0

بلدیہ ٹاؤن کیس:عدالت نے فیصلہ مؤخر کردیا

سانحہ بلدیہ فيکٹری کیس کا فيصلہ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مؤخر کردیا۔ کیس کا فیصلہ 22 ستمبر کو سنایا جائے گا۔

ستمبر 17 کو انسداد دہشت گردی کی عدالت مین ملزمان علی حسن قادری ادیب اور ڈاکٹر عبد الستار کی جانب سے فیصلہ مؤخر کرنے کی استدعا کی گئی۔ اس موقع پر ایم کیو ایم رہنما رؤف صدیقی، رینجرز پراسیکیوٹر اورملزمان کے وکلا بھی موجود تھے۔

سینٹرل جیل میں قائم انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سانحہ بلدیہ کیس کی سماعت میں 2 ستمبر کو فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا جسے آج سنایا جانا تھا تاہم عدالت نے فیصلہ 22 ستمبر تک مؤخر کردیا ہے۔

پس منظر

واقعہ 12 ستمبر 2012 کو بلديہ ٹاؤن کی فيکٹری ميں پیش آیا تھا، جہاں آگ بھڑک اٹھی تھی۔ ابتدائی طور پر واقعہ کو شارٹ سرکٹ کا نتيجہ قرار ديا گيا، ليکن بعد میں وائنٹ انٹروگیشن ٹیم نے اصل وجہ کا پتا لگایا۔ رپورٹ ميں کہا گيا کہ آگ لگی نہيں بلکہ بھتہ نہ دينے پر لگائی گئی تھی۔ سانحہ بلديہ کے سفاک ملزمان میں زبیر چریا اور عبدالرحمان بھولا سرفہرست ہیں۔ فیکٹری کو آگ لگانے سے پہلے زبیرچریا 5 ساتھیوں سمیت آیا۔ ملزمان کے ہاتھوں میں سیاہ تھیلے تھے، جن میں رکھی گئی اشیا سے آگ لگائی۔ گواہ نے عدالت میں بتایا کہ عبدالرحمان بھولا اس وقت چرس پی رہا تھا جب لوگ اندر زندہ جل رہے تھے۔ عبدالرحمان بھولا کو بینکاک سے گرفتار کیا گیا تھا۔

بلدیہ کیس میں کب کیا ہوا؟

تحقيقاتی ٹربيونل نے واقعہ کو شارٹ سرکٹ کا نتيجہ قرار ديا۔ کیس میں ايم کيو ايم کے کارکن رضوان قريشی کيخلاف تفتيشی رپورٹ نے بھانڈا پھوڑا۔ اس کیس کو 11 مارچ 2017 انسداد دہشت گردی عدالت منتقل کيا گيا تھا، جب کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے کیس کا فیصلہ 2 ستمبر 2020 کو محفوظ کیا تھا۔

کیس کی 8 سالوں میں 170 سماعتيں ہوئیں۔ 12 ستمبر 2012 کو فيکٹری مالکان کے خلاف ہی مقدمہ درج کيا گیا۔ بعد ازاں 14 ستمبر 2012 کو فیکٹری مالکان عبدالعزيز بھائلہ، ارشد بھائلہ اور راشد بھائلہ نے سندھ ہائي کورٹ سے ضمانت حاصل کیں۔

کیس کی شفاف تحقیقات کیلئے عوام کا دباؤ بڑھا تو سندھ حکومت نے 12 سمتبر کو سندھ ہائيکورٹ کے سابق جج زاہد قربان کی سربراہی ميں تحقيقاتی ٹريبونل قائم کیا۔ 7 فروری 2015 کو پيش کی گئی رپورٹ ميں انکشاف ہوا کہ بلديہ فيکٹری ميں آگ لگی نہيں لگائی گئی تھی۔ 23 فروری 2016 کو ڈی آئی جی سلطان خواجہ کی سربراہی ميں جے آئی ٹی نے بھی يہی رپورٹ دی اور مقدمہ ميں دہشت گردی کی دفعات شامل کرنے کی بھی سفارش کی۔

سال 2018 میں 11 مارچ کو مقدمہ انسداد دہشت گردی عدالت منتقل کيا گيا۔ 19 ستمبر 2019 کو مقدمے ميں اہم موڑ آيا۔ فيکٹری مالک ارشد بھائلہ نے ويڈيو لنک کے ذريعے بيان ريکارڈ کرايا۔ 21 نومبر 2019 استغاثہ کی جانب سے شواہد مکمل ہوگئے۔ عدالت نے 400 گواہوں کے بيانات ريکارڈ کيے۔ 3 فروری سال 2020 کو فريقين کے وکلا کے حتمی دلائل کا آغاز ہوا۔ 2 ستمبر کو دلائل مکمل ہونے پر فيصلہ محفوظ کيا گيا۔

امداد نہ ملی

لواحقین کا کہنا ہے کہ سیاست دانوں کی جانب سے 2،3 اور 5 لاکھ روپے امداد دینے کا اعلان کیا گیا، مگر امداد نہ ملی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں