Home » بھارتی وزیراعظم مودی متنازعہ علاقے لداخ پہنچ گئے

بھارتی وزیراعظم مودی متنازعہ علاقے لداخ پہنچ گئے

by ONENEWS


بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے چین کے ساتھ سرحدی تنازع کے بعد لداخ کا دورہ کیا ہے، جہاں بھارتی وزیراعظم کو فوج کی جانب سے علاقے کی تازہ ترین صورتِ حال پر بریفنگ دی گئی۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز چین اور بھارت کے درمیان تنازعہ بننے والے علاقے لداخ کا دورہ کیا۔

اس موقع پر بھارت کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل بپن راوت اور آرمی چیف منوج موکنڈ نراوانے بھی لداخ دورے کے دوران مودی کے ہمراہ تھے۔

دورے کے دوران مودی نے لداخ میں ‘نمو’ کے مقام پر اگلے مورچوں پر فوجیوں سے خطاب بھی کیا۔ اپنے خطاب میں بھارت کے وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ اُن کے ملک کے خلاف توسیع پسندانہ عزائم کو پوری قوت کے ساتھ خاک میں ملایا جائے گا۔

انہوں نے چین کا نام لیے بغیر کہا کہ اگر لداخ کے کسی بھی حصے پر قبضہ جمانے کی کوشش کی جاتی ہے تو بھارتی مسلح افواج اسے اپنی پوری قوت کا استعمال کرتے ہوئے ناکام بنائے گی۔

بھارتی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ توسیع پسندی کا زمانہ گزر چکا ہے۔ یہ ترقی کا دور ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ توسیع پسند افواج یا تو شکست سے دوچار ہوئی ہیں یا انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے اس اسپتال کا بھی دورہ کیا جہاں چینی فوجیوں کے ساتھ جھڑپوں میں زخمی ہونے والے بھارتی فوجی زیرِ علاج ہیں۔

واضح رہے کہ بھارت کے وزیرِ اعظم کو گزشتہ ماہ لداخ کی وادی گلوان میں چین کے ساتھ ہونے والی جھڑپ میں 20 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد اندرونِ ملک تنقید کا سامنا ہے۔

جھڑپ کے بعد دونوں ملکوں نے علاقے میں فوجی موجودگی میں اضافہ کر دیا ہے۔ لیکن کشیدگی ختم کرنے اور بات چیت سے مسئلہ حل کرنے کی یقین دہانیوں کے باوجود دونوں ملک ایک دوسرے پر سرحدی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔

نریندر مودی نے گزشتہ ہفتے ایک بیان میں کہا تھا کہ بھارتی فوج نے لداخ میں چینی افواج کو بھرپور جواب دیا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ بھارت دوستی نبھانے کے ساتھ ساتھ کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے۔

متنازعہ علاقے کا محل وقوع

لداخ کا کل رقبہ 45 ہزار مربع میل یعنی ایک لاکھ 17 ہزار مربع کلو میٹر ہے۔ اس کے جنوب مشرق میں لداخ رینج، قراقرم رینج اور دریائے سندھ کے بالائی کے علاقے شامل ہیں۔

پاکستان کی جانب یہ گلگت بلتستان سے جا ملتا ہے۔ کارگل اور سیاچن اسی حصے میں واقع ہیں جسے دنیا کا بلند ترین جنگی محاذ کہا جاتا ہے۔

چین اور بھارت کے درمیان 3500 کلو میٹر طویل سرحد کی مستقل حد بندی اب تک نہیں ہوئی ہے۔ سرحدی حد بندی پر دونوں ملکوں کا الگ الگ مؤقف ہے۔ 1962 میں سرحدی تنازع پر دونوں کے درمیان جنگ بھی ہو چکی ہے جب کہ رواں سال مئی سے دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔





Source link

You may also like

Leave a Comment