Home » بھارت میں کسانوں کا احتجاج

بھارت میں کسانوں کا احتجاج

by ONENEWS

بھارت میں کسانوں کا احتجاج

آج ہم جس اہم مسئلے پر بات کر نے جا رہے ہیں اس کا تعلق ویسے تو بھارت کے ساتھ ہے، مگر صورت حال سے دکھا ئی دے رہا ہے کہ یہ مسئلہ نہ صرف بھارت، بلکہ پا کستان سمیت اس خطے پر بھی کسی نہ کسی طرح اثر انداز ہوسکتا ہے۔ یہ مسئلہ ہے بھارت میں مو دی سرکار کے خلاف جاری  بھارتی کسانوں کے احتجاج کا۔اس سا ل ستمبر میں مودی سرکار کی طرف سے تین ایسے قوانین بنائے گئے جن کا مقصد سرمایہ داروں،فا رمنگ سیکٹر کے بڑے مچھوں اور مودی کے حامی بڑے زمین داروں کو نوازنا ہے۔ان قوانین میں ”زرعی پیداوار تجارت اور کامرس قانون“ ”کسان (امپاورمنٹ اور پروٹیکشن) زرعی سروس قانون“ اور ”ضروری اشیا (ترمیمی)“ قانون شامل ہیں۔بنیا دی طور پر ان قوانین کے تحت اب حکومت کے مقرر کردہ نما ئندوں کی بجائے نجی خریدار کسانوں سے زرعی اجناس خرید کر اسے ذخیرہ کر سکیں گے اس سے پہلے بھارتی کسانوں کی اکثر یت اپنی اجناس حکومت کے زیر نگرانی چلنے والی منڈیوں میں ایک طے شدہ قیمت پر فروخت کرتی تھی، اب کسان کو وہی اجناس اگا نا ہوں گی جو کسی مخصوص خر یدار کی مانگ کو پورا کریں۔ یوں ان قوانین سے بڑی کمپنیاں، سپر مارکیٹس،اور آن لائن کمپنیوں کو ہی زیادہ فا ئدہ ہو گا۔چھوٹا اور درمیانے درجے کا کسان بُری طرح سے متاثر ہو گا۔

بھارت میں زرعی شعبے یا کسانوں کی کیا اہمیت ہے اس کا اندازہ اس بات سے کیجیے کہ بھارت میں آج بھی 58فیصد آبادی اپنی روزی روٹی زراعت کی کما ئی سے ہی پورا کر تی ہے۔ 2011ء میں بھارت میں کی گئی آخری مردم شماری کے،مطابق 118.9ملین افراد کا تعلق  کاشت کاری  سے ہے۔  بھارت میں کسانوں کے مسائل کا اندازہ اس حقیقت سے کیجیے کہ خود سرکاری اعداد و شمار کے مطابق  2019ء  میں 10,281 اور 2018ء میں 10,348،جبکہ ”بی بی سی“ کی رپورٹ کے مطابق 1995ء سے 2014ء تک 296,438 بھارتی کسانوں نے خود کشی کی۔ 1991ء میں ”آزاد منڈی“ کا راستہ اختیار کرنے کے بعد بھارت میں کسانوں کو جن مشکلات  کا سامنا ہے ان میں قرضوں پر بھاری سود، بیجوں کا مہنگا ہونا، زمین کی ملکیت، ساہوکا روں اور بڑے زمین داروں کا استحصال،اور موسمی نا موافق حالات اور پانی کی کمی کے مسائل شامل ہیں۔ان سب مشکلات کے بعد اب مودی سرکار کی طرف سے بنا ئے گئے ان ظالمانہ قوانین نے کسانوں کی اکثر یت کے صبر کا پیما نہ لبریز کر دیا ہے۔20ستمبر سے کسانوں اور 500سے زیادہ کسان تنظیموں کی طرف سے شروع کیے گئے احتجاج کو اب بھارتی سماج کے دیگر طبقات اور 20سے زیادہ سیاسی جماعتوں کی حمایت بھی ملنا شروع ہو گئی ہے، ان سیاسی جما عتوں میں کا نگرس، عام آدمی پا رٹی، سما ج وادی پارٹی کے ساتھ ساتھ ایسی سیاسی جماعتیں بھی شامل ہیں جو ان قوانین سے پہلے کافی عرصے تک ”بی جے پی“ کی اتحادی رہی ہیں ان میں پنجاب میں سکھوں کے حقوق کی علمبر دار جما عت ”اکالی دل“ بھی شامل ہے۔ اس احتجاج کو خاص طور سے بھارتی پنجاب اور دنیا بھر میں پھیلے ہوئے سکھوں کی بھر پور حمایت مل رہی ہے۔

اس تحریک میں سکھوں کی حمایت کی ہی پیش نظر 30نومبر کو بابا گرونانک صاحب  کے جنم دن کے موقع پر کینیڈا کے وزیراعظم نے اس احتجاج کی حمایت کی۔ کینیڈا جہاں پر 5 لاکھ سے زیادہ سکھ آباد ہیں وہاں پر سکھوں کی الگ ریاست یعنی ”خالصتان“ کی حمایت کرنے والی بہت سے سکھ تنظیمیں بھی مو جو ہیں۔اب اس تحریک کے بعد ماضی میں ”بی جے پی“ کی حامی رہ چکی سکھوں کے حقوق کی علمبردار جما عت ”اکالی دل“ کے مودی سرکار سے الگ ہونے کے بعد اس با ت کی امید کی جا رہی ہے کہ سکھوں کی آزادی کی تحریک ایک مرتبہ پھر زور پکڑ سکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کے کئی انتہا پسند راہنما اس تحریک کے مظاہرین کو ”خالصتانی“ ہونے کاالزام دینا شروع ہو گئے ہیں۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ ”بھارت بند“ اور ”دہلی چلو“ کے نعروں کے ساتھ شمالی ہندوستان کو اپنی لپیٹ میں لینے والی یہ تحریک اس خطے کو کیسے متا ثر کر سکتی ہے۔ 2014ء سے 2020ء تک مودی سرکار کو کئی چھوٹے بڑے چیلنجوں کا سامنا تو رہا ہے، مگر اب کسی مذہب، رنگ، نسل اور زبان سے بالاتر ہوکرچلنے والی یہ کسان تحریک مودی سرکار کو ناکوں چنے چبوا رہی ہے اور مودی اپنی فاشسٹ اور انتہا پسند سوچ پر چلتے ہوئے بھارت کی اس داخلی تحریک سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لئے بیرونی محاذ کا سہا را لے سکتے ہیں اس کا  تازہ  ثبوت بدھ کو ”ایل او سی“ کے پاس”کھوئی رٹہ“ پر بھارتی فوج کی بلااشتعال فا ئرنگ ہے،

جس میں دو پا کستانی جوان شہید بھی ہوئے، جبکہ معتبر ذرائع کے مطابق مودی سرکار ”پلوامہ ڈرامے“ کی طرز پر کنٹرول لائن اور ورکنگ با ونڈری پر کسی ایکشن کی تیاری کررہاہے۔اس حوالے سے بھارتی جا رحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے پاکستانی فوج کو بھی ہا ئی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ یوں بھارت میں چلنے والی کسانوں کی اس تحریک کی پا کستان کے لئے اہمیت اسلئے بھی بڑھ جا تی ہے کیونکہ ہمیں یہاں پا کستان میں بیٹھ کر یہ دیکھنا ہو گا کہ کیا یہ تحریک مودی سرکار کے اقتدار کے تابوت کا آخری کیل ثابت ہو سکتی ہے؟ اور کیااس تحریک کے نتیجے میں بھارتی کسانوں کے ساتھ ساتھ ظلم کی چکی میں پس رہی اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں اور دلتوں کو مو دی کی فا شسٹ سوچ سے نجات مل پا ئے گی؟ اور کیا بھارت میں کوئی ایسی قیا دت سامنے آ پا ئے گی جو نہ صرف بھارت کے غریب کسانوں، مسلمانوں اور دلتوں کے لئے راحت کا ساما ن کر سکے، بلکہ اس خطے میں بھی امن اور خو شحالی کے لئے اپنا کردار ادا کر سکے۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment