Home » بند گلی میں نہ جائیں

بند گلی میں نہ جائیں

by ONENEWS

اچھی بات ہے مولانا فضل الرحمن نے یہ وضاحت پیش کر دی ہے کہ اُن کی اسٹیبلشمنٹ سے کوئی لڑائی نہیں۔ ہاں البتہ چھیڑ خوباں سے چلی جائے اسد کے مصداق انہوں نے یہ ضرور کہا ہے کہ وہ تو بس کسی بات پر شکوہ شکایت کرتے ہیں اِس کا تو اُنہیں حق ہونا چاہئے۔یہ وضاحت کر کے درحقیقت مولانا فضل الرحمن نے اپنی بند ہوتی سیاست کے دروازے کھول دیئے ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے میں انہوں نے جس قسم کا بیانیہ اختیار کیا تھا وہ اُن کی سیاست کو بند گلی میں لے گیا تھا، آج وہ کہہ رہے ہیں اُن کی اسٹیبلشمنٹ سے کوئی لڑائی نہیں،حالانکہ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف باقاعدہ طبل ِ جنگ بجا دیا تھا۔”ہم سے نہ ٹکراؤ“ کا بیانیہ اپنا کر انہوں نے وارننگ دینے کا جو لہجہ اختیار کیا تھا، ہر صاحب ِ شعور سمجھ رہا تھا کہ یہ ملک کے مفاد میں نہیں۔اس طرح تو ایسی انارکی پھیل جائے گی، جسے روکنے والا بھی کوئی نہ ہو گا، رہی جمہویت تو اُس کا نام و نشان بھی نہیں ملے گا۔

سیاست میں آپ بہت کچھ کر سکتے ہیں، کہہ سکتے ہیں۔ یہ ایک معمول کی بات ہے، مگر جب آپ سیاست میں اپنے قومی اداروں کو کھینچ لاتے ہیں اور انہیں اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں تو بات بگڑ جاتی ہے۔ یہ کیسی عجیب صورتِ حال ہے کہ فوج اور اسٹیبلشمنٹ پر تنقید بھی کی جاتی ہے اور انہی سے یہ مطالبہ بھی کیا جاتا ہے کہ وہ ایک منتخب حکومت کو چلتا کریں۔ ایسا ابہام زدہ بیانیہ سوائے حد درجے کی مایوسی کے اور کسی بات کا نتیجہ نہیں ہو سکتا۔مولانا فضل الرحمن پی ڈی ایم  کے سربراہ ہیں۔ظاہر ہے جب وہ کوئی بات کہتے ہیں تو وہ پوری پی ڈی ایم کا موقف سمجھا جاتا ہے۔انہوں نے پہلی بار یہ بھی کہا کہ جب لانگ مارچ ہو گا تو ہم یہ فیصلہ بھی کریں گے کہ اسلام آباد جانا ہے یا راولپنڈی۔ راولپنڈی سے ان کی مراد جی ایچ کیو تھا، ان کی اس بات کو فوج کے اندر بھی تشویش کے ساتھ سنا گیا تاہم فوج کے ترجمان نے اس بارے میں پوچھے گئے سوال پر صرف اتنا کہا کہ مولانا کو چائے پلا کر واپس بھیجیں گے۔ سیاست کی لڑائی میں فوج کو اس طرح گھسیٹنے کی ماضی میں مثال نہیں ملتی، حتیٰ کہ فوجی ادوار میں بھی نہیں۔ سو  مولانا فضل الرحمن کو یہ مان لینا چاہئے کہ وہ جذبات کی رو میں بہہ گئے اور انہوں نے وہ کچھ کہہ دیا جو کسی بھی طرح قومی مفاد اور سیاسی بیانیے کی ذیل میں نہیں آتا، بلکہ اُلٹا اُن کے لئے مسائل کا باعث بنا۔

زمینی حقائق یہ ہیں کہ اِس قسم کے بیانات اور بیانیے نے پی ڈی ایم کی تحریک میں دراڑیں ڈالیں، سب سے پہلے آصف علی زرداری نے اس پر اعتراض کیا اور بے نظیر بھٹو شہید کی برسی پر خطاب کرتے ہوئے ہلکے لفظوں میں یہ تنبیہہ کی کہ اس قسم کے اندازِ تخاطب سے ہم منزل تک نہیں پہنچ پائیں گے، پھر سب نے دیکھا کہ پیپلزپارٹی پی ڈی ایم سے دور ہوتی چلی گئی، بلاول بھٹو زرداری جو بڑی جوشیلی تقریریں کرتے تھے، خاموشی سے علیحدہ ہو گئے۔ رفتہ رفتہ وہ فیصلے بھی تبدیل ہوتے چلے گئے جو پی ڈی ایم نے احتجاج کے حوالے سے کئے تھے۔ ایک وقت تو ایسا بھی آ گیا کہ خود مولانا فضل الرحمن  کو آصف علی زرداری اور نواز شریف سے یہ شکایت کرنی پڑی کہ مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری انہیں اعتماد میں لئے بغیر فیصلے کرتے ہیں،انہیں شاید معلوم نہیں تھا کہ خاص طور پر آصف علی زرداری کو اعتماد میں لئے بغیر انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف جو محاذ کھولا ہے وہ اُس کی کبھی حمایت نہیں کریں گے۔

اس بات کی تو وہ کسی صورت حمایت نہیں کر سکتے کہ بات جی ایچ کیو تک جائے، کیونکہ آصف علی زرداری ہمیشہ جمہوریت کو اہمیت دیتے ہیں اور بُری سے بُری جمہوریت کو بھی آمریت سے بہتر سمجھتے ہیں۔ وہ لانگ مارچ کا رُخ راولپنڈی کی طرف موڑنے کی حمایت کیسے کر سکتے ہیں،اِس کا مطلب تو یہ ہے کہ جمہوریت کو خود آمریت کے لئے تر نوالہ بنا کے پیش کیا جائے،سو انہوں نے واضح طور پر ہاتھ کھینچ لیا اور وہی بلاول جو مولانا فضل الرحمن کی باتوں کو آگے بڑھاتے تھے، پیچھے ہٹ گئے۔استعفے نہ دینے کا اعلان بھی کیا اور سینیٹ الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ بھی سنایا، جس کے ساتھ ہی مولانا کو ایک بار پھر یہ احساس ہو گیا کہ  وہ سیاسی محاذ پر تنہا رہ گئے ہیں۔ یہ شاید اسی احساس کا نتیجہ ہے کہ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ لڑائی سے واضح انکار کیا ہے اور اپنی پگڑی بچانے کے لئے یہ کہا ہے کہ ہم تو صرف شکوہ شکایت کرتے ہیں۔

جس بیانیے کی رو میں مولانا فضل الرحمن بہہ گئے تھے اسے متعارف نواز شریف نے کرایا تھا۔ مولانا فضل الرحمن اس بات کو نہ سمجھ سکے کہ نواز شریف اور اُن کی پوزیشن میں بہت فرق ہے۔ وہ سزا یافتہ ہیں اور لندن میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں،اُن کا واپس آنا صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب وہ اسٹیبلشمنٹ سے لڑائی میں اُسے شکست دے دیں۔اس لئے وہ لڑ رہے ہیں اور مریم نواز اُن کے بیانیے کو آگے بڑھا رہی ہیں۔ مولانا فضل الرحمن ملک میں موجود ہیں اور ابھی تک کسی کیس میں ملوث بھی نہیں،وہ اسٹیبلشمنٹ سے کیوں لڑنا چاہتے ہیں۔اگر وہ سمجھتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ سے لڑ کر  وہ حکومت گرا پائیں گے تو اس سے بڑی غیر دانشمندانہ سوچ کیا ہو سکتی ہے، ایک عام آدمی بھی یہ سمجھتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو نشانہ بنا کے اپوزیشن نے وزیراعظم عمران خان کو فائدہ پہنچایا ہے۔ عوام بھی ایسے بیانیے کو پسند نہیں کرتے جس میں فوج کو ہدف بنایا گیا ہو۔یہ بات نواز شریف کو سمجھ آ جانی چاہئے، جنہوں نے فوج مخالف بیانیہ اختیار کر کے اپنی سیاست کو شدید نقصان پہنچایا۔ جمہوریت میں سیاسی اختلاف اور سیاسی لڑائی معمول کی بات ہے،بلکہ اسے جمہوریت کا حُسن سمجھا جاتا ہے۔اس سے آگے بند گلی ہے جس میں نہ جانا ہی مناسب ہے۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment