Home » تحریک انصاف کے دھرنوں کی شان: نظریاتی خواتین نظر انداز

تحریک انصاف کے دھرنوں کی شان: نظریاتی خواتین نظر انداز

by ONENEWS

فوٹو: اے ایف پی

تحریک انصاف میں خان صاحب کے ساتھ تبدیلی کے جذبے سے سرشار کراچی کی خواتین نے بہت ہی متحرک اور مثبت  کردار ادا کیا۔ خان صاحب کے دھرنے کے دوران شہر قائد کی خواتین کا کردار قابل ستائش اور لازوال رہا اور ہمیشہ خان صاحب ان کو خراج تحسین پیش کرتے رہے ہیں۔ ہر ریلی، جلسے، دھرنے اور مارچ میں یہ مردوں کے شانہ بشانہ جدوجہد کر تی رہی ہیں۔ الیکشن کے دوران بانی خواتین کو نظر انداز کیا گیا اور الیکٹیبلز کے نام پر پارٹی میں نووارد ہونے والوں کو ٹکٹ دیے گئے۔

خواتین کی مخصوص نشستوں پر حلیم عادل شیخ نے اپنی پرانی ساتھی دعا بھٹو جو مسلم لیگ ق میں آفس سیکریٹری کا کام کیا کرتی تھی انکو رکن سندھ اسمبلی بنوایا۔ دعا بھٹو نے بھی حلیم عادل شیخ کے پی ٹی آئی میں آنے کے بعد پارٹی جوائن کی تھی اور آج وہ رکن سندھ اسمبلی بھی بن گئی۔

اب جبکہ تحریک انصاف کی حکومت کو 2 سال مکمل ہوچکے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ تنظیمی عہدے بھی بعد میں شامل ہونے والی خواتین کو دیے جارہے ہیں جبکہ بانی خواتین اراکین منظر سے غائب ہیں اور انکی جگہ حال ہی میں آنے والی خواتین نے لے لی ہے۔ تفصیلات کے مطابق لاہور سے تعلق رکھنے والی فضاء ذیشان جو کہ کسی کرنل کی زوجہ ہے ان کو خواتین ونگ کا صدر بنا دیا گیا ہے۔ اسی طرح ارم بٹ  2018میں پیپلز پارٹی چھوڑ کر تحریک انصاف میں آئی تھی اور کوئی عہدہ نہ ملنے پر پارٹی کو خیر آباد کہہ کر چلی گئی تھی حال ہی میں عمران اسماعیل دوبارہ لے کر آئے اور انہیں جنرل سیکریٹری وومین ونگ بنا دیا گیا۔ متحدہ قومی موومنٹ چھوڑ کر آنے والی لیلی پروین جن کا تعلق ہزارہ ڈویژن سے ہے اور 2018 الیکشن کے بعد پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی ان کو ایڈیشنل سیکریٹری کا منصب دے دیا گیا ہے جبکہ اس کے برعکس شاہین آپا جو کہ خواتین ونگ کی صدر تھی ان کو کراچی کی خواتین ونگ کی نائب صدر کا عہدہ دیا گیا ہے۔ اسی طرح ایک اور بانی رکن ہے جو کہ خواتین ونگ کی نائب صدر تھی ان کو ڈسٹرکٹ صدر کا عہدہ دیا گیا تھا جو انہوں نے لینے سے انکار کردیا اور آج کل گمنامی کی زندگی گزار رہی ہیں۔ سابقہ صدر حیدرآباد سیدہ تسنیم زہرہ، جنہوں نے دھرنے کے دوران کفن پہن کر خان صاحب کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا تھا آج انکو دیوار سے لگا دیا گیا ہے اور ان کو بھی باغی اور غدار کا لقب دیا جا رہا ہے۔

نظریاتی رکن میر سارہ علی ملاح کے مطابق تنظیم سازی میں پرانے لوگوں کو آگے لانا چاہیے تھا مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ پارٹی پر دوسری پارٹی سے آئے ہوئے لوگ قابض ہیں جن بہنوں نے اپنی پوری زندگی تحریک انصاف کے نام کر دی آج وہ گمنامی کی زندگی گزار رہی ہے۔ ہماری وہ خواتین جنہوں نے خان کے ساتھ جدوجہد کی  کراچی کے ایسے علاقوں کو میں کام کیا جہاں لوگ جانے سے بھی کتراتے تھے حلیم  عادل شیخ کی وجہ سے سائیڈ لائن ہوچکے ہیں۔ نظریاتی خواتین کارکنان کو تحفظات اسی بات پر ہے کہ جو لوگ حال ہی میں پارٹی میں آئے ہیں ان کو عوامی عہدے کیوں دیے جارہے ہیں۔

تحریک انصاف کی نظرانداز کی جانے والی خواتین کا کہنا ہے کہ جو نظریاتی لوگ متحرک تھے اور خان صاحب کے وفادار تھے  ان کو سائیڈ لائن کیا جارہا ہے اور ہر رہنماء اپنے جاننے والوں اور نورنظر خواتین کو اوپر لایا جا رہا ہے جس سے صاف واضح ہے کہ پارٹی کے عزائم کو ایکطرف رکھ کر صرف و صرف اپنے مقاصد کیلئے استعمال کیا جائیگا۔ سیاسی جماعتوں کے اسی رویے کی  وجہ سے معتبر اور سمجھدار خواتین سیاست میں نہیں آتی ہے کیونکہ یہ سوچ مردوں کے معاشرے کی عکاسی کرتا ہے کہ جس میں عورت کی اپنی انفرادی سوچ کو پس پشت ڈال کر اُسے شو پیس کو طور پر پیش کیے جانے کا کہا جاتا ہے۔ جب تک معاشرتی رویوں میں تبدیلی نہیں آئے گی سیاست میں بھی خواتین کے کردار کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا ہے۔

.

You may also like

Leave a Comment