Home » بسنت کے بعد ویلنٹائن ڈے کی موت

بسنت کے بعد ویلنٹائن ڈے کی موت

by ONENEWS

بسنت کے بعد ویلنٹائن ڈے کی موت

ویلنٹائن یا ویلنٹائنز ڈے اس دفعہ چپ چاپ گزر گیا کوئی خاص شور شرابا نہیں ہوا تھوڑا بہت ہلہ گلہ بھی شاید نہیں ہوا اس کی وجہ کوئی خاص نہیں بلکہ سیدھی سادی ہے اس طرح کی عیاشی کے لئے ہماری سکت ہی باقی نہیں رہی۔ جان لیوا مہنگائی نے سب کچھ برباد کر دیا ہے۔یہ تہوار جسے محبت کرنے والوں کا تہوار کہا جاتا ہے محبتیں بانٹنے اور لینے کا تہوار سمجھا جاتا ہے ہمارے ہاں اس تہوارکی عمر کوئی بہت طویل نہیں ہے اس کی جڑیں بھی کوئی خاص نہیں ہم اپنے آزاد بلکہ مادر پدر آزاد میڈیا پر اس تہوار کی پیلسٹی دیکھتے اور سنتے رہے ہیں اس تہوار کے حوالے سے خاصی متضاد آرا پائی جاتی ہیں اس کی تاریخ کے حوالے سے بھی بہت سی کہانیاں موجود ہیں لیکن جو لوگ مغربی تہذیب کو سمجھتے ہیں سرمایہ دارانہ معاشی نظام سے واقف ہیں انہیں اس تہوار کی شہرت کے بارے میں سمجھنے میں دقت نہیں ہوگی مغربی معاشرہ خرچ کرنے کی روایت پر مبنی ہے سرمایہ دارانہ نظام چلتا ہی اس بنیاد پر ہے کہ معاشرے میں طلب یعنی اشیائے صرف و تعیش کی طلب بڑھتی رہے تاکہ سرمایہ کار زیادہ سے زیادہ پیدوار اور اس کے ذریعے زیادہ سے زیادہ نفع کما سکے پھر مغربی معاشرہ ویسے بھی مادر پدر آزاد ہے اسلے وہاں آزادی اور اختلاط مرد و زن کے مواقع خوش دلی سے پیدا اور قبول کئے جاتے ہیں۔یہ تہوار ایسے کاموں کو بڑھاوا دینے کا باعث بنتا ہے۔

ویلنٹائن ڈے اشیاء کی طلب بڑھانے اور گردش زر میں اضافے کا باعث بنتا ہے جس طرح نیا سال منانے کے باعث بھی مجموعی طلب میں اضافہ  ہوتا ہے خوب خرید و فروخت ہوتی ہے اس لئے میڈیا نئے سال کی تقریبات کے حوالے سے جنونی کیفیت پیدا کرتا ہے لوگوں میں اسے منانے اور یادگار بنانے کی شدید خواہش پیدا ہوتی ہے اس طرح اشیاء صرف و تعیش کی طلب میں ہوشر با اضافہ ہوتا ہے کارخانہ دار زیادہ پیدوار کی فروخت کے ذریعے زیادہ منافع کماتا ہے اسی طرح ویلنٹائن ڈے ہے جس کے بارے میں میڈیا خوب پرو پیگنڈہ کرتا ہے اور اشیاء کی طلب بڑھا کر کارخانہ داروں کے منافع میں اضافہ کا باعث بنتا ہے۔

کیونکہ ویلنٹائن ڈے ہمار ی سماجی و دینی روایات کے بالکل متضاد بلکہ خلاف ہے اس لئے اس کے بارے میں عمومی رائے منفی ہے کچھ مغرب زدہ عناصر اس کا پروپیگنڈہ کرتے پائے جاتے ہیں جبکہ سلیم الطبع اور عام مسلمان شہری اسے پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھتے۔اس حوالے سے بحث و مباحثے کے ساتھ ساتھ لڑائی جھگڑے بھی دیکھنے میں آتے رہے ہیں۔نوجوان اسے بالجزم روکنے کا بھی اہتمام کرتے ہیں۔دینی جماعتوں کی خواتین اسے یوم حیا کے طور پر مناکر اس غیر اخلاقی روایت کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کراتی ہیں اس دفعہ حالات نے بڑے فطری انداز میں اس نا پسندیدہ تہوار کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔

اسی مہینے میں بسنت بھی منائی جاتی رہی ہے یہ روایتی و موسمی تہوار ہے جس کا تعلق پنجاب کے دیہی کلچر سے بیان کیا جاتا ہے،جب سرسوں کے شگوفے پھوٹتے ہیں۔سرد موسم اختتام کی طرف جانے لگتا ہے اور فضا میں کھلے پن کا احساس پیدا ہوتا ہے تو دیہی علاقوں کے لوگ خوشیاں مناتے ہیں کھانے پکائے جاتے ہیں،خاص رنگ کے لباس پہنے جاتے ہیں ایک دوسرے کو دعوتیں دی جاتی ہیں اور گڈیاں،پتنگیں بھی اڑائی جاتی ہیں یہ تہوار دیہی پنجاب خاص طور پر بھارتی پنجاب سے ہمارے ہاں آیا اور لاہوریوں نے اسے ایک حقیقی تہوار کی شکل دے ڈالی ویسے تو یہ تہوار بھی بدیسی ہے لیکن اس میں ہماری تہذیب و تمدنی روایات کی پائمالی نہیں ہوتی یہ ہماری پنجابی اور لاہوری ثقافت اور روایات سے غیر ہم آہنگ نہیں ہے دہائیوں تک ہم یہ تہوار مناتے رہے حتیٰ کہ اس میں ہمارے معاشرے کی ”بدمعاشیہ“بھی شامل ہوگئی جس نے اس تہوار کو بد شکل اور بدراہ بنا دیا جنرل مشرف کے دور حکمرانی میں ”بدمعاشیہ“کو خوب پذیرائی ملی اس ثقافتی تہوار میں کثاقت اور گندگی شامل ہوتی چلی گئی حتیٰ کہ یہ تہوار مجموعی طور پر نا پسند یدہ قرارپا گیا۔ شہباز شریف نے عزم بالجزم کے ساتھ اسے ختم کرنے کی ٹھانی اور بالآخر یہ تہوار اپنی موت مار دیا گیا اس دفعہ یہ تہوار بھی کہیں نظر نہیں آیا یہ تہوار ہماری لاہوری پنجابی ثقافت کی پہچان تھا ایک سستی تفریح تھی،

لیکن ہماری ”بدمعاشیہ“نے اس تفریح کا بیڑہ غرق کر دیا اس میں کثاقت شامل کر دی حتیٰ کہ یہ تہوار شرفاء کے لئے منانا مشکل ہوتا چلا گیا اس میں خون ریزی نے بھی فروغ پایا ہلاکتیں ہونے لگیں اس طرح معاشرے میں اس کے خلاف ایک عمومی فضا قائم ہو گئی اور پھر رائے عامہ کا دباؤ اسے ختم کرنے کے لئے بڑھنے لگا شہباز شریف نے اس کا مکو ٹھپ  دیا۔اس طرح ہم دو تہواروں سے محروم ہو چکے ہیں ایک بدیسی اور غیر اخلاقی تہوار جسے ہماری حکومت کی معاشی پالیسیوں نے بالواسطہ ختم کر دیا ہے اور دوسرا تہوار جو ہماری تہذیب و ثقافتی روایات کا امین تھا بدمعاشیہ کی کار ستانیوں کے باعث شہباز شریف نے بالجزم ختم کر دیا،جس طرح آج کی نوجوان نسل سٹیم انجن کی چھک چھک اور اڑتے ہوئے دھوئیں کے بادلوں سے واقف نہیں ہے بالکل اسی طرح کچھ عرصے کے بعد اس وقت کی نوجوان نسل کے لئے بسنت بھی ایک خواب بن چکا ہو گا۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment