Home » بیورو کریسی کا زوال (1)

بیورو کریسی کا زوال (1)

by ONENEWS

قوموں کی زندگی میں اُتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں پاکستان میں بھی ابتدائی سالوں میں ہماری سمت بڑی حد تک درست تھی اور دنیا سے قدم ملانے کیلئے ہم نے بہت سے نئے ادارے کافی پہلے بنا لئے تھے اور کئی شعبوں میں ہماری پیشرفت خاصی حوصلہ افزاء رہی لیکن افسوس اب بہت عرصے سے ہمارا معاشرہ زوال پذیر ہے اور نشیب کا سفر رُکتا نظر نہیں آتا۔ آج ہم ایک بہت اہم ادارے یعنی بیوروکریسی کے عروج و زوال کا ذکر کرتے ہیں۔ اگرچہ میں کافی عرصے سے اس موضوع پر کچھ لکھنے کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ میرا پروگرام یہ تھا کہ پہلے کچھ سینئر بیوروکریٹ دوستوں سے تفصیلی بات چیت ہو جائے لیکن میرا یہ مسئلہ ایک ممتاز ریٹائرڈ بیوروکریٹ مسعود مفتی کی کتاب ”دو مینار“ نے حل کر دیا ہے۔ کتاب کا موضوع ہی بیوروکریسی کا زوال ہے اور پھر یہ ایک عینی شاہد کا بیان ہے انہوں نے بات صرف اپنے مشاہدے تک محدود نہیں رکھی بلکہ اپنا کیس مضبوط بنانے کیلئے کئی ساتھیوں کی تحریروں اور واقعات سے بھی مدد لی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے اسلام آباد کلب میں سابق آئی جی پولیس اور دانشور ذوالفقار چیمہ صاحب کی کتاب ”دو ٹوک باتیں“ کی تعارفی تقریب تھی صدارت مسعود مفتی صاحب کی تھی۔کتاب پر اظہار خیال کرنے والوں میں میں بھی شامل تھا۔ اتفاق سے میں سٹیج پر مفتی صاحب کے پہلو میں بیٹھا تھا مجھے ایک عجیب سا احساس ہوا۔ مائیک میرے سامنے آیا تو میں نے زیربحث موضوع پر بات کرنے سے پہلے بتایا کہ جب میں گورنمنٹ کالج فیصل آباد میں غالباً ایف اے کا طالب علم تھا تو مسعود مفتی صاحب فیصل آباد ضلع کے ڈپٹی کمشنر تھے اور آج مجھے ایک خاص موقع پر اُن کے پہلو میں بیٹھنے کا موقع ملا ہے۔

مفتی صاحب نے زوال کی یہ کہانی جنرل ایوب خان کے دور سے شروع کی ہے اور اُن کے خیال میں اُس زوال کا نکتہ عروج ذوالفقار علی بھٹو کا دور تھا۔ اس کے بعدآنے والے اُنہی روایات کو آگے بڑھاتے رہے لیکن بنیادی کام ایوب خان، یحییٰ خان اور بھٹو کر گئے تھے۔ مفتی صاحب کے خیال میں ان ادوار میں ”ریفارمز“ کے پردے میں لپٹی ہوئی کارروائیوں کا مقصد بیوروکریسی پر کاٹھی ڈالنا اورمن مانی کی راہ ہموار کرنا تھا۔ جنرل ایوب خان اور جنرل یحییٰ خان کے ادوار میں بیوروکریسی کا اس طرح سر جھکانا کہ وہ بلا چوں و چرا ان حکمرانوں کی ہاں میں ہاں ملائے تو بات کچھ سمجھ میں آتی ہے کیونکہ انہیں برتری کا خبط بھی تھا اور ساتھ ساتھ  Ligitimacy Crises بھی درپیش تھا لیکن بھٹو جیسے اعلیٰ تعلیم یافتہ سویلین لیڈر سے یہ توقع نہ تھی۔ انہوں نے ماضی میں بیوروکریسی کے ساتھ کئے گئے سلوک کے تسلسل میں 313 اعلیٰ افسروں کو نکال باہر کیا اس سے پہلے 1500 اور 303 پچھلی حکومتوں نے نکال دیئے تھے۔ اور اس لسٹ میں علاؤالدین اور میاں انور علی جیسے کئی نیک نام اور ممتاز بیوروکریٹ شامل تھے۔ پھر انہوں نے روایت میں ایک اور اضافہ کیا وہ تھا لیٹرل انٹری جس میں باہرسے لوگوں کو براہ راست اعلیٰ عہدوں پر سرفراز کر دیا گیا۔

