی اور بغیر مشاورت کے تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا نقصان بھی سب سے زیادہ پرائیویٹ سیکٹر کو ہوا،15 نومبر تک کی رپورٹ کے مطابق صرف پنجاب میں 11ہزار سے زائد سکول بند ہو چکے ہیں، چھوٹے چھوٹے اداروں کا دیوالیہ نکل چکا ہے، بڑی بڑی چین بھی اپنی برانچز کو محدود کرنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔ہزاروں کی تعداد میں سکولوں کی بندش کی وجوہات تلاش کرنے کی کوشش کی گئی تو پتہ چلا لاک ڈاؤن میں حکومتی دعوے، نجی تعلیمی اداروں کو ریلیف، قرضے دینے، ٹیکس معاف کرنے کے سارے پروگرامات زبانی جمع خرچ تک محدود تھے، نجی تعلیمی اداروں کو نہ کرایوں میں ریلیف ملا، نہ بجلی کے بلوں میں حکومت نے والدین کو بچوں کی فیسوں کی ادائیگی کو معمول پر لانے کے لئے کردار ادا کیا، نہ بے روزگار ہونے والے ہزاروں اساتذہ اور چھوٹے ملازمین کے لئے کوئی ریلیف پیکیج دے سکے۔ رہی سہی کسر تعلیمی نظام کی تباہی پر امتحانی نظام یکسر ختم کر کے پوری کر دی گئی اور گھر بیٹھے بچوں کو اگلی کلاسوں میں پرموٹ کر کے پوری کر دی گئی۔

المیہ یہ بھی رہا حکومت نے کسی جگہ اپنی غلطی تسلیم نہیں کی، سات ماہ میں مضبوط نظام تعلیم سرپرستی اور منصوبہ بندی اور پیش بندی نہ ہونے کی وجہ سے تنکوں کی طرح بہہ گیا، افسوسناک پہلو یہ ہے سات ماہ میں ہزاروں سکولوں کی بندش، ہزاروں اساتذہ اور ملازمین کی بے روزگاری سے حکومت نے سبق سیکھنے کی بجائے 26نومبر سے ایک دفعہ پھر گزشتہ روایت کو آگے بڑھایا ہے، اپوزیشن اور بہت بڑے حلقے موجودہ تعلیمی اداروں کی بندش کو کورونا سے زیادہ مارچ میں ہونے والی سینیٹ کے الیکشن کے لئے اپوزیشن کی منصوبہ بندی کو ناکام بنانے کی تحریک قرار دے رہے ہیں۔اللہ کرے میرے سمیت اپوزیشن کے الزامات بے بنیاد ثابت ہوں اور قوم کی کورونا سے جان چھوٹ جائے،حکومت کو26نومبر سے24دسمبر تک کی چھٹیوں اور24 دسمبر سے10جنوری تک کی چھٹیوں کو مفید بنانے کے آن لائن پروگرام سکولوں کے لئے بغیر سود قرضوں کے اعلان اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو کرایہ اور بجلی کے بلوں میں ریلیف اور بچوں کی فیسیں نہ آنے کی صورت میں اساتذہ کو تنخواہوں کی ادائیگی کے پروگرام پر عمل درآمد کی توفیق عطا فرمائے۔ سندھ حکومت کی سیاست اپنی جگہ، وفاقی حکومت کے اقدامات اپنی جگہ،

مگر پنجاب کے وزیر تعلیم کی باتیں بھی اہم ہیں جن میں مراد راس صاحب فرماتے ہیں، تعلیمی اداروں کی بندش کافی نہیں، بچے بچیوں کے لئے آن لائن نظام کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ ان کے سیر سپاٹے، شاپنگ مال،بازاروں اور ہوٹلز میں جانے پر بھی پابندی کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ ہوم ورک کے 50نمبر اور آن لائن کلاسز کے نمبرز کی تقسیم بھی زبانی جمع خرچ نہیں ہونا چاہئے، حکومت کو عوام کی مالی مشکلات کو سامنے رکھنے ہوئے ان کی انٹرنیٹ کی مفت سہولت اور بچوں کے لئے لیپ ٹاپ کی مفت فراہمی کے پروگرام پر بھی توجہ دینا ہو گی۔اگر حکومت یکساں نصاب تعلیم کے خواب کو واقعی عملی طور پر نافذ کرنا چاہتی ہے اس کو سرکاری سکولوں اور مدارس تک محدود کرنے کی بجائے سرکاری اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں بھی یکساں طور پر نافذ کرنا ہو گا، پرائیویٹ تعلیمی اداروں سے بہتر انداز میں استفادہ کرنے کے لئے ان کے لئے عملی ریلیف پیکیج وقت کی ضرورت ہے۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment