Home » بدعنوانی کلچر کا خاتمہ ضروری۔ لیکن!

بدعنوانی کلچر کا خاتمہ ضروری۔ لیکن!

by ONENEWS

بدعنوانی کلچر کا خاتمہ ضروری۔ لیکن!

سیاسی و معاشی اعتبار سے جس قدر عدم مساوات اور ناہمواریاں ہمارے ملک میں پائی جاتی ہیں اس کا عشر عشیر ترقی یافتہ ممالک میں تو جانے دیجئے کسی ترقی پذیر ملک میں بھی نہیں پایا جاتا لیکن عدم مساوات کے کلچر کو توڑنے اور ناہمواریوں کو ہمواریوں میں تبدیل کرنے کی ادنیٰ ترین کوشش اور سعی کبھی ارباب بست و کشاد کی طرف سے دیکھنے میں نہیں آئی۔ جو اقتدار کی کرسی پر جلوہ نما ہوتا ہے وہ اپوزیشن میں کیڑے نکالنے میں سارا زور لگا دیتا ہے اور جب اپوزیشن مقتدر اور طاقتور ہو جائے  تو وہ اپنے مخالفین کو دیوار کے ساتھ لگاتے لگاتے اپنا عرصہ اقتدار برباد کر دیتی ہے۔ دونوں اپنے آپ کو عقاب اور دوسرے کو زاغ قرار دینے میں ذرّہ برابر بھی بخل سے کام نہیں لیتے۔ حزب اختلاف کے نزدیک زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن ہوتے ہیں اور عقاب سمجھتے ہیں کہ گلستانوں کو اجاڑنے اور برباد کرنے میں سارا کردار مخالفین کا ہے۔ لیکن حقیقت کیا ہے وہ سوچنے سمجھنے اور غورو فکر کرنے والے حلقوں پر روز ِروشن کی طرح واضح اور عیاں ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کبھی کوئی مہم جو جرنیل اقتدار کا مینا و ساغر آگے بڑھ کر خود اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے تو ملک میں ایک نہیں کئی مقامات پر لڈو بٹتے اور مٹھائیاں تقسیم کرنے کے مناظر کیمروں کی آنکھ محفوظ کر لیتی ہے۔ یہ ایک جوہری حقیقت ہے (ہم لاکھ بُرا کہیں) لیکن نہ صرف صنعتی ترقی عسکری عہد میں ہوتی رہی ہے بلکہ اشیائے صرف اور خورونوش کی قیمتوں میں استحکام بھی انہی ادوار میں رہا ہے۔ فیلڈ مارشل ایوب خان مرحوم، صدر ضیاء الحق مرحوم اور بقید حیات سابق صدر جنرل پرویز مشرف ریکارڈ پر ہیں لیکن کرنے کے جو کام ہماری پولیٹیکل کلاس کی ذمہ داری ہوتی ہے وہ ہمیشہ نظروں سے اوجھل ہی رہتے ہیں۔

تین فروری 1997 کے قومی انتخابات کے نتیجے میں میاں محمد نواز شریف وزیراعظم بنے تو بلوچستان کے نواب محمد اکبر بگٹی سے راقم کے تعلقات استوار ہوئے جو بتدریج مستحکم ہوتے چلے گئے اور وہ جب بھی اسلام آباد آتے میں ان کا frequent visitor  ہوتا۔ اسی دوران  میاں صاحب کا ”دست پنجہ“ بلکہ ملاکھڑا عدلیہ کے ساتھ ہو گیا اور چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے ساتھ اہانت آمیز رویہ اختیار کیا گیا۔ سپریم کورٹ پر باقاعدہ چڑھائی بلکہ توڑ پھوڑ کے عینی شاہدین میں سے آج بھی بہت سارے لوگ زندہ ہیں لیکن ہوش کے ناخن لینے کی بجائے اس آگ کو ہوا دی جاتی رہی نتیجہ محاذ آرائی کا 12 اکتوبر 1999 کے روز نکل آیا اور ساڑھے آٹھ سال جنرل پرویز مشرف عوام کے سینے پر مونگ دلتے رہے۔ میں نے حکومت عدلیہ محاذ آرائی کے حوالے سے نواب اکبر بگٹی سے ان کا تجربہ پوچھا تو انہوں نے بحث و تمحیص میں الجھے بغیر مجھے کہا کہ اگر میاں نواز شریف آج ہی مہنگائی کے جن کو بوتل میں بند کردیں اور بالخصوص اشیائے خور دونوش کی قیمتوں میں نمایاں کمی کر دیں تو میرا دعویٰ ہے کہ اگلے تین عام انتخابات میں بھی میاں صاحب کو شاید کوئی  نہ ہرا  سکے۔ ان کی بات میں  وزن تھا لہٰذا میں خاموش ہو گیا، کہنے لگے 1988 میں عوام نے جس قدر توقعات محترمہ بینظیر بھٹو کی ذات سے وابستہ کی تھیں کیا وہ ان پر پورا اتر سکیں۔ انہوں نے بھی اپنا پہلا اور دوسرا عرصہ اقتدار اپوزیشن کے ساتھ محاذ آرائی میں گزار دیا لیکن انہوں نے بھی ملک میں موجود سماجی، سیاسی، معاشی اور معاشرتی ناہمواریوں‘     عدم مساوات  اور  لاقانونیت  کو ختم کرنے  کی کوشس نہ کی۔

قارئین کرامَ یہ وہ دور تھا جب محاذ آرائی کی تکون میں شامل مرحوم صدر غلام اسحاق خان اور محترمہ بینظیر بھٹو اور کسی نہ کسی حد تک میاں محمد نواز شریف شامل تھے۔ محاذ آرائی اس قدر بڑھ چکی تھی کہ بیرون ممالک  ہمارا ملکی و قومی تشخص بُری طرح مجروح ہو رہا تھا۔ اس مرحلے پر جناب عبدالوحید کاکڑ جو اس وقت آرمی چیف تھے نے ملک کے پانچ سینئر ترین صحافیوں کو بلایا اور اپنے دل کا دکھ ظاہر کیا وہ ایک مرحلے پر اس قدر جذباتی ہو گئے کہ انہیں کہنا پڑ گیا :

اگر میں اپنی چھوٹی انگلی اٹھاتا ہوں تو ، میں اس طرح یا اس طرح ملک پر حملہ کرسکتا ہوں

اگرچہ انہوں نے اپنے اس نظرئیے یا دھمکی پر عملدرآمد نہیں کیا لیکن جمہوریت کا بوریا بستر ضرور گول کردیا۔غلام اسحاق خان  رخصت ہو ئے اور میاں صاحب بھی۔ لیکن یہ کہے بغیر چارہ نہیں کہ محترمہ ہوں یا میاں صاحب۔ دونوں جمہوری حکمران عوام کو ریلیف دینے میں بری طرح ناکام رہے۔ نہ غربت ختم کر سکے نہ مہنگائی پر کنٹرول حاصل ہوا اور نہ ہی سماجی، معاشی اور معاشرتی انصا ف قائم ہو سکا۔ اور نہ ہی معاشی ناہمواریوں کا قلع قمع ممکن ہوا۔ ان دونوں قومی راہنماؤں سے مایوس ہونے کے بعد بیس بائیس کروڑ عوام نے ہوا کا رخ پاکستان تحریک انصاف کی طرف دیکھتے ہوئے اور تبدیلی کا کلچر ابھرتے ہوئے محسوس کیا تو اپنی توقعات اور خواہشات عمران خان کی ذات سے وابستہ کرلیں۔ انہوں نے سمجھا کہ ایک کروڑ نوکری اور پچاس لاکھ گھروں کا وعدہ عملی شکل اختیار کر لے گا۔ ملک کی آب وہوا  خوشنما اور معطر کرنے کے لئے ایک ارب پودے بھی لگ جائیں گے۔ وطن عزیز  بیرونی سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنانے کے لئے اور شعبہ سیاحت کو فروغ دینے کی غرض بڑے بڑے شہروں میں بننے والے ٹوائلٹس اور واش رومز بھی ایک قابل ذکر کردار ادا کر سکیں گے۔ پیارے وطن میں توانائی شعبے کی ابتر اور بگڑتی ہوئی صورت حال پر قابو پانے کے لیے وزیر اعظم عمران خان کا ڈیموں کی تعمیر کا خواب بھی شرمندۂ تعبیر ہو سکے گا۔ ملک میں بجلی اور گیس وافر مقدار میں میّسر آئے گی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مہنگائی کا سر کچل دیا جائے گا لیکن’’اے بسا  آرزو کہ خاک شدہ“۔

اپنا سارا زور وزیراعظم غیر ثمر آور اور غیر پیداواری کاموں پر صرف کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس باب میں ہرگز دو رائے نہیں کہ سماجی اور معاشرتی برائیوں میں رشوت، بدعنوانی اور غیر آئینی طور اطوار اپناکر دولت کے انبار لگانا سر فہرست برائی ہے لیکن کیا اس حوالے سے اپنی تمام توپوں کا رخ اپوزیشن کی جانب ہی ہونا چاہیے اس سے کنفرنٹیشن بڑھ تو سکتی ہے کم نہیں ہو سکتی۔ میری اس ذاتی رائے سے ہر کسی کو اختلاف ہو سکتا ہے مگر میرا حق ہے کہ اسے پیش کروں اور وہ یہ ہے کہ آپ انتہائی نچلی سطح سے رشوت بدعنوانی کے کلچر کی بیخ کنی اور خاتمہ کریں بالائی کلاس اور مقتدر طبقات خود ہی توبہ تائب کرلیں گے کیونکہ کوئی بھی بڑا خود اپنے ہاتھ سے حرام کمائی نہیں کماتا بلکہ اس تک پہنچانے واے جن ہاتھوں کی ضرورت ہوتی ہے وہ نچلے اور درمیانے طبقے کے ہوتے ہیں انہیں کاٹنا وقت کی ضرورت ہے۔ کیا کبھی کچہریوں میں آپ نے دیکھا ہے کہ سکیل چار کے ملازم رجسٹری محرر کی کمائی گریڈ اکیس بائیس کے افسران سے بھی زیادہ ہوتی ہے ان کے اثاثوں،جائیدادوں اور دولت کا شمار نہیں۔ قیمتی گاڑیاں، لگژری رہائشیں‘ شاہانہ ٹھاٹھ، شاہزادوں جیسی زندگی یہ صرف انہی پر موقوف نہیں پولیس دیکھ لیں۔ بلدیات اور ڈویلپمنٹ اتھارٹیز غرض یہ کہ کوئی شعبہ خالی  نہیں لیکن اس طرف دھیان ہی کسی کا نہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ اقتدار سے فراغت کے بعد بطور اپوزیشن سلوک آپ سے بھی وہی روا رکھا جائے گا جو آج اپوزیشن کے ساتھ ہو رہا ہے لیکن سردست ہمارا مشورہ ہے کہ جناب وزیراعظم سیاستدان بنیں مدّبر بنیں۔  اپنی توجہات عوام کو ریلیف دینے پر مرکوز کریں۔ کاش اے کاش!!!

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment