0

بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس کا مستحسن فیصلہ

بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس کا مستحسن فیصلہ

دانش اور وہ بھی اجتماعی، یعنی دانش ِ اجتماعی کے ذریعے کئے گئے فیصلوں کی حقانیت کے بارے میں قطعاً دو آراء نہیں پائی جاتی ہیں، شریعت میں اس بارے میں بڑی وضاحت کے ساتھ احکامات موجود ہیں، تہذیب انسانی کے طویل سفر کے دوران بھی یہی بات درست اور صائب پائی گئی ہے۔یہی وجہ ہے کہ دُنیا کی تمام مہذب اور جدید ترقی یافتہ اقوام نے دانش ِ اجتماعی کے ذریعے قومی فیصلے کرنے کے لئے نظام ہائے سیاست ترتیب دیئے ہیں، جمہوریت اسی اجتماعی دانش کی ایک شکل ہے، اس کے بارے میں کئی منفی دلائل بھی موجود ہیں،جو اس نظام کی کمزوریوں پر دلالت کرتے ہیں۔ماہرین ایسی تمام کمزوریوں کا حل بھی جمہوریت اور مزید جمہوریت تجویز کرتے ہیں۔ پاکستان ایک جمہوری جدوجہد کی دین ہے، جب بھی اسے جمہوریت کی پٹڑی سے اتارا گیا قوم کی اجتماعی دانش نے اسے دوبارہ پٹڑی پر چڑھانے کی صدائیں بلند کیں اور بالآخر جمہوری عمل بحال ہوا۔ پاکستان ایک دستوری جمہوری اسلامی مملکت ہے یہ دستور بھی ایک جمہوری حکومت کی دین ہے، جس پر فیڈریشن کی تمام اکائیاں متفق ہیں، کیونکہ یہ دستور بھی دانش ِ اجتماعی کی پیداوار ہے۔

بات ہو رہی تھی دانش اجتماعی کی حقانیت کی۔ گزشتہ دِنوں تمام صوبوں کے وزرائے تعلیم، سیکریٹریز اور دیگر فیصلہ کنندگان وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی زیر صدارت سر جوڑ کر بیٹھے۔تفصیلاً گفت و شنید کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ اگر کورونا کے معاملات ایسے ہی چلتے رہے، یعنی بہتری کی طرف جاتے رہے تو ستمبر2020ء میں تمام، سکول، کالج مدارس اور یونیورسٹیاں کھول دی جائیں گی تاکہ تعلیم و تدریس اور تربیت کا عمل شروع ہو جائے۔سیشن میں تاخیر اور امتحانات کے عدم انعقاد بارے بھی تفصیلاً گفتگو ہوئی۔ ظاہر ہے جو وقت گزر گیا ہے اسے لوٹانا یا واپس لانا تو ممکن نہیں ہو گا،لیکن آئندہ کے لائحہ عمل بارے سوچ و بچار اور مستقبل میں تدریسی و تربیتی عمل کو بلاتعطل جاری رکھنے کے بارے میں غور و خوض اور فیصلے اچھا عمل ہے۔ حکومت نے جس انداز میں کورونا سے نمٹنے کی راہ اختیار کی ہے،اس کے مثبت نتائج ہمارے سامنے ہیں،یعنی خطے میں کورونا سے ہلاکتوں کے تناسب میں پاکستان کا ریکارڈ شاندار ہے۔ پاکستان میں کورونا سے ہونے والی ہلاکتیں خطے میں سب سے کم ہیں۔اس حوالے سے ہمیں عمران خان کی حکمت اور دانش کی داد دینی چاہئے، ویسے ان کے مخالفین تو اس پر بہت تنقید بھی کرتے ہیں، کہ ان کی اس حکمت ِ عملی کے نتیجے میں قومی و انفرادی معیشت کا بیڑہ غرق ہو گیا ہے،درست مگر معیشت تو پوری دُنیا کی تباہ ہو گئی ہے، کوئی بھی حکمت ِ عملی اختیار کی جاتی۔ معاشی بربادی تو ہونا ہی تھی،لیکن عمران خان کی حکمت ِ عملی نے بہت سے لوگوں کو ہلاکت سے بچا لیا ہے اور یہ اسی حکمت ِ عملی کا نتیجہ ہے کہ تعلیمی ادارے کھولنے کی حکمت عملی طے کی جا چکی ہے۔وفاقی وزیر تعلیم ایک سنجیدہ فکر دانش مند ہی نہیں،بلکہ ایک منجھے ہوئے منتظم بھی ہیں،انہوں نے تھوڑے ہی وقت میں بڑے بڑے احسن فیصلے کئے ہیں۔

ہمیں معلوم ہے کہ ہم حالت ِ جنگ میں ہیں، کورونا وبا کی عالمی جنگ میں بھی شریک ہیں۔دُنیا کے200ممالک اس جنگ کا شکار ہیں،نادیدہ دشمن نے امریکہ برطانیہ اور یورپ کے کس بل نکال دیئے ہیں،دُنیا کا دہائیوں کی محنت سے قائم کردہ معاشی و معاشرتی نظام زمین بوس ہوتا نظر آ رہا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک جنہیں اپنے صحت کے نظام پر فخر تھا وہ بھی ناک ڈاؤن ہو چکے ہیں، ہم کس کھیت کی مولی ہیں،لیکن اس نادیدہ دشمن سے نمٹنے اور اس سے بچنے کی حکمت ِ عملی کے نتائج کے اعتبار سے ہم خوش قسمت ثابت ہو رہے ہیں۔وزیراعظم کے فیصلے اور ان فیصلوں پر ڈٹ جانے کے باعث ہم اس وبا سے نمٹنے،بچنے کے بعد آگے بڑھنے کی منصوبہ سازیاں کر ر ہے ہیں۔بین الصوبائی وزارتی کانفرنس میں تعلیمی اداروں کو ستمبر میں کھولنے کے امکانات اور نتائج پر بھرپور غور و فکر کیا گیا۔اس کانفنرس سے پہلے صوبوں کے وزراء تعلیم کو اپنی اپنی تجاویز تیار کرنے اور ان کا دفاع کرنے کی تیاری کا کہا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ کانفرنس میں تعلیمی ادارے کھولنے یا نہ کھولنے، کھولنے کی صورت میں متوقع نقصانات وغیرہ پر بھرپور انداز میں بحث کی گی۔ طے کیا گیا کہ ستمبر میں تعلیمی ادارے کھولنے سے قبل ایسی ہی کانفرنس دو مرتبہ پھر کی جائے گی تاکہ کورونا کے بارے میں اعداد وشمار کو سامنے رکھتے ہوئے اس فیصلے پر تدبر و فکر کیا جا سکے۔ہمارے ادارے یہ بتا رہے ہیں کہ وبا کم ہوتی چلی جا رہی ہے۔عالمی اداروں کے اعداد و شمار بھی ایسا ہی کہہ رہے ہیں،لیکن ہم نے دیکھا کہ ایسی ہی صورت حال عیدالفطر سے پہلے بھی تھی، کورونا کنٹرول میں تھا،

لیکن جب عیدالفطر کے موقع پر لاک ڈاؤن میں نرمی کی گئی تو عوام نے یہ سمجھا کہ ”بس کورونا گیا“ اِس لئے حکو متی احکامات برائے حفاظتی تدابیر کو ہوا میں اُڑا دیا گیا، جس کے باعث عید کے بعد کورونا نے ایک بار پھر سر اُٹھا لیا، اور حکومت کو پھر لاک ڈاؤن سخت کرنا پڑا۔اب کورونا ایسی ہی حکومتی حکمت ِ عملی کے باعث سمٹ رہا ہے، لوٹ رہا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ15جولائی کے بعد اس میں مزید بہتری آئے گی۔یہی وجہ ہے کہ حکومت بتدریج معاشی سرگرمیوں کو بحال کر رہی ہے،مگر احتیاط کے ساتھ۔ دھیرے دھیرے بچتے بچتے۔ وزیراعظم کہہ چکے ہیں کہ ہم نے اگر بقرعید پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا تو کورونا کے پلٹ کر حملہ آور ہونے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں،اس لئے کورونا بارے حکومتی حکمت ِ عملی کے نتائج کو دیکھنے کے بعد ستمبر میں تعلیمی ادارے کھولے جائیں گے۔ظاہر ہے یہ ایک صائب اور قابل عمل تجویز ہے جس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے،لیکن نجی شعبے میں چلنے والے تعلیمی اداروں کی انجمنیں اس فیصلے سے خوش نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں کو فوری طور پر کھو لا جائے تاکہ مزید بے روزگار ہونے والے اساتذہ و عملے کو معاشی تباہی سے بچایا جا سکے۔ان کے پاس اس حوالے سے موثر دلائل بھی ہوں گے،لیکن یہ بات بھی اہم ہے کہ ہم حالت ِ جنگ میں ہیں اس جنگ کے نقصانات کے ایک پہلو کو دیکھ کر فیصلے نہیں کئے جا سکتے، حکومت وسیع النظری سے حقائق اور اعداد و شمار کے پیش نظر فیصلے کر رہی ہے،ہمیں ان فیصلوں کو نافذ کرنے اور دی گئی ہدایات پر عمل کرنے کے حوالے سے تیاریاں کرنی چاہئیں، نہ کہ ان فیصلوں پر جو ہماری دانش ِ اجتماعی کا مظہر ہیں تنقید کرنی چاہئے۔ دانش ِ اجتماعی کے فیصلے درست ہوتے ہیں،

مزید :

رائےکالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں