Home » بحریہ ٹاؤن کی رقم خرچ کرنے کیلئے کمیشن تشکیل

بحریہ ٹاؤن کی رقم خرچ کرنے کیلئے کمیشن تشکیل

by ONENEWS

سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کراچی کی جانب سے جمع شدہ رقم ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کرنے کے لیے 11 رکنی کمیشن تشکیل دے دیا۔

منگل 20 اکتوبر کو بحریہ ٹاؤن کراچی کی جانب سے اب تک جمع کرائے گئے 57 ارب روپے کی رقم سے متعلق سپریم کورٹ نے محفوظ شدہ فیصلہ سنایا۔ اٹارنی جنرل نے کمیشن تشکیل دینے استدعا کی تھی جسے منظور کیا گیا۔

کمیشن کا چیئرمین عمل درآمد بینچ کی سفارش پر چیف جسٹس تعینات کریں گے جبکہ ترقیاتی منصوبوں کا انتخاب، لاگت اور فیصلے عمل درآمد بینچ کی منظوری سے مشروط ہوں گے۔

کمیشن میں گورنر اور وزیر اعلیٰ سندھ کا نمائندہ شامل ہوگا۔ اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل سندھ، چیف سیکرٹری سندھ، صوبائی فنانس سیکریٹری، سینئر ممبر ریونیو بورڈ سندھ، نمائندہ آڈیٹر جنرل، نمائندہ اکاؤنٹنٹ جنرل اور نمائندہ اسٹیٹ بینک شامل ہوگا جبکہ 2 سماجی شخصیات کو بھی شامل کیا جائے گا۔

کمیشن سندھ میں ضرورت کے مطابق نئے ترقیاتی منصوبے شروع کرے گا جبکہ پہلے سے جاری منصوبوں پر بحریہ ٹاؤن کا ملنے والا پیسہ خرچ نہیں ہوسکے گا۔

سپریم کورٹ نے وفاق اور سندھ حکومت کی دائر درخواستوں پر آج فیصلہ سنایا۔ سندھ اور وفاق نے بحريہ ٹاون کی جانب سے اب تک جمع کرائے گئے 57 ارب روپے مانگے تھے۔

Moiz Jaffery

یہ تجزیہ 2018 میں اسوقت شائع کیا گیا تھا جب سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کو پلاٹ بیچنے سے روک دیا تھا۔ خبر پڑھنے کیلئے تصویر پر کلک کریں

رقم کی ادائیگی

سپریم کورٹ نے 21 مارچ 2019 کو بحریہ ٹاؤن کراچی کو کلین چٹ دینے کیلئے 460 ارب روپے کی پیشکش قبول کرتے ہوئے نیب کو ریفرنس دائر کرنے سے روک دیا تھا۔

بحریہ ٹاؤن کراچی 460 ارب روپے میں سے اب تک 57 ارب روپے جمع کروا چکا ہے جس کی مکمل ادائیگی 7 سال کے اندر کرنی ہے۔ مرحلہ وار جتنی بھی رقم جمع کروائی جائے گی وہ تمام رقم کمیشن کے ذریعے ہی خرچ کی جائے گی۔

عدالتی فیصلے کے مطابق یکم ستمبر 2019 سے 3سال تک بحریہ ٹاؤن کراچی کو 2ارب 25کروڑ روپے ماہانہ جمع کرانا ہوں گے جبکہ باقی رقم 4سال میں ادا کرنا ہوگی۔

فیصلے کے تحت بحریہ ٹاؤن آخری 4سال میں مارک اپ سمیت رقم جمع کرانے کا پابند ہوگا۔

بحریہ ٹاؤن کیس کا پس منظر

گزشتہ برس 4 مئی کو سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کراچی کو سرکاری زمین کی الاٹمنٹ اور تبادلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ملک ریاض کو رہائشی، کمرشل پلاٹوں اور عمارتوں کی فروخت سے روک دیا تھا جبکہ بحریہ ٹاؤن اراضی سے متعلق کیسز پر فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ نے معاملہ نیب کو بھیجنے اور 3 ماہ میں تحقیقات مکمل کرکے ذمہ داران کے خلاف ریفرنسز دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ بحریہ ٹاؤن کے ساتھ اراضی کا تبادلہ غیرقانونی ہے۔ اس لیے حکومت کی اراضی حکومت کو واپس کی جائے جبکہ بحریہ ٹاؤن کی اراضی بحریہ ٹاؤن کو دی جائے۔

عدالت کی جانب سے ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ کی تحقیقات کا بھی حکم دیا گیا تھا جبکہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سے درخواست کی گئی کہ وہ اس فیصلے پر عمل درآمد کے لیے خصوصی بینچ تشکیل دیں۔

دوسری جانب عدالت نے اپنے ایک اور فیصلے میں اسلام آباد کے قریب تخت پڑی میں جنگلات کی زمین کی از سر نو حد بندی کا حکم دیا اور کہا کہ تخت پڑی کا علاقہ 2210 ایکڑ اراضی پر مشتمل ہے، لہٰذا فاریسٹ ریونیو اور سروے آف پاکستان دوبارہ اس کی نشاندہی کرے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں بحریہ ٹاؤن کو جنگلات کی زمین پر قبضے کا ذمہ دار قرار دیا اور مری میں جنگلات اور شاملات کی زمین پر تعمیرات غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مری میں ہاؤسنگ سوسائٹیز میں مزید تعمیرات کو فوری طور پر روکنے کا حکم دیا۔

بعد ازاں عدالت کی جانب سے بحریہ ٹاؤن کراچی کیس میں دیے گئے فیصلے پر عمدرآمد کےلیے ایک خصوصی بینچ تشکیل دیا گیا تھا۔

اس کیس میں بحریہ ٹاؤن کی جانب سے اپنی زمین کو قانونی دائرے میں لانے کے لیے پہلے 250 ارب روپے کی پیش کش کی تھی جسے مسترد کردیا تھا، جس کے بعد 16 ہزار ایکڑ زمین کے عوض 358 ارب روپے دینے کی پیشکش کی گئی تاہم اسے بھی عدالت نے مسترد کردیا تھا۔

بعد ازاں بحریہ ٹاؤن نے کراچی کے منصوبے کے لیے 405 ارب روپے کی پیش کش کی تھی لیکن عدالت نے اس پیش کش کو بھی مسترد کردیا جس پر ملک ریاض نے پیشکش مزید بڑھا کر 460 ارب کردی۔ ایک موقع پر سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ملک ریاض سے ایک ہزار ارب کا مطالبہ کیا تھا مگر ملک ریاض نے کہا کہ ان کے پاس اتنی دولت نہیں ہے۔

You may also like

Leave a Comment