Home » بحث اور سوچ کے انداز بدلنے لگے

بحث اور سوچ کے انداز بدلنے لگے

by ONENEWS

بحث اور سوچ کے انداز بدلنے لگے

وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہ اپوزیشن نے استعفے دیئے تو وہ ضمنی انتخابات کروادیں گے، کوئی ان سے پوچھے کہ اگر انہوں نے ضمنی انتخابات کروادیئے تو کیا ان انتخابات کے بعد پھرسے استعفے نہیں آسکتے، یوں بھی اپوزیشن انتخابات ہی تو مانگ رہی ہے، یہ الگ بات کہ وہ ضمنی نہیں بلکہ نئے انتخابات مانگ رہی ہے۔ بہتر یہ ہے کہ نہ تو اپوزیشن کے استعفے آئیں اور نہ ہی حکومت ضمنی انتخابات کا ڈول ڈالے بلکہ تمام سٹیک ہولڈرز بیٹھ کر اس گرینڈ ڈائیلاگ کا آغاز کریں جس سے نظام میں بہتری آسکے اور وزارت عظمیٰ کے عہدے کا وقار قائم ہو سکے۔

پیپلز پارٹی نے استعفوں کے لئے پی ڈی ایم کو ہاں کی ہے تو حکومت اور حکومت نواز حلقوں کو کچھ ہوش آئی ہے اور وہ بھی سوال کرنے لگے ہیں کہ لگ بھگ 150نشستوں پر ضمنی انتخاب کیونکر ممکن ہوگا؟ سینٹ انتخابات کا الیکٹورل کالج ٹوٹ گیا تو سینٹ انتخابات کا کیابنے گا؟ الیکشن کمیشن اگر اتنے بڑے پیمانے پر ضمنی انتخابات کے لئے راضی نہ ہوا تو حکومت کیاکرے گی؟ مختصر یہ کہ 20ستمبر 2020ء کو قائم ہونے والی پی ڈی ایم نے 20دسمبر 2020ء تک اپنے لئے جم کر کھڑے ہونے کی سپیس پیدا کرلی ہے، اس سے اگلے مرحلے پر وہ نہ صرف جم کر بیٹھنے کی سپیس پیدا کرلے گی بلکہ تمام سٹیک ہولڈروں کو ڈائیلاگ کرنے پر مجبور بھی کردے گی۔ایک سال پہلے تک حکومت ’ایک پیج ہونے‘ کے پردے پیچھے چھپی ہوئی تھی مگر جب عوام کو اس کے پاؤں نظر آنا شروع ہوگئے تو وہ بھاگ کر ’این آراو نہیں دوں گا‘کے پردے پیچھے جا چھپی، مگر اب تو حکومت کی ٹانگیں بھی نظر آرہی ہیں۔ میڈیا میں بحث بدلتی جا رہی ہے،اپوزیشن کے استعفوں کے اعلان نے حکومت کی بے ثباتی کو عریاں کر دیا ہے اور میڈیا پرہونے والی بحث کا رخ تبدیل ہو گیا ہے، اب اپوزیشن کی نااتفاقی اور مجمع نہ لگاسکنے کے طعنے ختم ہو گئے ہیں اور حکومت کے پاس دستیاب محدود آپشنز پر بات شروع ہو گئی ہے۔ میڈیا پر یہ بدلی ہوئی بحث جلد ہی عوامی سوچ کو بھی بدل دے گی اور لوگوں کو ’بندۂ ایماندار‘اور ’بندۂ تابعدار‘ کا فرق سمجھ آنے لگے گا۔

اس میں شک نہیں کہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ابھی بھی عمران خان کی زبردست حامی ہے، عدالتیں احتساب کا ٹھٹھہ تو لگارہی ہیں لیکن اپوزیشن کو خاطر خواہ ریلیف نہیں مل سکا۔ یہ ہیں وہ عوامل جن کی وجہ سے حکومت اپنے ہونے کا جواز رکھتی لیکن دوسری جانب مہنگائی اور بے روزگاری نے کورونا کی وجہ سے ہونے والی معاشی سست روی نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری حلقوں اور تنخواہ دار طبقوں کا بھرکس نکال دیاہے اور وہ حکومت سے غیر مطمئن نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔ اپوزیشن کی کامیابی یہ ہے کہ اس عالم میں عوام کے ساتھ ملک کے حقیقی مسائل پر گفتگو شروع کردی ہے اور عوام کی زندگیوں میں آنے والی ابتری کا ذمہ دار نام لے لے کر اسٹیبلشمنٹ کوٹھہرا رہی ہے۔ بدھ کے روز وزیراعظم سیالکوٹ میں ایک نجی ایئر لائن کے افتتاح کے لئے گئے تو راقم کو وہاں جانے کا موقع ملا۔ راقم نے جنرل پرویز مشرف کے بعدپہلی مرتبہ بزنس کمیونٹی کو موجودہ دور حکومت میں نہال ہوتے دیکھا تو خیال آیا کہ ڈکٹیٹروں کی طرح عمران خان بھی بڑے کاروباری لوگوں کو سبسڈیوں اور حکومتی عنایات سے نواز کر اپنے لئے ایک Constituencyبنائے ہوئے ہیں، ان بزنس مینوں کی اکثریت شوکت خانم کے چندے کے نام پر عمران خان کی جھولی بھرتی رہی ہے اور اب اس کا خراج وصول کر رہی ہے،جبکہ غربت اور کسمپرسی کے مارے عوام بے یارو مددگار کھڑے ہیں۔ جنرل ایوب خان اور جنرل مشرف کی طرح عمران خان نے دولت مند افراد کی ایک نئی کھیپ کھڑی کردی ہے۔ چشم فلک نے دیکھا کہ کس طرح سیالکوٹ کی ٹریفک پولیس نے سیالکوٹ ایئرپورٹ سے وزیراعظم کے قافلے کے علاوہ بزنس مینوں کی گاڑیاں نکالنے کے لئے عام لوگوں کی سائیکلوں، موٹر سائیکلوں اور گدھا گاڑیوں کولمبے وقت کے لئے روکے رکھا اوربے کس و لاچار بنے کھڑے تھے۔ عمران خان کو یادرہنا چاہئے کہ جس طرح دولت مند افراد جنرل ایوب خان اور جنرل مشرف کونہ  بچا سکے تھے اسی طرح ان کو بھی نہ بچا سکیں گے۔

پی ڈی ایم کی جانب سے استعفوں کے اعلان نے حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کے پراپیگنڈے کوبے دم کردیاہے، عوام کو خوف زدہ کرنے کی حکومتی کوشش بے سود رہی ہے اور فاقوں کے مارے سٹنٹڈ گروتھ کے شکار بچوں اور ان کے والدین نے اپوزیشن کی جانب دیکھنا شروع کردیا ہے۔ مریم نواز نے لاہور کے عوام کو نہیں، پورے پاکستان کو حکومت کے خلاف متحرک کردیا ہے۔ ان کی جانب سے استعفوں کا اعلان اور دباؤ کے تحت وفاداریاں تبدیل کرنے والے کے گھروں کاگھیراؤ کرنے کے اعلان نے عوام کے جذبہ دیدنی کو ہوا دی ہے اور وہ تماشا دیکھنے کو تیار ہیں، جبکہ سیاست دان اب مزید اپنا تماشا بنوانا نہیں چاہتے ہیں۔ مولانا جلیل شرقپوری کی دستار فضیلت پر جس طرح لوٹا دھرا گیااس کے بعد کوئی بھی عزت سادات گنوانے کے لئے تیار نہیں۔ سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی ڈپٹی چیئرمین سینٹ سلیم مانڈوی والا کے ساتھ جا بیٹھی ہیں، وہ ابھی نیب کے خلاف بات کر رہی ہیں کل حکومت کے خلاف بھی کریں گی۔ بات ”عمران خان کے این آر او نہیں دوں گا“ کے بیانئے سے آگے بڑھ گئی ہے۔ سرکاری ملازمین، کسان، سٹیل مل کے ملازمین اور کلرک حضرات علیحدہ سے آستینیں چڑھائے بیٹھے ہیں۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment