Home » برسبین کےمضبوط قلعے میں کمزور بھارتی ٹیم کے شگاف

برسبین کےمضبوط قلعے میں کمزور بھارتی ٹیم کے شگاف

by ONENEWS

فوٹو: یاہو کرکٹ

بھارت کی ناتجربہ کار لیکن پرعزم کرکٹ ٹیم نے برسبین کے گابا کرکٹ گراونڈ پر چوتھے اور آخری ٹیسٹ میں شاندار اور تاریخی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آسٹریلیا کو تین وکٹوں سے شکست دے کر چار ٹیسٹ میچوں کی سیریز ناصرف 2-1 سے کامیابی جیت لی بلکہ بارڈر گواسکر ٹرافی کے اعزاز کا کامیاب دفاع کیا اور آسٹریلیا کے مضبوط ترین قلعے میں شگاف ڈال دیا ۔برسبین ٹیسٹ کے ہر سیشن میں بھارت کو ایک نیا ہیرو ملا۔

ویرات کوہلی کی زیر قیادت بھارتی کرکٹ ٹیم کو پہلے ٹیسٹ میچ میں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کے بعد وہ بیٹی کی پیدائش کے سلسلے میں سیریز چھوڑ کر بھارت چلے گئے تھے اور قیادت کی ذمہ داری کا بوجھ اجنکیا ریہانے کے کاندھوں پر آن پڑی تھی جنہوں نے سیریز میں ایک ٹیسٹ سے خسارے میں جانے کے بعد انجریز سے ہونے والی مشکلات کے باوجود بھارتی ٹیم کو فتح گر جتھے میں بدلنے کا کارنامہ انجام دیا ۔ بھارت برسبین ٹیسٹ جیت کر آئی سی سی ٹیسٹ ٹیم رینکنگ میں دوسری پوزیشن پر پہنچ گیا ۔ ریہانے ناقابل شکست بھارتی کپتان ہیں جنہوں نے پانچ ٹیسٹ میچز میں بھارتی کرکٹ ٹیم کی قیادت کی اور چار میں فاتح کی حیثیت سے میدان سے باہر آئے جبکہ ایک ٹیسٹ ڈرا ہوا۔

شاردال ٹھاکر اور واشنگٹن سندر

آخری دو ٹیسٹ میچوں میں کھلاڑیوں کی انجریز اور فٹنس مسائل کی وجہ سے بھارت کو آخری ٹیسٹ میں ناتجربہ کار ٹیم اتارنا پڑی تھی۔ بھارتی ڈریسنگ روم ان فٹ کھلاڑیوں کی وجہ سے ایمرجنسی ڈریسنگ وارڈ بن گیا تھا۔ بھارت کے پاس بمشکل 11فٹ کھلاڑی تھے۔ مہمان ٹیم کے پاس کوئی تجربہ کار فرنٹ لائن بولر نہیں تھا اس کے بولنگ اسکواڈ میں شامل بولرز کی وکٹوں کی کل تعداد 13  تھی اس کے برعکس آسٹریلوی بولرز کی وکٹوں کا مجموعہ 1033تھا۔ اس صورتحال کے باوجود ناتجربہ کار بولرز آسٹریلوی ٹیم کو دو مرتبہ آئوٹ کرنے میں کامیاب رہے۔

برسبین ٹیسٹ کے آغاز سے قبل یہ خدشات تھے کہ بھارتی ٹیم برسبین کے ہوٹلوں میں قرنطینہ کی صورتحال‘ کوویڈ کے پھیلاؤ اور کھلاڑیوں کی انجریز کی وجہ سے برسبین نہیں جائے گی لیکن نوجوان اور کم تجربہ کار کرکٹرز نے یہاں نئی تاریخ رقم کردی جو بھارتی کرکٹ تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ بھارت کو گینگروز کے دیس میں پہلی ٹیسٹ سیریز جیتنے کیلئے 72سال انتظار کرنا پڑا تھا اور اب وہ مسلسل دو ٹیسٹ سیریز جیت چکا ہے۔ بھارت آسٹریلیا میں ٹیسٹ سیریز جیتنے والا واحد ایشائی ملک ہے۔

بارڈر - گاوسکر ٹرافی کے ساتھ ٹیم انڈیا

برسبین ٹیسٹ کے آخری روز اور آخری گھنٹے میں بھارتی بلے بازوں خصوصاً وکٹ کیپر ریشابھ پنت نے جس شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اس کی مثال بہت کم ملتی ہے۔ آسٹریلیا نے بھارت کو میچ جیتنے کیلئے328 رنز کا ہدف دیا تھا۔ آخری 20 اوورز میں بھارت کو 100رنز درکار تھے ٹیسٹ میچز میں پانچ رنز فی اوور کی اوسط سے رنز عام طور پر نہیں بنتے لیکن وکٹ کیپر رشابھ پنت نے ان آخری 20اوورز کو ون ڈے میچ کی طرح کھیلا اور تین اوورز قبل ہی مطلوبہ ہدف سات وکٹوں کے نقضان پر حاصل کرکے بھارت کو تین وکٹوں سے تاریخی کامیابی سے ہمکنار کردیا ۔ آسٹریلیا کو گابا کرکٹ گرائونڈ پر 33سال بعد کسی ٹیسٹ میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔

اس گراؤنڈ پر آسٹریلیا کو آخری مرتبہ 1988میں سر ویوین رچرڈز کی زیر قیادت ویسٹ انڈین کرکٹ ٹیم نے 9 وکٹوں سے زیر کیا تھا ۔ کرٹلے ایمبروز ‘ میلکم مارشل‘ پیٹرسن اور کورٹنی والش نے آسٹریلوی بیٹنگ لائن کو جمنے کا موقع نہیں دیا تھا۔ آسٹریلیا کے کپتان ایلن بارڈر تھے۔ ویسٹ انڈیز سے ہارنے کے بعد آسٹریلیا اس گرائونڈ پر 31 ٹیسٹ میں ناقابل شکست رہا اس نے 24  ٹیسٹ میچ جیتے اور سات ڈرا ہوئے تھے ۔

آسٹریلیا بمقابلہ انڈیا: برسبین سے آنے والی تصاویر اور ویڈیو کی جھلکیاں

بھارتی ٹیم اس فتح سے قبل گابا کرکٹ گراؤنڈ پر کوئی ٹیسٹ میچ نہیں جیت پائی تھی ۔ بھارت نے اس گراؤنڈ پر سات ٹیسٹ میچ کھیلے جن میں سے پانچ میں بھارت کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا اور ایک ڈرا ہوا۔ 2021 میں کھیلا جانے والا ٹیسٹ بھارت کیلئے تاریخی فتح کے ساتھ ہمیشہ یادگار رہے گا۔ آسٹریلوی سرزمین پر بھارت سے برسبین میں پہلا ٹاکرا 1947-48 کی سیریز میں ہوا تھا۔ بھارتی کپتان لالہ امرناتھ اورٓسٹریلوی قائد لیجنڈ ڈان بریڈ مین تھے ۔ اولین ٹیسٹ میں آسٹریلیا ایک اننگز 226 رنز سے فاتح تھا۔ بھارت پہلی اننگز میں صرف 58 اور دوسری میں 98 رنز پر ڈھیر ہو گئی تھی۔

ڈان بریڈ مین نے 185رنز کی شاندار اننگز کھیلی تھی۔ لیفٹ آرم میڈیم فاسٹ بولر ارنی توشک دونوں اننگز میں تباہ کن ثابت ہوئے تھے جنہوں نے پہلی اننگزمیں پانچ اور دوسری میں چھ بھارتی بلے باز پویلین پہنچائے تھے۔ گابا گراؤنڈ پر مجموعی طور پر 63 ٹیسٹ میچوں میں سے آسٹریلیا 40ٹیسٹ میں فاتح رہا جبکہ 9 ٹیسٹ ہارے۔ ایک ٹیسٹ میچ ٹائی اور 13ڈرا ہوئے۔ میزبان ٹیم نے انگلینڈ کے خلاف سب سے زیادہ12 ٹیسٹ میچز جیتے۔

آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 369 رنز بنائے جس میں لبوشین 108 ٹم پین 50 کیمرون گرین 47 میتھیو ویڈ 45 اور اسٹیون اسمتھ 36 کے ساتھ نمایاں تھے۔ بھارتی بولرز نتراجن ‘ شردل ٹھاکر اور واشنگٹن سندر نے تین تین اور محمد سراج نے ایک وکٹ حاصل کی۔ جواب میں بھارتی ٹیم نے پہلی اننگزمیں 336 رنز بنائے۔ اس مجموعے کو یہاں تک پہچانے میں مرکزی کردار شردل ٹھاکر اور واشنگٹن  نے ادا کیا تھا جنہوں نے ساتویں وکٹ کی شراکت میں 123 قیمتی رنز جوڑے ۔ شردل نے 67 اور واشنگٹن نے 62 رنز بنائے یہ دونوں کے ٹیسٹ کیریئر کا بہترین اسکور ہے ۔ واشنگٹن کا یہ ڈیبیو ٹیسٹ تھا۔

روہت شرما 44 اگروال 38 اور ریہانے 37 رنز کے ساتھ نمایاں رہے تھے ۔  شاندار بولنگ کرنے کے بعد شردل ٹھاکر اور واشنگٹن سندر پہلی اننگز میں آسٹریلیا کے بڑی برتری حاصل کرنے کی راہ میں حائل رہے ۔ انہوں نے جس خود اعتمادی کا مظاہرہ کیا اس کی مثال بہت کم ملتی ہے ۔ تجریہ کار بولرز کے سامنے ٹیسٹ کرکٹ کے نواردان  کی اس بڑی مزاحمت نے بھارت کی فتح کی بنیاد رکھنے میں اہم کردادا ادا کیا ۔ آسٹریلوی بولر ہیزل وڈ نے 57 رنز کے عوض پانچ جبکہ کمنز اور اسٹارک نے دودو کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا ۔ میزبان ٹیم کو پہلی اننگز میں 33 رنز کی سبقت حاصل ہوئی۔ آسٹریلیا نے دوسری اننگز میں 294  رنز بنائے جس میں اسٹیون اسمتھ 55 ںڈیوڈ وارنر 48 مارکوس ہیرس 38 کمیرون گرین 37  کمنز 28 اور ٹم پین 27 رنز کے ساتھ نمایاں تھے۔ فاسٹ بولر محمد سراج نے پانچ کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی جو ان کے کیریئر کی بہترین بولنگ تھی ۔ محمد سراج کا یہ تیسرا ٹیسٹ میچ تھا ۔جبکہ شردل نے چار اور واشنگٹن نے ایک وکٹ حاصل کی۔

چوتھی اننگز میں بھارت کو میچ جیتنے کیلئے 328 رنز کا ٹرگٹ ملا جو اس گرائونڈ  کی تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے ناممکن نظر آتا تھا ۔ عام طور پر یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ 328 رنز کا ہدف بھارت کیلئے مشکل ہے اور مہمان ٹیم میچ ڈرا کرنے کی بھرپور کوشش کرے گی لیکن نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل بھارتی ٹیم نے اس ناممکن کو یقینی بنا کر نئی تاریخ رقم کرنے کا کارنامہ انجام دیا جس میں شبمان گل چتیشور پوجارا اور ریشابھ پنت مرکزی کردار رہے۔ بھارت نے پانچویں دن کے کھیل کا آغاز بغیر کسی نقصان کے چار رنز پر کیا اور اسے جلد ہی پر اعتماد بلے باز روہت شرما کی وکٹ کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ تاہم دوسرا ٹیسٹ کھیلنے والے شبمان گل نے چتیشور پوجارا کے ساتھ  دوسری وکٹ کی شراکت میں 114 رنز جوڑ کر فتح کیلئے ایک مستحکم بنیاد رکھ دی تھی۔ چتیشور پوجارا نے انتہائی محتاط بیٹنگ کی اور دوسرے اینڈ پر موجود شبمان گل کو آزادانہ کھیلنے کا موقع فراہم کیا جنہوں نے پر اعتماد اندار میں خوبصورت اسٹروکس کی مدد سے91 رنز کی شاندار اننگز کھیلی لیکن بد قسمتی سے نروس نائٹیز کا شکار ہوگئے ۔

چتشیور پوجارا نے 211 گیندوں پر 56 رنز بنائے ۔ اس اننگز کے دوران انہوں نے برق رفتار بولرز کی گیندوں کو اپنے جسم پر بھی برداشت کیا لیکن ان کے سامنے آہنی دیوار بنے رہے اور ایک اینڈ کو سنبھالے رکھا ۔ اس دوران انہوں نے 62 شارٹ بالز یا شارٹ آف گڈ لینتھ بالز کا سامنا کیا تھا۔  انہوں نے دوسرے اینڈ پر شبمان گل کو کھل کر کھیلنے کا موقع دیا اور یہ حکمت عملی کارگر ثابت ہوئی ۔ اس سیریز میں گو پوجارا زیادہ کامیاب نہیں رہے لیکن 2018-19ء میں بھارت کو آسٹریلوی سرزمین پر پہلی بار ٹیسٹ سیریز جتوانے کا سہرا ان کے سر ہی تھا جب انہوں نے چار ٹیسٹ میچوں میں 1258گیندیں کھیل کر تین سنچریوں کی مدد سے 521 رنز جوڑے تھے۔ اس فتح میں ٹیم مینجمنٹ اور کپتان کی جانب سے بیٹنگ آرڈر تبدیل کرنے کا فیصلہ بھی اہم ثابت ہوا کیونکہ پنت کو پروموٹ کر کے پانچ نمبر پر لایا گیا تھا جنہوں نے تیسرے ٹیسٹ میں پانچویں نمبر پر ہی شاندار 97 رنز بنا کر بھارت کو شکست سے بچایا تھا۔

پنت نے 9چوکوں اورایک چھکے کی مدد سے 138گیندوں پر ناقابل شکست 89 رنز بنائے جن کا واشنگٹن 22 رنز نے خوب ساتھ دیا اور چھٹی وکٹ کی شراکت میں 53 قیمتی رنز بنائے۔ کپتان ریہانے 24 رنز بنا پائے تھے۔ پنت نے ہیزل وڈ کی گیند پر چوکا لگا کر بھارت کو ناقابل یقین فتح سے ہمکنار کیا ۔ پیٹ کمنز نے چار ہیزل وڈ نے دو اور ناتھن لیون نے ایک وکٹ حاصل کی ۔پنت میں پلیئر آف دی میچ اور کمنز پلیئر آف دی سیریز قرار پائے۔

یہ بھارت کی ایڈن گارڈن کلکتہ میں 1971میں آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ میچ میں 171رنز کی فتح سے بھی بڑی جیت تھی جس میں بھارتی فالو آن ہو گئی تھی اور ٹیسٹ کرکٹ میں یہ تیسرا موقع تھا جب کوئی ٹیم فالو آن ہونے کے بعد ٹیسٹ میچ جیتی ۔ بھارت نے برسبین میں چوتھی اننگز میں ایک بڑے ہدف کا تعاقب کیا ۔ یہ آسٹریلوی سرزمین پر پانچواں بڑا ہدف بھی تھا ۔ گزشتہ 20 برسوں میں جنوبی افریقہ واحد ٹیم ہے جس نے آسٹریلیا میں اس سے بڑے ہدف کا تعاقب کیا تھا جو 2008 کے پرتھ ٹیسٹ میں 414 رنز تھا ۔ بھارتی کرکٹ ٹیم آسٹریلوی سرزمین پر پہلا ٹیسٹ میچ ہارنے کے بعد کم بیک کرنے والی دنیا کی دوسری ٹیم ہے ۔ اس سے قبل انگلینڈ نے تین مختلف مواقع پر یہ کارنامہ انجام دیا تھا ۔ انگلینڈ  نے  83-1882، 12-1911 اور  56-1955کی سیریز میں پہلا ٹیسٹ ہارنے کے بعد کم بیک کرتے ہوئے سیریز جیتی تھی ۔

چوتھی اننگز میں ریشابھ پنت فاتحانہ 89رنز کے ساتھ ناٹ ناٹ آؤٹ تھے ۔ چوتھی اننگز میں صرف ایک وکٹ کیپر آسٹریلیا کے ایڈم گلکرسٹ نے اس سے زیادہ فاتحانہ رنز پاکستان کے خلاف  149  ناٹ آئوٹ ہوبارٹ ٹیسٹ میں بنائے تھے ۔ ریشابھ پنت بھارت کی جانب سے 274 نز کے ساتھ ٹاپ اسکورر رہے اور چوتھی اننگز میں ان کا فی اننگز اوسط 87  رنز ہے جس سے وہ چوتھی اننگز میں اوسط کے حساب سے ریکارڈ بک میں دوسرے نمبر پر آگئے ۔ چوتھی اننگز میں بہترین اوسط جنوبی افریقہ کے بروس مچل کا  89.85  رنز فی اننگز ہے۔  ریشابھ پنت نے فاتحانہ اننگز کے دوران اپنے ٹیسٹ کیریئرمیں 1000رنز مکمل کرنے کا کارنامہ انجام دیا۔ وہ 27 اننگز میں یہ سنگ میل عبور کرنے والے تیز ترین بھارتی وکٹ کیپر بن گئے اس سے پہلے دھونی نے 32 اننگز 1000 رنز مکمل کیے تھے۔

برسبین میں بھارت نے چوتھی اننگز میں اپنا تیسرا بڑا ہدف 7وکٹوں پر 329 رنز حاصل کر کے میچ جیتا۔ 1976 میں بھارت نے چوتھی اننگز میں ویسٹ انڈیز کے خلاف پورٹ آف سپین میں4 وکٹوں پر  406رنز بنائے تھے۔ 2008 میں چنائے ٹیسٹ میں انگلینڈ کے خلاف چار وکٹوں پر 387 رنز بنائے تھے۔2011 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف بھارت نے  دہلی ٹیسٹ میں 5 وکٹوں پر 276 رنز بنائے تھے۔2001 میں کینڈی ٹیسٹ میں سری لنکا کے خلاف بھارت نے تین وکٹوں پر 264 رنز بنائے تھے۔

.

You may also like

Leave a Comment