اس سے پہلے ایوب خان نے بیورو کریسی میں فوجی افسروں کی شمولیت کی راہ نکالی تھی۔ لیٹرل اینٹری کے تحت فیڈرل سیکرٹری بننے والے ایک صاحب سے میری ایک اچانک ملاقات ہو گئی۔ بہت سال پہلے کی بات ہے میں ایک دن لاہور سے ہوائی جہاز کے ذریعے اسلام آباد آ رہا تھا مجھے  Bulk head میں جگہ ملی جہاں خاص خاص لوگوں کو نشستیں الاٹ کی جاتی ہیں۔ میں اپنی نشست پر پہنچا تو ساتھ والی نشست پر وفاقی سیکرٹری لیبر حسن بھٹو صاحب بیٹھے تھے۔ میں نے اُن کی طرف سلام کیلئے نام لیکر ہاتھ بڑھایا تو وہ ایک دم پریشان ہو گئے۔ انہوں نے سوچا ہو گا شاید ایجنسی کا کوئی بندہ میرا پیچھا کر رہا ہے۔ کہنے لگے آپ مجھے کیسے جانتے ہیں میں نے کہا کہ میں جرنلسٹ ہوں اور Who is Who کو جاننا میرے فرائض میں شامل ہے خیر جب وہ کچھ نارمل ہوئے تو پھر خوب گپ شپ رہی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ تو لاڑکانہ کالج میں لیکچرر تھے بھٹو صاحب نے انہیں بیوروکریسی میں داخل کر دیا۔ خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ ہے۔

مفتی صاحب نے لکھا ہے کہ 1300 افسروں کو نکال کر ”اصلاحات“ نافذ کرنے سے چند دن پہلے بھٹو صاحب کے ایک انتہائی معتمد وزیر (وزیر کا نام مفتی صاحب نے احتیاطً نہیں لکھا) نے سرکاری افسروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”آپ لوگ ہماری مرضی کے مطابق نہیں چلتے اور سیاستدانوں کی خواہشات کو غیرقانونی کہہ کر رد کر دیتے ہیں کیونکہ آپ سمجھتے ہیں کہ ہمارا اقتدار عارضی ہے اور آپ لوگوں کی ملازمت مستقل ہے اس لئے اب ہم ایسی اصلاحات نافذ کرنے لگے ہیں جو آپ لوگوں کی مستقل ملازمت کو ہمارے عارضی عہدے سے بھی زیادہ عارضی بنا دے گی“ گویا سرکاری افسروں کے ذہن سے مستقل ہونے کا خناس نکالنا تھا حالانکہ قائداعظم واضح طور پر بیوروکریسی کو کئی مواقع پر کہہ چکے تھے کہ آپ سٹیٹ کے ملازم ہیں کسی پارٹی کے نہیں آپ کا کام غیرجانبداری سے قوانین پر عمل کرنا ہے لیکن قائداعظم کے بعد بہت وقت گزر چکا تھا اور قوم قائد سے بہت آگے نکل چکی تھی۔

پوری کتاب تجربات کے لحاظ سے دلچسپ اور بعض افسوسناک واقعات سے عبارت ہے۔ کالم کی تنگ دامانی کے پیش نظر صرف ایک آدھ واقعہ نمونے کے طور پر۔ مفتی صاحب اٹک کے ڈپٹی کمشنر تھے کہ ایک آدمی اُن کے دفتر آ پہنچا اور اُس نے حیران کن کہانی سنائی۔ ایوب خان کی لینڈ ریفارمز پر عمل ہو چکا تھا اور ایک لینڈلارڈ کی فالتو زمینیں کچھ مزارعوں میں تقسیم ہو چکی تھیں۔ اُس لینڈ لارڈ نے ایک دن ان سب مزارعوں کو بلا کرذاتی جیل میں بند کر دیا اور حکم دیا کہ وہ یہ لکھ کر دیں کہ انہوں نے اپنی زمین برصناو رغبت فلاں لینڈ لارڈ کو بیچ دی ہے۔ ظاہر ہے اس پر مفتی صاحب نے پولیس کو ضروری کارروائی کا حکم دیا۔ رات کو ایک نائب قاصد انہیں بلانے آیا کہ آپ کا دفتر میں ٹیلی فون ہے اُس وقت ٹیلی فون دفتر میں ہوتا تھا۔ مفتی صاحب دفتر گئے تو انہیں لاہور سے بتایا گیا کہ آپ کا تبادلہ کر دیا گیا ہے۔ مفتی صاحب واپس گھر گئے تو ایک گھنٹے بعد انہیں پھر فون سننے کے لئے بلایا گیا اس دفعہ انہیں بتایا گیا کہ صاحب کا حکم ہے کہ آپ کل صبح اٹک چھوڑ دیں۔    (جاری ہے)

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment