Home » بحرِہند میں چین کو روکنے کی سازش  (3)

بحرِہند میں چین کو روکنے کی سازش  (3)

by ONENEWS

بحرِہند میں چین کو روکنے کی سازش  (3)

کئی برس پہلے جاپان اور امریکہ نے تمام بحرہند میں زیرِ آب اور بالائے آب چینی بحری جہازوں کی آمد و رفت مانیٹر کرنے کے لئے سمندر کی تہہ میں فِش ہُک (Fish Hook) کا ایک جال بچھا رکھا تھا۔

اگر آپ نے کبھی کسی نہر، تالاب یا دریا میں مچھلیاں پکڑنے کا شوق آزمایا ہو تو آپ کو معلوم ہوگا کہ مچھلی پکڑنے کی کُنڈی (Hook) کیا ہوتی ہے۔ مجھے یاد ہے ہم بچپن میں اتوار کے اتوار نہر پر جا کر مچھلیاں پکڑتے تھے۔ ایک لمبے سے پتلے بانس کے سرے پر ایک ڈور باندھ کر اس کے آخری سرے پر ایک کنڈی میں ایک جیتا جاگتا ’گڈویا‘ پرو دیتے تھے۔یہ گڈویا کیچڑ آلود مٹی میں عام مل جاتا تھا۔ مچھلی اس گڈویئے کو نگلنے کے لئے جب منہ کھولتی تھی تو یہ کُنڈی (Hook) اس کے گلے میں اٹک جایا کرتی تھی اور ہم آرام آرام سے ڈور کو کھینچ کر نہر سے مچھلی باہر نکال لیا کرتے تھے۔ بعد میں گڈوئیے کی جگہ چھوٹی مصنوعی مچھلیاں بھی بازار میں عام ملنے لگیں اور اس طرح ہمارے شوقِ ماہی گیری میں آسانی ہو گئی۔

پھر فوج میں ہماری پوسٹنگ جب مردان میں ہوئی تو ہر اتوار ہم چند دوستوں کو ساتھ ملاتے اور مردان سے رشکئی، رسال پور اور نوشہرہ ہوتے ہوئے دریائے سندھ کے پل کے اس طرف خیرآباد جا پہنچتے۔ خیرآباد کا دوسرا نام ’کنڈ فیری‘ بھی ہے۔ ہمارے ساتھ ہی آفیسرز میس کا ایک باورچی اور ایک ویٹر بھی ہوتا تھا۔ اب بانس اور ڈوری کی بجائے ایک باقاعدہ مشین مارکیٹ میں آ چکی تھی۔ ہمارے ایک دوست میجر حفیظ امریکہ ایک کورس پر گئے تو واپسی پر دوچار مشینیں بھی ساتھ لیتے آئے۔ ہمیں بھی ایک مشین گفٹ کی گئی۔یہ مشین بالکل بانس کی ’دیسی چھڑی والی ڈوری‘ کی نقل تھی۔ اس کے تین حصے ہوتے تھے۔ یعنی فِشنگ راڈ (Rod)، فِشنگ ریل (Reel) اور فِشنگ بیٹ (Bait)…… دریائے سندھ پر جی ٹی روڈ کے کنارے وہ مقام بھی دیکھا جا سکتا ہے جہاں مغربی سمت سے دریائے کابل کا گدلا اور مٹیالا پانی آکر دریائے سندھ کے سبزی مائل شفاف پانی کے ساتھ بغل گیر ہوتا ہے۔ اسی مقام کو ’کنڈفیری‘ یا خیرآباد کہا جاتا ہے۔ ہر اتوار یہاں بہت سے ماہی گیر آکر مچھلیاں پکڑتے اور اپنا شوق پورا کرتے تھے۔

میں نے جب پہلی دفعہ فِشنگ ریل کے آگے فشنگ بیٹ لگا کر فِشنگ راڈ کو گھما کر دریائے سندھ میں پھینکا تو اپنے قدموں سے چند فٹ دور تک ہی جا کر ریل پانی میں گر گئی۔ کئی بار کی کوشش کے بعد بھی جب کامیابی نہ ہوئی تو حفیظ میرے پاس آیا اور ریل پھینکنے کی تکنیک بتائی۔ خاصی تگ و دو کے بعد آخر کامیابی ملی اور ریل 15فٹ دور پانی میں جاگری۔ اگلے ہی لمحے ایک بڑی سی مچھلی ہُک میں پھنس گئی۔ اس کو باہر نکالنے کے ’آداب‘ بھی حفیظ نے مجھے سکھائے۔ اسی کنڈفیری میں شوقیہ ماہی گیروں کے لئے باقاعدہ باورچی خانے بنے ہوئے تھے۔ ہم مٹی کے تیل کا چولہا، مرچ مصالحہ اور ظروفِ طعام وغیرہ ساتھ لے جاتے، باورچی وہیں کھڑے کھڑے مچھلیاں صاف کرتا اور پکا کر ہم 5،7 افسروں کو کھلاتا اور خود بھی کھاتا…… کیا یادگار ایام تھے!

میں ’فِش ہُک‘ کی بات کر رہا تھا۔ فوجیوں نے اس سے کیولے کر ’فش ہُک نیٹ ورک‘ کی اصطلاح ایجاد کی۔ سمندر میں جب کوئی آبدوز یا سطح سمندر پر کوئی بحری جہاز اس نیٹ ورک پر سے گزرتا ہے تو اس میں لگے سنسر بتا دیتے ہیں کہ جہاز (آبدوز یا بالائے آب جہاز) کا سائز کیا ہے، اس میں کیا لدا ہوا ہے۔ اس کی سپیڈ کیا ہے، کون سے ملک کی ملکیت ہے۔ جوہری وارہیڈز نصب ہیں یا خالی ٹیوب ہیں، جہازی عملے کی تعداد کیا ہے اور وہ کس زبان میں گفتگو کرتے ہیں!…… آواز کی لہریں، زیرِ آب زیادہ اونچی سنائی دیتی ہیں اور ان کی رفتار بھی بالائے آب آواز کی رفتار سے زیادہ ہوتی ہے۔ اس سسٹم کو اصطلاح میں ’ساؤنڈ سروے لینس سسٹم‘ کہا جاتا ہے۔ یہ سسٹم اور یہ نیٹ ورک امریکہ نے 1950ء کے عشرے میں سوویٹ بحری جہازوں کی مانیٹرنگ کے لئے بنایا تھا۔ اسے خطرہ تھا کہ رشین نیوی بحراوقیانوس کے دونوں ساحلوں کے نزدیک اپنی آبدوزیں بھیج کر امریکی ساحلی دفاعی تنصیبات کی مانیٹرنگ کر سکتی ہے۔

بعد میں یہی سسٹم، مزید بہتر ٹیکنالوجی کے ساتھ بحرہند میں بھی بچھا دیا گیا تاکہ چینی آبدوزوں اور بحری جہازوں کی سروے لینس اور مانیٹرنگ کی جا سکے…… حال ہی میں انڈیا کو بھی اس نیٹ ورک کی ورکنگ تک رسائی دے دی گئی ہے اور جزائر انڈیمان اور نکوبار میں بالخصوص ان بحری راہداریوں میں یہ نیٹ ورک کام کر رہا ہے جن میں سے چینی آبدوزیں اور جہاز گزرتے ہیں کیونکہ یہی ایک بحری راستہ ہے جو بحرالکاہل کو آبنائے ملاکا کے ذریعے بحرِ ہند سے منسلک کرتا ہے۔ (ایک دوسرا راستہ بھی ہے جو آسٹریلیا کے شمالی سمندر سے گزرتا ہے اور بہت طویل ہے)……

جزائر انڈیمان اور نکوبار خلیج بنگال کے جنوبی پانیوں میں واقع ہیں۔ یہ 572چھوٹے بڑے جزیروں کا مجموعہ ہے جو شمال سے جنوب تک 800کلومیٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ انڈیا کی واحد ٹرائی سروس کمانڈ بھی پورٹ بلیئر (Port Blair) میں ہے جو انڈیمان کا دارالحکومت ہے۔ یہ جزائر، آبنائے ملاکا کے دہانے پر واقع ہیں۔ فِشنگ ہُک نیٹ ورک ایک ایسا سسٹم ہے جس میں درجنوں مائیکروفون اور ہائیڈرو فون نصب ہیں جو ہر لمحہ زیرآب آوازوں کو سنتے اور ریکارڈ کرتے رہتے ہیں۔ ان مائیکرو فونوں / ہائیڈرو فونوں سے جو سگنل تہہِ آب سے ابھر کر سطحِ آب پر آتے ہیں ان کو وہاں سے ریلے کرکے ان ہوائی جہازوں کی طرف بھیجا جا سکتا ہے جو آبدوزوں پر ڈیپتھ چارج مار کر ان کو غرقاب کر سکتے ہیں۔ ان طیاروں کا برانڈ نام P81ہے اور یہ میری ٹائم (سمندری) طیارے جزائر انڈیمان پر وجود ہیں۔ انڈین آرمی کی پانچ کمانڈوں (ناردرن کمانڈ، سنٹرل کمانڈ، ایسٹرن کمانڈ، ساؤتھ ویسٹرن کمانڈ اور سادرن کمانڈ) کے علاوہ ایک انڈیمان۔ نکور کمانڈ بھی ہے اور جیسا کہ اوپر لکھ آیا ہوں یہ ایک ٹرائی سروس کمانڈ (سہ گانہ کمانڈ) ہے یعنی اس میں آرمی، نیوی اور ائر فورس کے عناصر سٹیشن کر دیئے گئے ہیں۔ ان تینوں عناصر کے علاوہ اس میں کوسٹل فورسز بھی ہیں۔

آپ نے پڑھا ہو گا کہ کچھ عرصہ پہلے صدر ٹرمپ کے زمانے میں امریکہ، جاپان، آسٹریلیا اور انڈیا نے مل کر ایک چہارگانہ (Quad) معاہدہ کیا تھا جس کی ایک شق یہ بھی تھی کہ یہ چاروں ممالک حساس اور سٹرٹیجک نوعیت کی مواصلات کا باہمی تبادلہ کر سکیں گے۔ یہ باہمی تبادلہ رئیل ٹائم تبادلہ ہوگا یعنی جس لمحے کوئی خفیہ واقعہ ایسا رونما ہو رہا ہوگا کہ جس کی اطلاع ان چاروں ممالک کو دینی ضروری ہوگی تو فوری طور پر دی جائے گی۔ آپ کو یہ بھی یاد ہو گا کہ یہ ان ایام میں سائن کیا گیا تھا جب چین اور انڈیا کی افواج لداخ میں ایک دوسرے کے سامنے صف بند تھیں اور چین نے انڈیا کے 20ٹروپس ہلاک کر دیئے تھے(15جون 2020ء)۔

یہ چہارگانہ (Quad) معاہدہ ایک قسم کا دباؤ تھا جو چین پر ڈالا گیا تھا۔ اور چین کو خبردار کیا گیا تھا کہ اگر اس نے لداخ محاذ پر مزید ’چھیڑچھاڑ‘ کی تو بحرہند میں اس کے بحری ٹریفک کو روک دیا جائے گا…… جہاں تک چین کا تعلق ہے تو وہ اس ’سازش‘ سے اچھی طرح آگاہ ہے۔ اس کی 40% سے زیادہ تجارتی ٹریفک آبنائے ملاکا کے ذریعے سے ہوتی ہے۔

قارئین سے گزارش کروں گا کہ وہ جزائر انڈیمان اور نکوبار کو نقشے پر دیکھیں۔ ان دونوں کے درمیان ایک وسیع قطعہء آب ایسا بھی ہے جس کو ”10ڈگری چینل“ کا نام دیا جاتا ہے۔ آبنائے ملاکا کی طرف جانے والا ہرجہاز اسی چینل سے گزرتا ہے۔ اس سے آگے نکل کر ایک اور وسیع تر چینل بھی ہے جس کو ”6ڈگری چینل“ کا نام دیا جاتا ہے اور جس کی چوڑائی 200کلومیٹر ہے اور جو انڈونیشیا اور نکوبار کے درمیان واقع ہے۔ آسان لفظوں میں اس کا مطلب یہ ہے کہ چین کو اس روٹ سے آمد و رفت کے لئے انڈیا کی طرف سے بندش کا سامنا ہے۔ چین کو بھی اپنی اس محتاجی کا علم ہے اور اسے یہ بھی معلوم ہے کہ اس سازش میں امریکہ کا رول کیا ہے۔ مستقبل کی کسی جنگ کی صورت میں چین کو اس روٹ پر اپنا انحصار کم سے کم کرنا پڑے گا اور دوسری طرف CPEC پر زیادہ سے زیادہ کرنا ہوگا۔اپنے دیوہیکل آئل  ٹینکروں اور دوسرے تجارتی بحری جہازوں کی آمد و رفت کے تحفظ کے لئے چین کو انڈیا کے خلاف آبنائے ملاکا کے سکیل اور اہمیت کی ایک دوسری آبنائے (آبنائے ہرمز) کے دہانے پر گوادر پورٹ کو ایک طاقتور پاکستانی بحری مستقر (Base) میں جلد تبدیل کرنا پڑے گا…… اس موضوع پر مزید لکھنے کی ضرورت نہیں۔ پاکستان کی آج کی ساری مشکلات اسی CPECکی وجہ سے پیدا ہو رہی ہیں …… لیکن اللہ کرسی خیر ہو سی…… انشاء اللہ…… (ختم شد)

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment