Home » باغ شہر میں ملاوٹ شدہ اور مہلک اجزاء سے تیار کردہ جعلی دودھ کیخلاف کریک ڈائون استعمال ہونیوالی اشیاء ضبط

باغ شہر میں ملاوٹ شدہ اور مہلک اجزاء سے تیار کردہ جعلی دودھ کیخلاف کریک ڈائون استعمال ہونیوالی اشیاء ضبط

by ONENEWS

باغ شہر میں ملاوٹ شدہ اور مہلک اجزاء سے تیار کردہ جعلی دودھ کیخلاف کریک …

باغ  (سید وجی الحسن ) حالیہ دنوں میں تحصیلدار سید قمر کاظمی نے باغ شہر میں ملاوٹ شدہ اور مہلک اجزاء سے تیار کردہ جعلی دودھ کے گھناؤنے دھندے کیخلاف بڑی کارروائی کی ہے جس میں محکمہ امور حیوانات کے ڈاکٹروں نے بھی اپنا کردار ادا کیا،باغ میں پہلے ایک گمنام و ویران گلی میں چھاپہ مارا گیا جہاں سے بھاری مقدار میں ملاوٹ شدہ دودھ اور اس تیاری میں استعمال ہونے والی مہلک اشیاء برآمد کی گئیں، دکان کے باہر مقدس عبارت “بسم اللہ ڈیری شاپ” کا بورڈ آویزاں تھا نعوذبااللہ اب اللہ کے نام پر بھی اس طرح کے مکروہ دھندے کرنے سے لوگ باز نہیں آتے۔

تحصیلدار سید قمر کاظمی نے گزشتہ روز ایک ایسی فل کیبن گاڑی کو پکڑ سب کو حیران کر دیا جس کے کیبن کے اندر قریباً ہزار لیٹر سے زائد کی ٹینکی چھپائی گئی تھی جس میں دودھ کے نام پر زہر سپلائی کیا جاتا رہا اور ہوٹلوں میں ہم مزے لے لے کر اس کی چائے تو خیر پیتے تھے مگر یہی زہر کے فیڈر ہم اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو بھی پلاتے رہے اور کلینکس کے کاروبار میں اضافہ ہوتا رہا

اس طرح کی بند گاڑیاں عموماً ادویات کے کاروبار اور ہول سیل کے کاروبار میں استعمال ہوتی ہیں اور روزانہ بیسیوں گاڑیاں سڑکوں پر دوڑ رہی ہوتی ہیں اور ایک ایک گاڑی کو اگر روزانہ چیک کیا جائے تو پھر پولیس کو شائد ساری فورس اسی کام پر مامور کرنی پڑے گی آخر بحیثیت شہری ہمارے بھی کوئی فرائض ہیں ہم ہر برے کام کی روک تھام صرف پولیس کی زمہ داری ہی کیوں سمجھتے ہیں۔کیا جب تک قانون کی نظر میں نہ آئے ہم ہر جرم کو اسی طرح دیکھ کر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے بیٹھے رہنے سے بچ پائیں گے۔

باغ میں زلزلے کے بعد ملنے والے اربوں روپے کے فنڈز سے یوں تو شہر کی قسمت میں کوئی خاص بدلاؤ نہیں آنے دیا گیا کہ شہری بھی اسی سوچ کے اسیر تھے کہ فنڈز آئے ہیں تو ان کا خرچ بھی محکموں کی زمہ داری ہے پھر جو ہوا سو ہوا مگر ان فنڈز سے شہر میں ایک اچھا لای اڈہ بھی تعمیر ہوا جس کے ٹائلز لگے فٹ پاتھ پر پہلے ہی راتوں رات 1 سو کے لگ بھگ غیر قانونی کھوکھے تعمیر کر کے جانے کس کس کی ہوس زر کو پورا کیا گیا۔

گزشتہ روز بھی طاقت و رعونت کے زور پر لاری اڈہ کے ٹائلز لگے فٹ پاتھ پر کوئی قبضہ گروپ کھوکھے نما پختہ دوکانیں تعمیر کر رہا تھا کہ انتظامیہ نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے نا جائز قبضہ کی کوشش ناکام بنا دی، شہر میں جاری تجاوزات کیخلاف آپریشن کو گو کہ مزید بہتر بنانے سڑکوں کے بیچ، کسیوں، ندی نالوں، ڈرینیج اور فٹ پاتھس پر غیر قانونی تعمیرات کو مسمار کرنے کا عمل سست روی کا شکار ہے۔

جنگلات دفاتر کے باہر، جی پی او کے سامنے اور لاری اڈہ میں مشروم کی طرح اگی غیر قانونی تعمیرات کو مسمار کرنے میں کیا امر مانع ہے یا کیا عوامل حائل ہیں مگر جب تک یہ سب مسمار نہیں ہوتے شہر کی وسعت کم ہوتی رہے گی مگر اس کیلئے آج تک شہر سے کوئی آواز بھی نہیں بلند ہوئی اور اگر ماں جیسی ہستی بچے کو روئے بغیر دودھ نہیں ہوتی تو شہر والو یاد رکھو خواب غفلت سے بیدار نہ ہوئے تو گھاٹے رہو گے اور تمہارے مضافات میں کوئی نیا ڈی ایچ اے، ڈیفنس اور بحریہ بس جائے گا۔

باغ میں ڈپٹی کمشنر ندیم احمد جنجوعہ ایس ایس پی مرزا زاہد حسین کی سربراہی میں انتظامی مشینری کو کووڈ 19 کی وبا سے بچاو کیلئے حفاظتی اقدامات سے لیکر شہریوں کی صحت وسلامتی، منشیات کے قبیح دھندے کی بیخ کنی اور مضر صحت اشیاء کے کاروبار کے منطم نٹ ورک کیخلاف گھیرا تنگ کرنے پر قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

مزید :

علاقائیآزادکشمیرمظفرآباد

You may also like

Leave a Comment