Home » بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں

بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں

by ONENEWS

بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں

مَیں حال ہی میں بیٹی کی شادی کے خوشگوار فریضے سے گزرا ہوں۔ یہ تجربہ کس قدر دلگداز اور محبت آمیز ہے، اسے لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے آپ جس بیٹی کو ناز و نعم سے پالتے ہیں، اس کی ہر خواہش کو اس طرح پورا کرتے ہیں، جیسے وہ آپ کی اپنی خواہش ہو، اس کی تربیت و تعلیم اور شخصیت کی اعلیٰ تکمیل کے لئے اپنی ساری زندگی وقف کر دیتے ہیں، پھر اسے اپنے ہاتھوں سے دوسرے گھر کے لئے رخصت کرتے ہیں۔ مَیں نے جب اپنی بیٹی رابعہ نسیم کو رخصت کیا تو ہم دونوں نے یہ طے کیا تھا کہ رخصتی کے وقت روئیں گے نہیں، وہ ہنستے مسکراتے اپنی زندگی کے نئے سفر پر روانہ ہو گئی، لیکن جب مَیں گھر آیا تو مجھے اور اہلیہ کو یوں لگا کہ جیسے یہ پہلے والا گھر نہیں، سونا سونا ہے، جیسی رونق پہلے تھی اب نہیں رہی۔

اگلی صبح مَیں اٹھا تو رابعہ مجھے بہت یاد آئی۔ شکر ہے کہ گھر میں مہمان موجود تھے، وگرنہ شاید وہ آنسو جو مَیں نے رخصتی کے وقت ضبط کئے تھے، میری آنکھوں میں سیلاب بن کر امنڈ آتے۔ مجھے جس نے مبارکباد دی، ساتھ یہ بھی کہا اللہ بیٹی کے نصیب اچھے کرے۔ یکدم میرے ذہن میں یہ خیال کوندا کیا اللہ بیٹیوں کے نصیب برے بھی کرتا ہے؟ بیٹیوں کے بارے میں تو اللہ اور اس کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بہت اچھی اچھی خوشخبریاں دی ہیں کہ وہ جس گھر میں ہوتی ہیں، باعثِ رحمت بن جاتی ہیں، جو تین بیٹیوں کی تربیت کرتا ہے، اسے جنت کی بشارت بھی دی گئی ہے، پھر ہم کیوں یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ بیٹیوں کے نصیب برے بھی بنا سکتا ہے؟شاید یہ ہمارے سماج کی وہ سوچ ہے جس میں بیٹیوں کو ایک بوجھ سمجھا جاتا ہے، سسرال والے لالچی، انسانیت سے عاری اور خود غرض ہوں تو گھر آنے والی بہو کی زندگی اجیرن بنا دیتے ہیں، غالباً ایسے ہی لوگوں سے بیٹیوں کو محفوظ رکھنے کے لئے یہ دعا مانگی جاتی ہے کہ اللہ ان کے نصیب اچھے کرے۔

مجھے آج یہ سب کچھ اس لئے یاد آیا کہ مَیں تسلسل کے ساتھ آصف زرداری اور شہید بے نظیر بھٹو کی بیٹی بختاور بھٹو کی شادی کے بارے میں خبریں دیکھ رہا ہوں مجھے یوں لگ رہا ہے کہ آصف علی زرداری بھی آج اسی کیفیت سے گزر رہے ہیں، جس سے مَیں حال ہی میں گزرا ہوں، ان کی ساری سیاست ایک طرف اور بیٹی کا باپ ہونا دوسری طرف ہے اور ان دونوں پلڑوں میں سے بیٹی کا باپ ہونے والا پلڑا بھاری ہے۔ ان کے لئے تو یہ تجربہ اس لئے بھی بہت انوکھا ہے کہ انہیں بختاور کو ماں اور باپ دونوں بن کر رخصت کرنا ہے۔انہوں نے شہید بے نظیر بھٹو کے بغیر تیرہ سال بختاور کو ممتا کا پیار دے کر پالا ہے، رخصتی کے وقت ماں جب بیٹی کے ساتھ اس پر قرآن کا سایہ رکھ کر چلتی ہے تو یہ لمحات محبت و پیار کے انمٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں۔ بختاور کو ماں کا سایہ نصیب نہیں ہو گا، لیکن باپ کی شفقت اور محبت یقیناً اس کمی کو پورا کر دے گی۔ بھٹو خاندان کی اگلی نسل میں یہ پہلی خوشی ہے، لاشے اٹھانے والے ہاتھوں کو اب ڈولی اٹھانے کی سعادت مل رہی ہے۔بیٹی کسی بادشاہ کی ہو یا کسی غریب کی،

دنیاوی وسائل کے پیمانے میں فرق ہو سکتا ہے، تاہم بابل کی محبت اور ماں کی ممتا کا پیمانہ ایک جیسا ہوتا ہے۔ ابھی چند روز پہلے میرا مالی سجاد مجھے بیٹی کی شادی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہہ رہا تھا: ”مَیں نے اپنی بیوی سے کہا ہے کہ کوئی رشتہ دیکھ کر ہم اپنی بیٹی کے ہاتھ سادگی کے ساتھ پیلے کر دیتے ہیں، بیٹوں کی شادی دھوم دھام سے کر لیں گے، ابھی تو اتنے وسائل نہیں ہیں“…… پھر اس نے کہا میری بیوی یہ سن کر آگ بگولہ ہو گئی، اس نے کہا بیٹی کی شادی دھوم دھام سے ہو گی چاہے ہمیں گھر کا سامان ہی کیوں نہ بیچنا پڑے۔ایک ہی بیٹی ہے ہم اسے بھی خوشیوں سے محروم رکھیں۔ وہ کہنے لگا مَیں تو یہ سوچ کر ہی اُداس ہو جاتا ہوں کہ بیٹی ایک دن گھر سے چلی جائے گی۔ آپ دُعا کریں مَیں اس کی شادی دھوم دھام سے کروں۔ اسے سب کچھ دوں۔ مَیں نے اسے حوصلہ دیا اور کہا اللہ بیٹیوں کے معاملے میں برکت ڈال دیتا ہے۔

مجھے افسوس اس بات پر ہو رہا ہے کہ بختاور بھٹو کی منگنی اور شادی کی خبروں میں خوشی کا پہلو تلاش کرنے کی بجائے کچھ لوگ، کچھ حلقے اپنی گندی سوچ کا عکس شامل کر رہے ہیں۔ سنی سنائی، من گھڑت اور جھوٹی اطلاعات کو عام کر رہے ہیں، حتیٰ کہ معاملہ اتنا بڑھا دیا ہے کہ آصف علی زرداری اور بھٹو فیملی کو خود کئی باتوں کی وضاحت کرنا پڑی ہے۔ آپ اگر گوگل پر جائیں اور کوئی نام لکھیں تو وہ سینکڑوں لوگوں کی پروفائل کھول دیتا ہے۔ ایک بار مَیں نے اپنا نام لکھا تو کم از کم ڈیڑھ سو نسیم شاہد نکل آئے۔ بد قسمتی سے بختاور بھٹو کی شادی کے معاملے میں بھی یہی کچھ ہوا۔ ان کی منگنی کا کارڈ منظرِ عام پر آیا تو میڈیا کے متجسس لوگوں نے گوگل پر ان کے ہونے والے سسر یونس چودھری کا پتہ معلوم کرنا شروع کر دیا۔

بلا تحقیق کے یہ کہہ دیا گیا کہ یونس چودھری امریکہ میں مقیم ہیں اور تیل و سونے کا کاروبار کرتے ہیں۔بات یہیں تک نہیں رکی،بلکہ اس یونس چودھری کو ڈھونڈ نکالا،جو قادیانی ہے اور اس حوالے سے خاصی معروف شخصیت ہے۔ بس پھر کیا تھا، بے سوچے سمجھے اس بات کو عام کر دیا گیا، یہ بھی نہ سوچا کہ آصف علی زرداری جیسا جہاندیدہ شخص اپنی بیٹی کا رشتہ کسی قادیانی خاندان میں کیسے کر سکتا ہے؟ اس شرانگیز غلط فہمی کو دور کرنے کے لئے آصف علی زرداری کو خود سامنے آنا پڑا۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمن سے رابطہ کر کے ساری صورتِ حال واضح کی اور بتایا کہ محمد یونس چودھری ایک راسخ العقیدہ سنی مسلمان ہیں، جن کا حوالہ دیا جا رہا ہے، وہ کوئی اور یونس چودھری ہیں، پھر یہ حقیقت بھی سامنے آ گئی کہ جس یونس چودھری قادیانی کا حوالہ دیا جا رہا ہے، اس کا تو محمود چودھری نام کا کوئی بیٹا ہی نہیں ہے،جس کی نسبت بختاور سے طے کی جا رہی ہے۔

اس صورتِ حال نے آصف علی زرداری، بلاول بھٹو، بختاور بھٹو، آصفہ بھٹو سمیت ان کے خاندان کو کس ذہنی اذیت سے دو چار کیا ہو گا؟ ہر صاحبِ دل اس کا اندازہ کر سکتا ہے۔ خود محمد یونس چودھری کی فیملی کس پریشانی سے گزری ہو گی؟ اسے بھی ہر صاحب کردار مسلمان بخوبی سمجھ سکتا ہے۔ ہر بیٹی کی طرح ہمیں بختاور بھٹو کے لئے بھی بلندیئ بخت کی دعا کرنی چاہئے، بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں، یہ خوبصورت بات اگر ہم پلے باندھ لیں تو اس سے بہت سی برائیاں ہمارے سماج کا پیچھا چھوڑ سکتی ہیں۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment