Home » تحریک روکنے کیلئے بیرونی دباؤ؟

تحریک روکنے کیلئے بیرونی دباؤ؟

by ONENEWS

تحریک روکنے کیلئے بیرونی دباؤ؟

پی ڈی ایم کی احتجاجی تحریک کا زور توڑنے کے لیے حکومت نے کم وبیش تمام دستیاب آپشنز استعمال کرکے دیکھ لیے، اگر کوئی بہت زیادہ سخت کارروائی نہیں کی گئی تو یہ کوئی احسان نہیں، صورتحال پر پوری طرح سے نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ ریاستی طاقت کے استعمال میں کی گئی کوئی ایک بے احتیاطی ہی بحران کو بے قابو بنا سکتی ہے، حکومت اور اس کے سرپرستوں کا سارا زور اسی بات پر رہا ہے کہ پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتوں سے الگ الگ رابطے کیے جائیں،الگ الگ پیشکشوں کے ذریعے سب کو مصروف رکھا جائے تاکہ احتجاجی تحریک کا زور کم کرکے سمت ہی تبدیل کردی جائے، اس حوالے سے حکومت کو سب سے بڑا ریلیف اس وقت ملا جب پیپلز پارٹی نے اپنی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں مسلم لیگ ن اور جے یو آئی کی قیادت کے متعلق طنزیہ باتیں کیں، ساتھ ہی یہ بڑا فیصلہ بھی سامنے آگیا کہ نہ صرف قومی و صوبائی اسمبلیوں کی خالی ہونے والی نشستوں پر ضمنی انتخابات بلکہ سینٹ کے الیکشن میں بھی حصہ لیا جائے گا، یہ اعلان اگرچہ غیر متوقع نہیں تھا مگر اس سے پی ڈی ایم کو دھچکا لگا، اتحاد بچانے کی پالیسی کے تحت مسلم لیگ ن اور جے یو آئی نے نہ چاہتے ہوئے بھی اس فیصلے کی حمایت کردی۔

دیکھنا تو یہ ہے کہ پی ڈی ایم کا مقدمہ کیا ہے؟ تمام جماعتیں اس بات پر نہ صرف متفق ہیں بلکہ باقاعدہ تحریری طور پر اقرار بھی کر چکی ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان سرے سے فریق ہی نہیں، سارا مسئلہ ان کو لانے والے ہیں، پی ڈی ایم کے گوجرانوالہ کے پہلے جلسے میں جب نواز شریف نے اسٹیبلشمنٹ کی قیادت کے نام لے کر نشاندہی کی تو تمام جماعتوں نے اس اقدام کی توثیق کی، کراچی کے جلسے میں نواز شریف کی تقریر نہ ہوسکی تو اعتزاز احسن نے ایک نجی ٹی وی پر دعویٰ کیا جی ایچ کیو سے ایک بریگیڈیئر نے نواز شریف کو لندن فون کرکے وارننگ دی، اب وہ کسی کا نام نہیں لیں گے، اعتزاز احسن کا یہ دعوی غلط ثابت ہوا اور کوئٹہ کے اگلے ہی جلسے میں نواز شریف نے پھر نام لے دئیے،اسی دوران مختلف ذرائع سے یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ مقتدر حلقوں کی جانب سے پی ڈی ایم کو پیغام دیا جارہاہے کہ کسی کا نام نہ لیا جائے، ملک کے کسی بھی شہر میں اپوزیشن کی ریلیاں اور جلسے روکنے میں ناکامی کے بعد حکومت نے اپنا پورا زور بدنام زمانہ“ مثبت خبریں ڈاکٹرائن”پر لگایا، تازہ مثال بہاولپور کی ریلی ہے، ایک عرصے بعد جنوبی پنجاب میں اتنا بڑا شو ہوا جو خود اپوزیشن کی اپنی توقعات سے زیادہ ہے،ادھر حکومت اور ہمنوا میڈیا اسے ناکام قرار دینے کا راگ الاپ رہا ہے،

منظم انداز میں یہ خبر پھیلائی جارہی ہے کہ سعودی عرب نے نواز شریف کو اپنے ہاں آنے اور رہائش اختیار کرنے کی دعوت دی ہے،اگر یہ بات درست مان لی جائے تو پاکستان کی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے لیے اس سے بڑا ریلیف کیا ہوگا کہ اسٹیبلشمنٹ کی قیادت کے نام لے کر زبردست ارتعاش پیدا کرنے والی موثر ترین آواز سرور پیلس جدہ جیسی رہائش گاہ میں بند ہوکر خاموش ہو جائے،ن لیگ اس حوالے سے بات نہیں کررہی،شاید یہ سوچا جارہا ہے کہ یہ تو ایک طرح سے جلا وطن سابق وزیر اعظم کی بین الاقوامی اہمیت کی تسلیم کرنے والی بات ہے،ویسے سوال تو یہ ہے کہ نواز شریف برطانیہ کو چھوڑ کر سعودی عرب میں قیام آخر کریں گے ہی کیوں؟لندن میں انہیں علاج معالجے کی ہی نہیں رابطوں اور سیاست کے لیے بھی بہترین سہولتیں میسر ہیں، ساری دنیا کو پتہ ہے کہ پاکستان کے حکمران نواز شریف اور انکے خاندان اور پارٹی کے درپے ہیں، اس بات کا کوئی امکان ہی نہیں کہ نواز شریف کو برطانیہ چھوڑنے پر مجبور کیا جاسکے،سو یہ کہا جاسکتا ہے نواز شریف سعودی عرب گئے بھی تو ادائیگی عمرہ کے لیے جائیں گے،اس صورت میں ان کی وہاں اہم سعودی شخصیات سے ملاقاتیں بھی ممکن ہیں،اس سے زیادہ کچھ نہیں،لندن چھوڑ کر جدہ میں قیام کا سیدھا مطلب حکومت پاکستان کو این آر او دینا ہوگا،سب سے پہلے تو یہ سمجھ لینا ہوگا کہ سعودی عرب سے پاکستان کے وہ پہلے جیسے تعلقات نہیں رہے،  سفارتی محاذ پر اتنی فاش غلطیاں کی گئیں کہ جب معاملات معمول پر لانے کے لئے اسٹیبلشمنٹ کی قیادت خود ریاض گئی تو ان کوپذیرائی نہیں ملی،ایک اور بڑی وجہ عرب ممالک میں بھارت کا تیزی سے بڑھتا ہوا اثر و رسوخ ہے،سعودی عرب اپنے بلاک کو مضبوط بنانے میں مصروف ہے، قطر سے تعلقات بحال کرنے سے بہت سازگار پیغام ملا ہے، مقام افسوس کہ دنیا اور دوست ممالک اتحاد کی راہیں کشادہ کر رہے ہیں، ایک ہم ہیں کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اندرونی تقسیم میں اضافہ کر رہے ہیں، سارا زور اور صلاحیتیں اس پر صرف ہو رہی ہیں کہ سیاسی مخالفین کو رسوا کیسے کیا جائے،

اس مقصد کے لیے میڈیا اور ترجمانوں کی فوج کو ہی نہیں بلکہ تمام ملکی ادروں کو بے دردی سے استعمال کیا جارہا ہے، ایک پیج کے سیٹ اپ آنے کے بعد بہت بڑے پیمانے پر ہونے والی کرپشن نے ملک کی چولیں ہلا دی ہیں، حکومتی طبقے اجناس سے املاک تک ہر طرح کی بدعنوانی میں ملوث ہیں، ایک سے بڑھ کر ایک سکینڈل سامنے آرہا ہے مگر کوئی نوٹس لینے والا نہیں، احتساب کے نام پر ملکی تاریخ کا شرمناک ترین انتقامی ایجنڈا پورا کیا جارہا ہے، ایک طرف ملکی سلامتی کو لاحق خطرات کے واسطے دئیے جارہے ہیں، دوسری جانب اہم عہدوں پر باہر سے آنے والے مشکوک افراد کو لاکر بٹھا دیا گیا ہے، اپوزیشن جماعتوں کو یقین ہے کہ گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کی بات محض جھانسہ ہے،سو وہ دھوکہ کھانے پر تیار نہیں، صلح صفائی کے لیے رابطے اندرونی ہوں یا بیرونی ایک آدھ پارٹی توپیچھے ہٹ سکتی ہے مگر یہ ممکن نہیں اپوزیشن جماعتوں کی غالب اکثریت ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائے،داخلی صورتحال کی طرح ہماری خارجی پوزیشن بھی اچھی نہیں، بہتر ہوگا کہ حکمران طبقہ دوست ممالک کے حوالے سے محتاط طرز عمل اختیار کرے اور اپنے متعلقین کو بھی پراپیگنڈہ کرنے سے روکے، جو مسائل خود پیدا کیے ہیں ان کا خمیازہ بھی خود ہی بھگتنا ہوگا۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment