Home » بیک فٹ

بیک فٹ

by ONENEWS

پی ڈی ایم کے گوجرانوالہ جلسہ سے قبل ہی پنجاب میں خصوصاً مسلم لیگ (ن) نے نوازشریف کا نقطہ ئ  نظر پھیلانا شروع کر دیا تھا۔ جلسہ سے قبل کیپٹن صفدر کی گوجرانوالہ میں پریس کانفرنس قومی میڈیا میں تو جگہ نہ پا سکی، لیکن سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوئی۔ اس پریس کانفرنس سے مسلم لیگ (ن) کی لندن قیادت کے سیاسی نظریات کا واضح اظہار ہوتا تھا اور گوجرانوالہ جلسہ سے وہ سب سامنے آیا، جس کی تمہید باندھی جا رہی تھی۔کراچی جلسہ میں خطابات کا ایجنڈا اور فہرست پی ڈی ایم ہی کے ایک اجلاس میں طے کی گئی اور پیپلزپارٹی نے واضح طورپر میاں نوازشریف کی تقریر کی اس بنیاد پر مخالفت کی کہ مسلم لیگ (ن) کی نمائندگی مریم نواز کر رہی ہیں۔ کراچی جلسہ میں میاں صاحب کی عدم شرکت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پی ڈی ایم میں پیپلزپارٹی میاں صاحب کی سیاسی حکمت ِ عملی سے مکمل طور پر متفق نہیں ہے، لیکن اگلے ہی روز کیپٹن(ر) صفدر کی گرفتاری نے نوازشریف کی حکمت عملی کو خود مہمیز لگا دی۔ یارانِ تیزگام نے اپنے ہی قافلہ کو پیچھے چھوڑ دیا۔کوئٹہ جلسہ میں مریم نواز نے اپنے والد کی تقریر سے پہلے ایک مقدمہ قائم کر دیا اور پھر محمود خان اچکزئی اور نوازشریف نے اس مقدمہ کی وکالت کی، لیکن بلاول اس میں شریک نہ ہوئے۔ انہوں نے گلگت بلتستان جانا پسند کیا اور وہاں سے بذریعہ وڈیو لنک خطاب کیا، لیکن اپنے خطاب میں محتاط رہے اور سارا زور عمران خان کی نااہل حکومت پر لگا دیا۔ اگلے ہی روز انہوں نے نام لے کر تنقید کرنے پر اپنے تحفظات کا اظہار کر دیا۔ بلاول بھٹو زرداری کے اس رویہ سے ایک بات واضح ہو گئی کہ پیپلز پارٹی کی قیادت ریاستی اداروں کے حوالے سے مزاحمتی انداز تو اختیار کر سکتی ہے، لیکن جارحانہ بیان بازی سے گریز کر رہی ہے۔ پشاور کے جلسہ عام میں صورتِ حال اچانک تبدیل ہو گئی کہ اس روز میاں نواز شریف کی والدہ کا لندن میں انتقال ہو گیا اور مریم نواز تقریر نہ کر سکیں، لیکن اس جلسہ سے ایک روز قبل یہ اطلاع اخبارات سے مل چکی تھی کہ میاں صاحب گردوں کی بیماری کے سبب تقریر نہیں کریں گے۔ اگرچہ والدہ کے انتقال پر لندن میں ان کی نمازِ جنازہ میں  شریک تھے اور جنازہ کو کندھا بھی دیا۔ خدا مرحومہ کو دامن ِ جنت میں رکھے۔قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف اور پنجاب اسمبلی  میں قائد حزبِ اختلاف باپ بیٹے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو پانچ روز کے پیرول پر رہا بھی کیا گیا۔ اس صورتِ حال ہی میں ملتان کا جلسہ سر پر آن پنچا۔ ملتان جلسہ سے قبل بھی حکومت نے ایک ناکام ڈرامہ کھیلا۔ گیلانی کے بیٹوں کو گرفتار کیا اور پھر رہا  کر دیا۔ جلسہ کے بعد اور دوران جو کارکن گرفتار کئے گئے وہ بھی رہا کر دیئے گئے۔

اس جلسہ میں پیپلزپارٹی کی نمائندگی آصفہ بھٹو زرداری نے کی اور خوب کی۔انہیں عوام نے پُرجوش انداز میں سُنا۔ ملتان اور جنوبی پنجاب میں پیپلزپارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کا کافی زور ہے۔ وسطی پنجاب اور شمالی پنجاب کی نسبت جنوبی پنجاب میں پیپلزپارٹی اب بھی ایک توانا آواز رکھتی ہے۔اس کی وجہ جنوبی پنجاب کا جاگیردارانہ اور پیری مُریدی کا حامل سماج ہے۔

سندھ میں بھی پیپلزپارٹی کی قوت جاگیردار ہی ہیں اور سندھی قوم پرستی بھی پیپلزپارٹی کے حق میں جاتی ہے۔ ایک حوالے سے دیکھا جائے تو وفاق کے ساتھ مسلسل ٹکراؤ کے نتیجہ میں پیپلزپارٹی سندھ کی بڑی قوم پر ست جماعت بن چکی ہے اور اس کا ووٹ بنک سندھی قوم پرستی سے جڑا ہوا ہے۔ سندھ کے معتبر شاعر، دانشور اور ادیب بھی اسی جماعت سے جڑے ہوئے ہیں۔سندھ میں غریب ہاری اور مزدور کی زندگی کی حقیقت پر قوم پرستی غالب آ چکی ہے۔ یہ سوال پھر کبھی اٹھائیں گے۔ فی الحال یہ دیکھتے ہیں کہ کوئٹہ کے جلسے کے بعد مسلم لیگ(ن) کے سیاسی نُقطہ نظر کی پذیرائی اور اس کے موقف میں آہستہ آہستہ تبدیلی کیوں رونما ہو رہی ہے۔ ملتان کے جلسہ میں مریم نواز نے بھرپور تقریر کی اور پوری تقریر میں پہلے جیسی نعرہ بازی دیکھنے میں نہ آئی اور نہ ہی خود مریم نواز نے گوجرانوالہ اور کوئٹہ کے موقف کو دہرانا پسند کیا۔ حکومت نے جلسہ کے حوالے سے فوری یو ٹرن لیا اور اب لاہور کے جلسہ کے بارے میں بھی حکومت نرم رویہ اختیار کر رہی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ حکومت کسی خوفناک ٹکراؤ سے بچنے کو ترجیح دے رہی ہو، کہ کسی فساد کی صورت میں ہنگامہ آرائی ملک گیر نہ ہو جائے اور حکومت کے لئے واقعی خطرہ پیدا ہو جائے،لیکن  اصل معاملہ یہ ہے کہ اب پی ڈی ایم کی قیادت مسلم لیگ(ن) کے موقف سے دور کیوں ہٹتی جا رہی ہے اور خود  مسلم لیگ(ن) کی خاندانی قیادت بیک فٹ پر کیوں کھیلنا پسند کر رہی ہے۔ان حالات میں تو حکومت کے لئے خطرہ دکھائی دے رہا ہے۔ یہ کسی حد تک سامنے ہے، اس کا اصل علم تو جنوری ہی میں ہو گا تاہم مہنگائی اور حکومتی کارکردگی کسی طور تسلی بخش نہیں ہے۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment