Home » بحرہند میں چین کو روکنے کی سازش (1)

بحرہند میں چین کو روکنے کی سازش (1)

by ONENEWS

بحرہند میں چین کو روکنے کی سازش (1)

چند روز پہلے میں نے اسی صفحے میں ایک کالم لکھا تھا جس کا عنوان تھا: قراقرم ہائی وے کا متبادل راستہ“…… الحمدللہ اس پر بہت سے ملکی اور غیر ملکی دوستوں کا فیڈ بیک موصول ہوا۔ اس فیڈ بیک کے مندرجات فی نفسہٖ کئی کالموں کا مواد بن سکتے ہیں۔ لیکن ایک قاری نے یہ بھی بتایا کہ اس متبادل راستے کی مواصلاتی اور کمرشل اہمیت کے علاوہ ایک زبردست عسکری اہمیت بھی ہے جو ہندوستان کی نظروں سے پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔ چنانچہ اس نے ابھی سے اس کا توڑ دریافت کرنے کا ڈول ڈال دیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان ایک زمینی راستہ تو وہی ہے جسے قراقرم ہائی وے کہا جاتا ہے اور جو  خنجراب سے حویلیاں تک آتا ہے۔ لیکن اس میں دو مشکلات حائل ہیں۔ ایک تو یہ سارا سال کھلا نہیں رہتا اور چار ماہ (نومبر، دسمبر، جنوری، فروری) تک برفباری کے سبب اس پر آمد و رفت بند ہو جاتی ہے اور دوسری مشکل وہ ارضی و سماوی آفات ہیں جن میں لینڈسلائڈنگ، طوفانِ بادو باراں، زلزلے اور سیلاب وغیرہ شامل ہیں۔ علاوہ ازیں بعض مقامات پر یہ روٹ اتنا نازک اور خطرناک ہے کہ ڈرائیور کی ذرا سی غلطی سے ایک بڑا حادثہ ہو سکتا ہے۔ ماضی میں ایسے حادثے ہوتے رہے ہیں اور قراقرم ہائی وے ہفتوں تک بند رہی ہے۔ اس ناقابلِ اعتماد روٹ کے علاوہ ایک قابلِ اعتماد دوسرا روٹ بھی تعمیر کیا جا سکتا تھا جو چین کے شہریار قند سے جنوب کی طرف آتا ہے اور گلگت بلتستان (GB) میں داخل ہوتا ہے۔ جی بی کے جس حصے میں یہ روٹ داخل ہوتا ہے اس کا نام ضلع شِگر ہے۔ لیکن چینی سرحد اور شگر کے درمیان ایک برف پوش درہ بھی ہے جس کو ’مستاغ پاس‘  کہا جاتا ہے۔ یہ درہ کثرتِ برف باری کی وجہ سے 1900ء کے لگ بھگ بند کر دیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود اکا دکا کوہ پیما اسے عبور کرکے جی بی سے چین میں داخل ہو کر یارقند آتے جاتے رہے ہیں۔

ان کوہ پیماؤں میں کئی غیر ملکی اور معروف سیاحوں کے نام بھی شامل ہیں۔ کئی پاکستانی مورخین نے ان کے سفروں کی تفصیل لکھی ہے۔1890ء میں ایک برطانوی آفیسر کرنل درانڈ (Durrand) نے بھی اسی روٹ میں درہ مستاغ کا ذکر کیا ہے۔ اس کے سفرنامے ”دی میکنگ آف اے فرنٹیئر“ کا اردو ترجمہ راقم السطور نے کیا تھا جس کا پیش لفظ مستنصر حسین تارڑ نے لکھا تھا۔ عسکری حلقوں میں یہ ترجمہ خاصا مقبول ہوا۔ (اس کی قسط وار اشاعت آج کل اسی اخبار کے اتوار میگزین (زندگی) میں شائع ہو رہی ہے)

یہ متبادل راستہ شگر سے سکردو، اور استور جاتا ہے اور وہاں سے مظفرآباد تک چلا جاتا ہے۔ اس متبادل روٹ کا ایک فائدہ تو یہی ہے کہ یہ سارا سال کھلا رہتا ہے اور دوسرا یہ ہے کہ چین سے پاکستان آنے جانے کا ٹریفک اس روٹ کی وجہ سے دگنا ہو جائے گا۔ اور مزید یہ کہ یہ قراقرم ہائی وے سے 350کلومیٹر کم طویل راستہ بھی ہے۔ لیکن اس کی ایک بڑی خامی بھی ہے کہ یہ ہندوستان (ایل او سی) کی طرف سے براہِ راست گولہ باری کی زد پر ہوگا اور انڈیا اس کو کاٹ کر پاکستان کے لئے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ لیکن دوسری طرف اس کی یہ خامی، ایک بڑی خوبی سے بھی منسلک ہے اور وہ یہ ہے کہ چین اس روٹ کے ذریعے جی بی میں چینی ٹینک، بھاری توپیں اور طیارے بھیجنے میں بھی آسانی محسوس کرے گا۔ حکومت پاکستان (اور جی بی کی صوبائی حکومت بھی) اب اس روٹ کی تعمیر پر کام کر رہی ہے۔اس کی چوڑائی 33میٹر (جی ہاں 100فٹ سے بھی زیادہ) ہو گی جس پر بھاری ٹریفک رواں دواں رہ سکے گی۔ پاکستان چین سے بڑے بور کی ہوٹزرز خرید کر انہیں سکردو، دیوسائی اور استور وغیرہ میں ڈیپلائے کر سکتا ہے اور اس طرح لداخ تک کو زیرِ خطر لا سکتا ہے…… شاید یہی وجہ ہو گی کہ انڈیا نے اس خطرے کو بھانپتے ہوئے چین پر جوابی وار (Reporte) کرنے کے لئے زمینی نہیں بلکہ ایک آبی راستہ منتخب کیا ہے اور یہ ’آبی راستہ‘ بحرہند میں واقع انڈیا کے جزائر انڈیمان اور نکوبار کے قریب چینی بحری ٹریفک کو ضرورت  پڑنے پر زیر خطر لا سکتا ہے۔

انڈیا ٹائمز، نیو دہلی نے اپنی 16جنوری 2021ء کی اشاعت میں رائٹر کی ایک خبر لِفٹ کی ہے جسے میں قارئین کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔اس سے آپ کومعلوم ہوگا کہ یہ خطہ (جنوبی ایشیا) آنے والے دور میں کس طرح کی اکھاڑ پچھاڑ کا شکار ہو سکتا ہے…… اخبار لکھتا ہے:

”چین نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ پاکستان میں 800کلومیٹر لمبی شاہراہِ قراقرم کو جی بی میں استور سے ملا دے گا۔اس طرح بیجنگ اور اسلام آباد نے گویا تہیہ کر رکھا ہے کہ وہ لداخ پر دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں۔

ہمارے بہت قابلِ اعتماد ذرائع کے مطابق چین چاہتا ہے کہ وہ یارقند کو شاہراہ قراقرم کے ذریعے استور سے ملا دے۔ یارقند بدھ مت کی ایک سابق عبادت گاہ کا مرکز اور نسلی یوغر (مسلم) ثقافت کا آئنہ دار شہر ہے۔ جب یہ 33میٹر چوڑی سڑک بن گئی تو چین اپنی بھاری آرٹلری جی بی میں لا سکے گا اور اس سے لداخ میں انڈین پوزیشنیں زیرِ خطرہ ہو جائیں گی۔

ضلع استور، پاکستان کے ایک ڈویژنل ہیڈکوارٹر سکردو کے مغرب میں واقع ہے جو لداخ سے زیادہ دور نہیں ہے جہاں انڈیا اور چین ایک ملٹری سٹینڈ آف میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھے ہیں۔

استور جی بی کے 14اضلاع میں سے ایک ضلع ہے جس کے ضلعی ہیڈکوارٹر کا نام عیدگاہ ہے۔

ایک کچی پکی سی سڑک عیدگاہ کو شاہراہِ قراقرم سے ملاتی ہے جو اس سے 43کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔ عسکری تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ اگر یہ نئی روڈ بن گئی تو پاکستان اور چین کو انڈین کشمیر پر دہرے محاذ کا حملہ لانچ کرنے کی صلاحیت حاصل ہو جائے گی۔

انڈیا نے جھیل پاگونگ کے مقابل 29اگست 2020ء کو چین کی طرف سے صف بند ٹروپس کے مقابل اپنے ٹروپس ڈیپلائے کر دیئے تھے۔ یہ انڈیا کی طرف سے ابتدائی جواب تھا لیکن اب یہ معلوم ہو رہا ہے کہ انڈیا، چین کے اس متبادل راستے کا توڑ ہمالیہ میں نہیں بلکہ بحرہند اور بحرالکاہل کے پانیوں میں تلاش اور شروع کر رہا ہے۔

انڈیا اب جاپان اور امریکہ سے مل کر اس جوابی حملے (Riposte) میں ایک بڑا سنگ میل عبور کر چکا ہے۔ وہ چین کو وہاں ضرب لگائے گا جہاں اسے بہت زیادہ تکلیف اور درد ہوگا…… چین اپنے تجارتی بحری جہازوں کے بیڑے کو جن آبی گزرگاہوں سے گزار کر چین لا رہا ہے یا چین سے باہر لے جا رہا ہے وہ انڈیا کے جزائر انڈیمان اور نکوبار سے ہو کر جاتے ہیں۔(نقشہ دیکھئے)(جاری ہے)

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment