0

بشریٰ انصاری نےڈراموں پر تنقید کرنے والوں کو’کرونا‘ قرار دیدیا

پاکستان کی معروف اداکارہ بشریٰ انصاری کی جانب سے سوشل میڈیا پر پاکستانی ڈراموں پر تنقید کرنے والوں کو ’کرونا‘ کہنے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر’اماں ٹی وی اور میں ‘نامی شو کافی مشہور ہے جس میں مضحکہ خیز پنجابی لہجے کے ساتھ مختلف ڈراموں پر تبصرہ کیا جاتا ہے۔ مومن علی منشی اور ان کی والدہ لبنیٰ فریاد مختلف ڈراموں کا جائزہ لیتے ہیں اور وہ تعریف کرنے کے ساتھ ساتھ اداکاروں کے کام پر تنقید بھی کرتے ہیں۔

حال ہی میں انہوں نے اداکارہ زارا نور عباس اور اسما عباس کے ڈرامہ سیریل ’زیبائش‘میں ناقص اداکاری کا مذاق اڑایا، خاتون کی ویڈیوز پر سخت ردعمل دیتے ہوئے بشریٰ انصاری نے بھی ایک پوسٹ شئیر کی جسے بعد میں انہوں نے ڈیلیٹ بھی کردیا۔

بشریٰ انصاری نے لکھاکہ ڈراموں پر کیا برا وقت آ گیا ہے، چھوٹے طبقے کے لوگ فنکاروں کی سخت محنت اور کاوشوں پر صرف بیکار تبصرہ ہی کرسکتے ہیں، ان کا اس فیلڈ میں معیار کیا ہے؟ مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ لوگ ایسے پینڈو لہجے کو دیکھ کیوں رہے ہیں۔۔ لوگوں کی عزت پامال کرنا ایک گناہ ہے۔

انہوں نے مزید لکھا کہ کہ یہ سستے تبصرے بالکل غیر معیاری ہیں۔ کسی کو نہیں پسند ڈرامہ تو وہ نہ دیکھے لیکن یہ کسی کی سخت محنت پر تبصرہ کرنا کم ظرفی ہے، دراصل جب لوگوں کے پاس کچھ کرنے کو نہیں ہوتا تو وہ کام کرنے والوں سے حسد کرتے ہیں، اللہ انہیں عقل دے اور باعزت روزی بھی نصیب کرے۔ اپنے پیسوں کیلئے لوگوں کا مستقبل تباہ کرنا حرام ہے یہ لوگ ہماری زندگیوں میں کرونا ہیں ۔

انسٹاگرام پر لبنی فریاد نے اپنے وی لاگ میں پاکستانی ڈراموں پر سخت لہجے میں تنقید کی تھی، تاہم بشریٰ انصاری نے اپنی اس پوسٹ پر لوگوں کے شدید ردعمل کے بعد اسے ڈیلیٹ کر دیا ہے لیکن جب انہوں نے یہ پوسٹ ڈیلیٹ کی تب تک اس کے اسکرین شاٹس پھیل چکے تھے۔

سوشل میڈیا پر اداکارہ بشریٰ انصاری کو سخت الفاظ استعمال کرنے پر تنقید کا سامنا ہے ۔

.



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں