Home » بیوروکریٹبیوروکریٹ کا ویری

بیوروکریٹبیوروکریٹ کا ویری

by ONENEWS

بیوروکریٹ،بیوروکریٹ کا ویری

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے اور کچھ کیا ہے یا نہیں مگر انکی وجہ سے پنجاب کی بیوروکریسی ایک دوسرے کی دشمن بن گئی ہے،اب بیج میٹز،سینئر جونیئرز،مختلف گروپوں میں بٹ چکے ہیں اور اکثر اعلیٰ افسروں کی طرف سے اچھی پوسٹوں کے لالچ میں سب کچھ کرنے کی یقین دہانیاں کرائی جا رہی ہیں، کہا جا سکتا ہے کہ بیوروکریٹ،بیوروکریٹ کا ویری،اسی وجہ سے وزیر اعلیٰ بزدار بیوروکریسی کے معاملے میں تقسیم کرو اور حکومت کرو کا نایاب نسخہ پا گئے ہیں۔ مغل حکمران جہاں تیس سال میں پہنچے، سرائیکی سردار یہ فاصلہ دو سالوں میں طے کر گیا۔ دوسری طرف بیوروکریسی کو غیر سیاسی بنانے کا وزیر اعظم عمران خان کا یہ نعرہ بھی ہوا ہو گیا۔ہوا سے یاد آیا صوبے میں اور کچھ ہو نہ ہو سرکاری جہاز اور ہیلی کاپٹر کا پٹرول ہونا چاہئے تاکہ ہمہ وقت ہوا میں رہا جا سکے۔اس معاملے میں بھی شہباز شریف کا ریکارڈ توڑ دیا گیا ہے،ریکارڈ تو ہوتے ہی توڑنے کے لئے ہیں۔ بد قسمتی سے ہمارے ہاں اگر چہ جمہوریت ہمیشہ مظلوم ہی رہی مگر جمہوریت کے نام پر منتخب حکمرانوں نے بیورو کریسی کو ہاتھ کی چھڑی اور جیب کی گھڑی بنانے کی کوشش جاری رکھی اور اس طرح جمہوریت کے نام پر بدترین آمریت قائم کرنے کی کوشش کی، یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے،ماضی میں منتخب جمہوری حکومتوں کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ بھی بیوروکریسی کو ذاتی ملازم سمجھ کے من مرضی کے فیصلے کرانا ہی رہی،جس کے نتیجے میں بدعنوانی،اقرباء پروری، بے ضابطگی،رشوت اور سفارش کا کلچر کم ہونے کی بجائے پروان چڑھتا رہا،شومئی قسمت ہمارے موجودہ حکمران بھی اسی روش پر بگٹٹ بھاگ رہے ہیں۔

رو میں ہے رخش عمر کہاں دیکھئے تھمے

نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں

سچ یہ کہ تحریک انصاف حکومت نے دوست کم بنائے اور دشمن زیادہ،اپوزیشن سے چھیڑ چھاڑ تو جمہوریت کا حسن ہے مگر خاص طور پر عثمان بزدار نے تو بیوروکریسی کو ہی اپوزیشن سمجھ لیا اور اسے بھی اپوزیشن کی جگہ دے ڈالی،اس تمام پریکٹس کا حاصل ہے کہ آج دوسال بعد بھی حکومت انتظامیہ میں اچھی ٹیم بنانے میں کامیاب نہ ہو پائی جس کے باعث تحریک انصاف کا منشور انتخابی مہم کے دوران کئے گئے وعدے آج بھی سراب ہیں۔اس سارے معاملے میں افسوس یہ کہ انتظامی معاملات کو خراب کرنے میں ہماری بیوروکریسی کے اکثر ارکان نے بھی وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کا مکمل ساتھ دیا۔ چوتھا چیف سیکرٹری خود ہی لے کر آئے ہیں اب خود ہی اس کے گرد گھیرا تنگ کر رہے ہیں،افسوس ہے کہ ایک سے ایک بہتر اور ہیرا چیف سیکرٹری،یوسف نسیم کھوکھر،میجر اعظم سلیمان اور اب جواد رفیق ملک۔ان سب سے فائدہ اٹھانے کی بجائے چند ہی ماہ بعد اس کے خلاف معاملات اٹھانے شروع کر دئے جاتے ہیں،وزیر اعلیٰ شائد چیف سیکرٹری کو اپنی سوکن سمجھتے ہیں۔انکی پسند کا افسر انکی پسند کی پوسٹ پر نہ لگے تو وہ ناراض ہوجاتے ہیں۔وزیر اعظم عمران خان جن افسروں کی تعریف کرتے ہیں،پنجاب سے انکی مخالفت شروع ہو جاتی ہے۔معاملات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ بیوروکریسی کی لسٹوں پر مارکنگ شروع ہو چکی ہے کہ کون وزیر اعلیٰ کا کتنا وفادار ہے۔میجر اعظم سلیمان نے نہائت اچھے افسروں کا انتخاب کیا تھا اور وہ تین ماہ کے بعد انکی کارکردگی دیکھ کر انکی شفلنگ کرنا چاہ رہے تھے مگر انہیں وفاق میں بھیج دیا گیا۔

کسی افسر کو ٹکنے ہی نہیں دیا جا رہا،اسی وجہ سے پنجاب حکومت تاحال بلدیاتی نظام کے خدوخال واضح کر سکی نہ پولیس پٹوار کلچر میں تبدیلی لا سکی،عدالتی نظام میں بھی اصلاحات ڈراؤنا خواب بنے ہوئے ہیں،عوام آج بھی پرانے ظالمانہ نظام کے شکنجے میں جکڑ ے ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں،تبدیلی کے خواہش مند عوام ذہنی طور پر خود کو تبدیل کر کے اسی نظام کہنہ میں زندگی گزارنے پر آمادہ کر رہے ہیں،وجہ صرف اتنی ہے کہ سردار عثمان بزدار ماضی کے حکمرانوں کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی بجائے تجربات کر کے خود کو ماضی کا قصہ بنانے پر تلے بیٹھے ہیں، سمجھنے کو تیار دکھائی نہیں دیتے،ترقی پزیر ممالک کے نظم و نسق پر طائرانہ سی نظر دوڑائی جائے تو بہت سی غلطیوں سے بچ کر اپنے لئے سیدھی راہ اختیار کی جا سکتی ہے مگر سردار عثمان بزدار اعلیٰ تعلیمیافتہ،تجربہ کار اور تربیت یافتہ بیوروکریسی سے کام لینا شائد گناہ سمجھتے ہیں۔ دو سالوں میں وزیر اعلیٰ بہت کچھ سمجھ تو گئے ہیں مگر انہیں ابھی اور وقت لگے گا یہ درست ہے کہ اکثر حکمران سیکریٹریٹ اور محکمانہ قواعد و ضوابط سے آگاہ نہیں ہوتے،اس کیلئے ہی بیوروکریسی ہوتی ہے۔مگر کوئی ان سے سمجھنے،سیکھنے کی کوشش تو کرے ، آدھے سے زائد وزیر اپنے محکموں کے بائی لاز سے واقفیت نہیں رکھتے،اسی لئے اصل حکومت انتظامیہ کو قرار دیا جاتا ہے کہ بیوروکریسی اگر کسی محکمے کے قواعد سے مکمل واقفیت نہیں بھی رکھتی تو محکمہ کا چارج لینے کے بعد اتنی اہلیت رکھتی ہے کہ قواعد کو سمجھ سکے، مگر ہمارے وزراء کی اکثریت تو قواعد پڑھتی ہی نہیں،اب جسے محکمانہ ضوابط کا ہی علم نہیں اس نے وزارت کیا چلانا ہے۔

تحریک انصاف اگر چہ پہلی مرتبہ حکومت میں آئی ہے اور آداب حکمرانی سے واقف نہیں،مگر اس سے زیادہ بری بات یہ کہ ماضی کے تجربات سے کچھ سیکھنے کے بجائے مسلسل ناکام تجربات کئے جا رہی ہے جس کے نتیجے میں عوام آج بھی بے مراد ہیں،مرکز میں تو جو طرفہ تماشا ہو رہاہے وہ اپنی جگہ سوالیہ نشان ہے مگر ملک کے سب سے بڑے صوبہ میں تو لٹیا ہی ڈوبی ہوئی ہے،بیورو کریسی کو عضو معطل بنا دیا گیا ہے،سرکاری افسروں سے ان کے آئینی اختیارات چھین لئے گئے ہیں،وزیر اعلیٰ ہر کام ہر محکمہ میں براہ راست مداخلت کر رہے ہیں جس کی شکائت ایک سابق چیف سیکرٹری نے وزیر اعظم سے کی، وزیر اعظم نے ان کو کسی مداخلت کو تسلیم نہ کرتے ہوئے بلا خوف و خطر کام کرنے کی ہدائت کر تے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ان کے کام میں کوئی مداخلت نہیں کرے گا،مگر وہی ہواء جس کا خدشہ تھا ،تمام تر یقین دہانیوں کے بعد بھی ان کو عہدہ سے کچھ ہی عرصہ کے بعد ہٹا دیا گیا،نتیجے میں بیوروکریسی خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگی اب کوئی افسر بلا خوف کام کرنے کو تیار نہیں وجہ وزیر اعظم کے چہیتے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار اور ان کے چہیتے چند افسر ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اگر تحریک انصاف اپنے منشور پر عملدرآمد چاہتی ہے اور سرخرو ہو کر آئندہ الیکشن میں عوام کے پاس ووٹ لینے جانا چاہتی ہے تو بیوروکریسی کو کام کرنے کا ماحول فراہم کیا جائے،یہ بھی یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ اگر بیوروکریسی پر اعتماد کیا جاتا تو گندم،آٹا،چینی،ادویہ اور پٹرول کے سکینڈل جنم ہی نہ لیتے،کہ اکثر وزراء قواعد سے نابلد ہیں اور مافیاز ان کو اپنے مفادات کیلئے استعمال کر لیتا ہے جبکہ بیور وکریٹس دفتری اور محکمانہ امور کو بدرجہ اتم سمجھتے ہیں۔بیوروکریسی کو بھی یہ سمجھنا ہو گا کہ وقتی ذاتی مفادات کی بجائے اجتماعی اور انتظامی معاملات پر توجہ دیں۔

مزید :

رائےکالم

You may also like

Leave a Comment