Home » بے اعتبار انتخابی عمل

بے اعتبار انتخابی عمل

by ONENEWS

اس تلخ حقیقت کو تسلیم کیے بنا چارہ نہیں کہ ہمارا انتخابی نظام بے اعتبار ہو چکا ہے،دھاندلی کے الزامات تو سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی صدارتی انتخابات میں لگائے تھے،مگر وہاں نظام اتنا مضبوط اور فول پروف تھا کہ  وہ سب الزامات پانی کا بلبلہ ثابت ہوئے۔ ہاں اگر وہاں بھی انتخابی عملہ غائب ہو گیا ہوتا، بیس حلقے گنتی سے نکل جاتے، کئی گھنٹے بعد عملے کی بازیابی ہوتی تو ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھ اتنے ثبوت لگ جاتے کہ وہ دھاندلی کا الزام ثابت کر سکتے۔ یہ کوئی آج کا قصہ تو نہیں کہ انتخابات پر انگلیاں اٹھیں،یہ سب کچھ تو ستر برسوں کی کہانی ہے۔ہر عام انتخابات کی  ایک ہی داستان ہے اور اُن کے بعد وہی دھاندلی کے الزامات اور احتجاجی تحریک کا لامتناہی سلسلہ ہے۔یہ ضرور ہے  کہ بات آگے سے آگے بڑھتی جا رہی ہے اور  نت نئی ”وار داتیں“ اس انتخابی عمل میں شامل کی جانے لگی ہیں۔مثلاً ان ضمنی انتخابات میں بعض باتیں تو وہی روایتی تھیں،یعنی تاخیر سے پولنگ، ووٹ نہ ڈالنے دینے کی شکایات، تشدد وغیرہ، لیکن عین گنتی سے پہلے پریذائیڈنگ افسروں کی تھیلوں سمیت گمشدگی پہلی بار دیکھنے میں آئی۔سوال یہ ہے کہ پریذائیڈنگ افسران کیا گنتی کے بغیر ہی دھند میں غائب ہو گئے تھے۔اگر انہوں نے پولنگ اسٹیشنوں پر گنتی کی ہوتی تو لازماً وہ45 فارم پر نتیجہ وہاں موجود پولنگ ایجنٹوں کو دیتے۔ گویا انہیں گنتی سے پہلے ہی کوچ کرنے کا حکم ملا اور پھر ساری رات وہ اَن دیکھے سفر پر گامزن رہنے کے بعد صبح نمودار ہو گئے۔

اس نئی تکنیک کے بعد تو انتخابی عمل بالکل ہی بے اعتبار ہو گیا ہے۔ اگر اسے آسانی سے ہضم کر لیا گیا تو پھر کسی بھی حلقے کے انتخابی نتیجے کو گنتی سے پہلے پریذائیڈنگ افسروں کے اغوا سے روکا جا سکے گا، پولیس بھی خاموش تماشائی بنی رہے گی اور الیکشن کمیشن بھی یہ پریس ریلیز جاری کر کے سکون سے بیٹھ جائے گا کہ آئی جی، ڈپٹی کمشنر اور کمشنر نے چیف الیکشن کمشنر کا فون نہیں سنا،جس کے باعث معلوم نہیں ہو سکا کہ اصل معاملہ کیا ہے۔ ابھی چند سال پہلے تک صرف یہ الزام لگتا تھا کہ پولنگ اسٹیشنوں کے اندر جعلی مہریں لگائی گئیں، بوگس ووٹ ڈالے گئے، اس پر کاؤنٹر فائل کے ذریعے قابو پایا گیا تو دھاندلی کے الزام کا رُخ ریٹرننگ افسروں کی طرف ہو گیا کہ انہوں نے پولنگ اسٹیشنوں کا رزلٹ بناتے ہوئے گڑ بڑ کی۔2018ء کے انتخابات میں پریذائیڈنگ افسروں کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ اپنے پولنگ اسٹیشن کا رزلٹ براہِ راست الیکشن کمیشن کو انٹرنیٹ کے ذریعے بھیجیں گے۔کچھ دیر یہ سسٹم چلا پھر اچانک بیٹھ  گیا۔ آج تک یہ راز نہیں کھلا کہ ایسا کیوں ہوا،تاہم اس کی وجہ سے انتخابی نتائج تاخیر کا شکار بھی ہوئے اور اپنا اعتبار بھی کھو بیٹھے۔اُس وقت سے لے کر آج تک اپوزیشن انتخابات کو مسترد قرار دے رہی ہے اور وزیراعظم کو سلیکٹڈ اور دھاندلی سے مسلط کردہ کہتی ہے۔ انتخابات جمہوریت کی اساس ہوتے ہیں اور ہم نے اس بنیاد کو ہی متنازعہ بنا رکھا ہے۔

ابھی براہِ راست انتخابات میں دھاندلی کا  رونا ختم نہیں ہوا تھا کہ درمیان میں سینیٹ انتخابات کی شفافیت پر بھی سوالات اُٹھ گئے۔اب یہ شدید بحث چل رہی ہے کہ سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے ہوں یا خفیہ بیلٹ کے ذریعے۔ حکومت ہر قیمت پر اوپن بیلٹ کے ذریعے یہ انتخابات چاہتی ہے کیونکہ اُس کا مؤقف یہ ہے کہ خفیہ انتخاب سے ووٹ بک جاتے ہیں، معاملہ سپریم کورٹ میں ہے،لیکن فیصلہ جو بھی ہو، جو شکوک و شبہات سینیٹ کے انتخابی عمل کی بابت پیدا ہو چکے ہیں،اُن کا خاتمہ آسان نہیں۔پاکستان کا آئین بنانے والوں کو کیا علم تھا کہ آنے والے دِنوں اور برسوں میں جمہوریت کے علمبردار کیا کیا گل کھلائیں گے۔ انہوں نے تو معاملہ ارکانِ اسمبلی کے ضمیر پر چھوڑا تھا، یہ ضمیر دولت کے آگے ڈھیر ہو جائے گا اُنہیں اس کا بالکل یقین نہیں ہو گا۔

اب سپریم کورٹ الیکشن کمیشن سے پوچھ رہی ہے کہ وہ سینیٹ کے شفاف انتخابات کیسے کرائے گا۔ اُس الیکشن کمیشن سے جو سات دہائیاں بعد بھی ایک فول پروف انتخابی نظام وضع نہیں کر سکا،جو ایک الیکشن کے بعد اگلے الیکشن تک لمبی تان کر سویا رہتا ہے اور وقت آنے پر ہڑبڑا کر اٹھتا ہے،پرانی فہرستیں نکالتا ہے، وہی الیکشن سکیم لے کر پھر رائیگاں کھیل کھیلنے کی بے سود مشق کرتا ہے۔اس سوال کا اب کون جواب دے گا کہ براہِ راست انتخابات بھی اپنا اعتبار کھو بیٹھے ہیں اور بالواسطہ انتخاب پر انگلیاں اُٹھ رہی ہیں تو اس سارے کھلواڑ کا ذمہ دار کون ہے؟ بے بسی بڑھتے بڑھتے اب اس سطح تک آ گئی ہے کہ انتظامیہ کے معمولی افسران بھی چیف الیکشن کمشنر کا فون  نہیں سنتے،حالانکہ ایک زمانے میں چیف الیکشن کمشنر کا اتنا دبدبہ ہوتا تھا کہ بڑے سے بڑا افسر سرتابی کا  سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔

الیکشن کمیشن نے این اے75 ڈسکہ کے انتخابی عمل میں جو کچھ ہوا اُس کی انکوائری کا کم دے دیا ہے،لیکن یقین واثق ہے کہ اصل کہانی کبھی سامنے نہیں آئے گی، البتہ20 پولنگ اسٹیشنوں پر دوبارہ الیکشن کا حکم دیا جا سکتا ہے۔حقائق سامنے لانے مقصود ہوں تو صرف اُن پریذائیڈنگ افسروں کو ہی میڈیا کے سامنے بٹھا دیا جائے، جنہیں گنتی سے پہلے غائب کیا گیا، وہ سب رام کہانی بیان کر سکتے ہیں، مگر ایسا نہیں ہو گا۔ سارا ملبہ انتظامیہ اور پولیس کی غفلت پر ڈال کر الیکشن کمیشن بری الذمہ ہو جائے گا۔گویا انتخابی عمل کی بے اعتباری میں ایک اور باب کا اضافہ ہو گا اور معاملات اسی طرح چلتے رہیں گے۔ کیا اس سفر کا کوئی اختتام بھی ہو گا۔ کیا کبھی ہم اُس منزل کو پا سکیں گے، جو جمہوری ممالک میں ووٹ کے تقدس سے عبارت ہوتی ہے۔کیا ہمارا مقدر یہی رہ گیا ہے کہ ہم دائرے میں سفر کرتے رہیں،انتخابات کے بعد دھاندلی کا شور اٹھے اور اگلے پانچ سال سیاسی انتشار میں گذریں۔ ارے بھائی اب بس کرو ملک کو آگے بڑھنے دو۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment