Home » باپ سراں دے تاج محمد

باپ سراں دے تاج محمد

by ONENEWS

جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے جب  میں نے ہوش سنبھالی تو میرے کانوں میں جو الفاظ تواتر سے سنائی دیتے تھے وہ  یانبی سلام علیک یا رسول سلام علیک تھے،ذرا بڑے ہوئے تو سیدی مرشدی یا نبی یا نبی اور غلام ہیں غلام ہیں رسول کے غلام ہیں،کے نعرے ہر وقت زبان پر ہوتے تھے۔سیدنا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گونج میں یہ وہ ماحول تھا جو ہمیں ہمارے والد محترم کی وجہ سے میسر آیا۔میرے والد محترم فقیر محمد بھی تھے اور عاشق رسول بھی، انہیں نبی کریم صلی اللہ کے طفیل بہت کچھ ملا  اور وہ ان کے نام پر سب کچھ قربان کر دیتے تھے۔بڑے سے بڑے نعت خوان اور قوال سال میں کئی کئی مرتبہ ہمارے گھر میلاد کی محافل میں شریک  ہوتے تھے۔ان محافل میں شریک وارثان اولیا، علما، نعت خوانوں،قوالوں اور شرکا کی خدمت میری اور میرے بڑے بھائی حسین گورایہ کی ڈیوٹی ہوتی تھی،ہم ان کی خاطر تواضع کے ساتھ ساتھ انکی جوتیاں بھی سیدھی کرتے تھے  کیونکہ یہ  ہمارے والد محترم نے  ہمیں سکھایا تھا۔

والدین دنیامیں اللہ رب العزت کی سب سے بڑی نعمت ہوتے ہیں،انسان عمر کے کسی بھی حصے میں ہو والدین اسکی ضرورت ہوتے ہیں،ماں کی گودبچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے تو باپ کی انگلی پہلی لاٹھی جو اسے راستہ چلنا سکھانے کیساتھ راستے تراشنے اورمشکلات کا مقابلہ کرنے میں مدد دیتی ہے،شیر خوارگی سے بڑھاپے تک والدین بچے کا سب سے بڑا سہارا ہوتے ہیں،ماں کی گود زمین تو باپ کاسایہ آسمان ہوتا ہے،دنیا کا ہر شخص آپ کی ترقی کامرانی سے حسد کرتا جلتا ہے مگر باپ واحد ہستی ہے جو اپنے بیٹے کو خود سے آگے بڑھتا اور تر قی کرتے دیکھنے کا خواہش مند ہوتااور اپنے خواب کوتعبیر دینے کیلئے جان لڑا دیتا ہے،بچوں کی پیدائش کے فوری بعد وہ بچے کو اعلیٰ تعلیم دلانے میں مگن ہوجاتاہے،بچے کومعاشرے میں اعلیٰ مقام دلانے کیلئے باپ اپنی ہستی کو مٹی میں ملانے سے بھی دریغ نہیں کرتا،باپ کی خواہش ہوتی ہے اسکی اولاد بے مثال ترقی کرے،بڑھاپے میں اولادکی ترقی خوشحالی کی وجہ سے معاشرے میں سر اٹھا کر چلنے کیلئے وہ ساری زندگی سر جھکا کر محنت کرتا ہے۔اسی لئے میاں محمد بخش نے کہا تھا کہ باپ سراں دے تاج محمد۔

اللہ ذوالجلال نے تمام آسمانی کتب میں والدین کی اطاعت و فرمانبردای کا حکم دیا ہے،ماں کے قدموں تلے جنت رکھی تو باپ کی خدمت کو جنت میں داخلے کا پرمٹ قراردیا،قراٰن مجید میں فرمان عالیشان ہے،ترجمہ”اگر وہ دونوں (والدین)یا ان میں سے ایک(ماں یا باپ) تم کو بڑھاپے کی حالت میں ملیں تو ان کو اف تک نہ کہو،ایسا نہ ہو تمہارے تمام اعمال ضائع ہو جائیں اورتم کو خبر بھی نہ ہو“نبی پاکؐ کا فرمان ہے”وہ بدنصیب ہے جس کو والدین یا ان میں سے ایک بڑھاپے کی حالت میں ملیں اور وہ جنت سے محروم رہے“رب تعالیٰ نے خود والدین کی مغفرت کیلئے اپنے بندوں کو دعا سکھائی۔ترجمہ”اے مومنو  دعا کیا کرو کہ جس طرح بچپن میں ہمارے والدین نے ہم پر رحم کیااور پالاپوسا اسی طرح ان پر رحم فرما“نبی پاک ٓکی والدہ محترمہ آپٓ کی پیدائش کے بعد مکہ آتے ہوئے دنیائے فانی کو خیر بادکہہ گئیں تھیں،ایک موقع پر آپ لشکر کیساتھ ایک غزوہ میں شرکت کیلئے جا رہے تھے،جہاں والدہ محترمہ دفن تھیں وہاں لشکر کو رکنے کا حکم دیا اورخودپہاڑی پر چڑھ کر والدہ محترمہ کی قبر مبارک پر جا بیٹھے ا ور گھٹنوں میں سر دیکر گھنٹوں روتے رہے،آپؐ فرمایا کرتے میری خواہش ہے کہ میں نماز ادا کررہاہوں اورمیری والدہ مجھے آواز دیں اورمیں نمازتوڑ کرانکی خدمت کیلئے حاضر ہو جاؤں،یہ ہے والدین کا مقام و مرتبہ،روزمحشروالدین بھی شافعین میں شامل ہونگے،خدمت کرنے والی اولاد کی بخشش کیلئے اللہ پاک والدین کو شفاعت کی اجازت دیں گے۔

قارئین کرام راقم بھی اس نعمت غیر مترقبہ سے محروم ہو چکا ہے،گزشتہ سال کینیڈا گیا تو والدہ محترمہ اچانک علیل ہو گئیں،مگر اللہ پاک نے کرم کیا اور میں انکی حیات میں ہی واپس آگیا اور مجھے انکی خدمت کا اللہ کریم نے موقع دیدیا،تاہم وہ جاں بر نہ ہو سکیں اور خالق حقیقی سے جا ملیں اور ہمیں عمر بھرکا وچھوڑا دے گئیں،انکے سایہ الفت و رحمت کے اٹھنے کے بعد والد محترم چودھری فقیر محمد گورایہ سایہ عاطفت تھے،کوشش کی کہ والد محترم کی خدمت کرکے دنیا و آخرت کو سنوارنے کی کوشش کیجائے مگر دست اجل نے مہلت نہ دی،یہ شائد بد قسمتی کی انتہا ہے کہ آخری لمحوں میں انکی خدمت کی سعادت حاصل نہ کرسکاکہ ان کی  وفات حسرت آیات کے وقت راقم انکی اجازت سے کینیڈا میں تھا،والدکا سایہ اٹھنے کی خبر بجلی بن کر گری،دوسری بدنصیبی کہ والد محترم کے سفر آخرت میں بھی شریک نہ ہو سکا،والد محترم کاہم بہن بھائیوں سے ا یسا روحانی قلبی اور احترام کا رشتہ تھا کہ انکو مرحوم اور مغفور کہتے کلیجہ منہ کو آتا ہے،ہمارے پیارے والدہمارے بہترین دوست تھے،زندگی کے ہر مرحلے،ہرقسم کے بہترین بدترین حالات میں دانا مشیر،بچپن،لڑکپن،جوانی اورشعور حاصل ہونے کے بعد بھی وہ ہمیں زندگی کے نشیب و فراز سے بڑی حکمت اوردانائی کیساتھ آگاہی دیتے،مشکل حالات سے لڑنا،سکھاتے،والد محترم کا علم و آگہی سے گہرا لگاؤتھا اسی وجہ سے انہوں نے ہم بہن بھائیوں کی تعلیم پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جسکے باعث آج ہم سب بھائی اعلیٰ حاصل کرنے کے بعد اپنے بچوں کیلئے با عزت روزی کما رہے ہیں،والدمحترم کی تربیت کا نتیجہ ہے کہ ہمارے بچے بھی تعلیمی میدان میں کسی سے پیچھے نہیں۔

اقبال نے کہا تھا”اگر چہ سر نہ تراشد قلندری داند“والد محترم بھی اس مصرعہ کی تصویر تھے،اپنی طبیعت،فطرت،خصلت اور عادت کے لحاظ سے وہ دورحاضر کے درویش تھے،کوئی سوالی ان کے درسے کبھی خالی نہ گیا،مصیبت زدہ،مفلوک الحال،محروم الوسائل دوستوں رشتہ داروں کی خبر گیری کرنافرض گردانتے تھے،علاقہ کی ترقی کیلئے بھی پیش پیش رہتے،اہل علاقہ ان کی فراست فہم کے قائل تھے،گاؤں میں ہونے والے جھگڑوں یہاں تک کہ عائلی اور خاندانی تنازعات میں بھی انکو ثالث اور منصف مانا جاتا،فیصلہ کرتے والدمحترم نے کبھی تعلق دوستی رشتہ داری کوفوقیت نہ دی ہمیں بھی نصیحت کرتے جو بھی فیصلہ کرو حق کے ساتھ کرو۔

والد محترم کی اچانک رخصتی سے ہمارے سروں سے آسمان اٹھ گیااس سے قبل والدہ کی رخصتی سے پاؤں تلے سے زمین سرک چکی تھی،دعاہے کہ اللہ غفوررحیم،عفو کریم اپنے محبوب اور مرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین کریمین کے طفیل میرے والدین  کے درجات بلند فرمائے،خلد نشین کرے،قبر اورحشر میں آسانیاں پیدا فرمائے،ان تمام احباب کا شکریہ جنہوں نے اس سانحہ عظیم پر ہماری دلجوئی کی ہمارے غم میں شریک ہوئے،اللہ پاک ان تمام احباب کو اجر عظیم عطا فرمائے،احباب سے گزارش ہے ہمارے والدین کی مغفرت، درجات کی بلندی کیلئے انہیں  دعاؤں میں شریک رکھیں۔

مزید :

رائےکالم

You may also like

Leave a Comment