Home » بے حس حکومت بے لگام مہنگائی مافیا اور بے بس عوام

بے حس حکومت بے لگام مہنگائی مافیا اور بے بس عوام

by ONENEWS

بے حس حکومت، بے لگام مہنگائی مافیا اور بے بس عوام

مہم چلی ہوئی ہے کہ انڈے کھانا بند کر دیں، کم از کم سات دن کے لئے مہنگے انڈے بیچنے والے فارم مالکان کا دماغ ٹھکانے آ جائے گا۔ سوشل میڈیا پر یہ پوسٹیں بھی لگ رہی ہیں کہ کرپٹ انڈہ 8 روپے کا تھا، ایماندار انڈہ 20 روپے کا ہو گیا ہے۔ کچھ ستم ظریف یہ بھی کہتے ہیں کہ جب وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ گھروں میں مرغیاں پالو، انڈے بیچو، تو ان کا مذاق اڑایا گیا تھا، اپوزیشن تو لٹھ لے کے ان پر ٹوٹ پڑی تھی کہ وزیر اعظم کہاں سے کہاں ملک کو لے آیا ہے اب جب مرغی کا گوشت اور انڈے مہنگے ہوئے ہیں تو سب دہائی دے رہے ہیں پھر کہتے ہیں عمران خان کو سیاست نہیں آتی، معیشت کا کچھ علم نہیں، آج گھرگھر مرغیاں پل رہی ہوتیں تو ہر گھر میں انڈے اتنے وافر ہوتے کہ شاید برآمد کرنے پڑ جاتے، سردیوں میں صبح ناشتے کے ساتھ انڈہ نہ ملے تو یوں لگتا ہے باسی کڑہی سے ناشتہ کر رہے ہیں، اب ایسے موسم میں یہ مشورہ دیا جا رہا ہے کہ انڈوں کا ایک ہفتے کے لئے بائیکاٹ کر دو، فارم مالکان کا یہی علاج ہے کہ انڈے ان کے فارموں پر پڑے پڑے سڑتے رہیں اور وہ آئندہ کے لئے مہنگا انڈہ بیچنے سے توبہ کر لیں یہ توقع ایک ایسے ملک میں کی جا رہی ہے، جہاں لوگ جانتے بوجھتے ہوئے بھی اسے ہی دوبارہ ووٹ دیتے ہیں جس نے منتخب ہو کر کرپشن کی ہوتی ہے اور عوام کے کام بھی نہیں کئے ہوتے۔ اگر یہاں با شعور صارف ہوتے تو کسی کی جرأت نہ ہوتی کہ چینی کو 55 روپے سے ایک سو دس روپے پر لے جاتا، آٹا نایاب کرتا، پٹرول سستا ہونے  پر غائب کر سکتا۔ ہم سب تو مافیاؤں کی نظر میں بھیڑ بکریاں ہیں، جنہیں جیسے چاہے ہانکا جا سکتا ہے۔

پی ڈی ایم نے مردان میں مہنگائی کے خلاف ریلی نکالی، مریم نواز اور مولانا فضل الرحمن نے دھواں دھار تقریریں کیں۔ مہنگائی کا رونا رویا حکومت کو ناکام قرار دیا۔ عمران خان کے اس اعتراف کی مثالیں دیں جو انہوں نے حکومتی تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے اپنی ناکامی کے بارے میں کیا میں سوچ رہا تھا کہ ہر بات کو حکومت کے کھانے میں کیوں ڈال دیا جاتا ہے، کیوں مریم نواز اور مولانا فضل الرحمن نے یہ نہیں کہا کہ عوام مصنوعی مہنگائی کرنے والوں کے خلاف ڈٹ جائیں۔ مہنگے انڈے لینا بند کر دیں۔ مہنگے گوشت کا بائیکاٹ کر دیں، کیا انہیں مہنگائی اچھی لگتی ہے، کیونکہ اس کی وجہ سے وہ حکومت کے خلاف لوگوں کو سڑکوں پر لا سکتے ہیں سب نے دیکھا کہ عمران خان کی حکومت میں ہر شعبے کے اندر کارٹل مافیا سرگرم رہا ہے۔ چینی، پٹرول، آٹا، سبزیاں اور اب انڈے اور گوشت سب نے مل کر چھپائے اور پھر قیمتیں بڑھا کر سپلائی بحال کی۔ یہ ثابت کیا کہ ریاستی ادارے ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے۔ جب کارٹل بنا کر مختلف شعبوں میں موجود مافیاز کام کرتے ہیں تو حکومت ان کے سامنے بے بس ہو جاتی ہے۔ سب نے دیکھا کہ جب پٹرول 25 روپے فی لیٹر سستا کیا گیا تو کارٹل مافیا نے اس کی سپلائی روک دی، پٹرول پمپ اچانک خشک ہو گئے ہر طرف ہا ہا کار مچ گئی۔ حکومت کی کوئی دھمکی، کوئی حربہ کارگر ثابت نہ ہوا۔ سپلائی اس وقت بحال ہوئی جب حکومت نے پرانا ریٹ بحال کیا۔ وزیر اعظم عمران خان نے یہ کام کیا تو اپنی حکومت کی ساکھ بہتر بنانے کے لئے تھا مگر وہ الٹا گلے پڑ گیا اور پٹرول کی نایابی پر اسے عوام کی نفرت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس واقعہ نے حکومت کو ایسا ڈرایا ہے کہ اب وہ مہنگائی مافیا کے خلاف کوئی قدم اٹھانا ہی نہیں چاہتی اب اگر وہ انڈے سستے کرانے کے لئے ڈنڈا اٹھاتی ہے تو فارم مالکان نے انڈے غائب کر دینے ہیں پھر ہر طرف یہ دہائی مچے گی کہ عمران خان کی حکومت میں انڈے بھی نایاب ہو گئے۔ ہر طرف سے نزلہ جب حکومت پر ہی گرے گا تو وہ دبک کر بیٹھ جائے گی اور مافیاز دندناتے پھریں گے۔

لندن سے میرے ایک دوست نے خبر دی ہے کہ کورونا کی دوسری لہر آنے سے کاروبارِ زندگی بند ہو کر رہ گیا ہے لوگوں نے اشیائے ضروریہ ذخیرہ کرنے کے لئے سٹوروں کا رخ کیا تو بڑے بڑے مال خالی ہو گئے مگر مجال ہے اس افراتفری کے باوجود بھی اشیاء کی قیمتیں معمول سے بڑھی ہوں بلکہ کئی اشیاء تو سستی کر دی گئیں۔ کیونکہ زیادہ بکنے کی وجہ سے سٹور مالکان کا منافع اتنا ہی رہا، جتنا اس صورت حال سے پہلے تھا۔ ہمارے ہاں کیا ہوتا ہے اور کیا ہو چکا ہے کورونا کی وجہ سے جب لاک ڈاؤن ہوا تھا تو ایک روپے کی چیز دس روپے میں فروخت ہونے لگی تھی جو ماسک آج دس روپے کا مل رہا ہے اسے دو دو سو روپے میں بیچا گیا۔ صارفین کی کوئی آواز نہ ہونے کی وجہ سے جس کا جو داؤ لگا اس نے اسی طرح لوٹا۔ پس ثابت ہوا کہ عوام ہر کام کی توقع حکومت سے نہ رکھیں، حکومت چکی کے دو پاٹوں کے درمیان پس رہی ہوتی ہے اس کے سخت اقدامات سے اگر اشیاء مارکیٹ سے غائب کر دی جائیں تو عوام اسے کوسنے دیتے ہیں، مہنگی مل رہی ہو تب بھی عوام حکومت کو ہی موردِ الزام ٹھہراتے ہیں اس میں تو کوئی شک ہے ہی نہیں کہ انڈے اور مرغی کے گوشت کی مہنگائی، مصنوعی اور غیر حقیقی ہے جس کا مقصد اس لوٹ مار کے دور میں ناجائز منافع کمانا ہے وگرنہ یکدم ایسا کچھ نہیں ہوا کہ انڈے سو گنا سے بھی زیادہ مہنگے ہو جائیں۔ اب یہ توقع رکھنا کہ حکومت مہنگائی کم کرے گی، ایک بڑی خوش فہمی ہے، کیونکہ اب تک کی حکومتی کارکردگی اس بات کی گواہ ہے کہ اس شعبے میں وہ بے بسی کی تصویر بنی ہوئی ہے، حکومت بے بس ہے اپوزیشن اس بے بسی سے سیاسی فائدہ اٹھا رہی ہے اور مہنگائی کرنے والے موج کر رہے ہیں، درمیان میں پس عوام گئے ہیں اب ان کے پاس صرف یہی راستہ رہ گیا ہے مہنگی اشیاء کا بائیکاٹ کر دیں مگر ان کا ایسا اجتماعی شعور کہاں کہ ایسا کوئی کام کر سکیں۔ سو ان کا مقدر لٹنا ہے یا پھر کڑھنا، دوسرا کوئی راستہ ان کے لئے چھوڑا ہی نہیں گیا۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment