Home » بائیڈن انتظامیہ: توقعات اور خدشات

بائیڈن انتظامیہ: توقعات اور خدشات

by ONENEWS

بائیڈن انتظامیہ: توقعات اور خدشات

عالمی اور علاقائی سیاست میں بنیادی تبدیلیاں ہونے جا رہی ہیں امریکہ میں سفید نسل پرست ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت ایک تبدیلی لے کر آئی لیکن حالیہ انتخابات میں اسی ڈونلڈ ٹرمپ کا گزشتہ انتخابات سے زیادہ ووٹ لینے کے باوجود ہار جانا حیران کن اور جوبائیڈن کا جیت جانا ایک بہت بڑی تبدیلی ہے جس کے عالمی و علاقائی سیاست میں واضح اثرات نظر آئیں گے۔ ذرا غور کریں تین ایٹمی طاقتیں کہاں ایک دوسرے کے مقابل کھڑی ہیں کشمیر ایک خطرناک خطہ بن چکا ہے۔ اگست 2019ء میں مودی سرکار نے کشمیرکی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر کے اسے بھارتی یونین کا حصہ قرار دے کر پاکستان اور چین کے ساتھ ایک نئی مخاصمت کا آغاز کیا گزرے 16/18 مہینوں کے دوران بھارت چین تصادم بھی ہو چکے ہیں چین نے لداخ میں عسکری تنصیبات بھی قائم کرنا شروع کر دی ہیں چین ایک عرصے سے اس خطے پر اپنا حق جتاتا رہا ہے جس طرح مقبوضہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازعہ علاقہ ہے اسی طرح لداخ بھی بھارت چین کے درمیان متنازعہ علاقہ رہا ہے یہ الگ بات ہے کہ چین نے اپنے دعوے کو اس سے پہلے عزم بالحزم کے ساتھ دہرایا نہیں ہے ویسے تو 1962ء میں اس حوالے سے ہند چین جنگ بھی ہو چکی ہے جس میں چین نے بھارت کی ٹھکائی کی تھی مسئلہ کشمیر پر پاک بھارت 70 سالوں سے حالتِ جنگ میں ہیں جنگیں بھی ہو چکی ہیں جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں اس خطے میں تین ایٹمی قوتیں آمنے سامنے کھڑی ہیں۔

اس کے ساتھ ہی دنیا کی بڑی سپر طاقت اپنے حلیفوں سمیت گزرے 19 سالوں سے افغانستان میں مصروفِ جنگ رہی لیکن وہ افغانوں کے جذبہ حریت کو شکست نہیں دے سکی طالبان کے ساتھ مذاکرات کے بعد اس معاہدے کے نتیجے میں مئی 2021ء تک یہاں سے نکلنا طے پایا تھا۔ یہ امن معاہدہ بھی ایک بڑی تبدیلی تھی ایک حیران کن واقعہ تھا ایک بہت بڑی تبدیلی تھی  ایک بہت بڑی مثبت پیش رفت تھی جس کے خطے میں اچھے اثرات مرتب ہونے کی توقع تھی لیکن معاملات جس طرح ظاہر ہو رہے ہیں اس سے ایسی تمام امیدوں پر پانی پھرتا نظر آ رہا ہے حال ہی میں نئی امریکی انتظامیہ کی خارجہ پالیسی بارے بریفنگ میں غیر ملکی تعلقات کی کونسل کے سینئر پریذیڈنٹ جیمز ایم لنڈسے نے پیش گوئی کی کہ پینٹا گون اور وائٹ ہاؤس کے درمیان افغانستان میں امریکی فوجیوں کی موجودگی کے بارے میں مفاہمت پیدا ہو جائے گی، گزشتہ برس کے آغاز میں امریکہ اور طالبان کے درمیان دوحہ میں ہونے والے امن مذاکرات کی طے کردہ شرائط کے مطابق مئی 2021ء تک تمام امریکی افغانستان سے نکل جائیں گے۔ 20 جنوری 2021ء کے بعد بائیڈن انتظامیہ کے اقتدار سنبھالنے سے لے کر کئی سینئر افسران، اس بات کا اظہار کر چکے ہیں ہیں کہ مئی 2021ء تک تمام امریکی فوجیوں کا انخلا ممکن نہیں۔

دوسری طرف بائیڈن ایڈمنسٹریشن پاکستان کے ساتھ تعلقات کو ”اور بھی زیادہ مفید“ بنانے کا اعلان کر چکی ہے کیونکہ خطے میں جہاں امریکہ کے علاوہ تین ایٹمی طاقتیں بشمول چین، بھارت اور پاکستان مسئلہ کشمیر پر الجھی ہوئی ہیں افغانستان میں پاکستان کے بغیر، پاکستان کی عملی کاوشوں کے بغیر امریکی فوجوں کا باعزت انخلا ممکن نہیں امریکی اتحادی طالبان کے ہاتھوں گزرے 18 سالوں کے دوران بری طرح پٹ چکے ہیں۔ طالبان امریکیوں اور افغان حکومت  کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات کے لئے تیار ہی نہیں تھے وہ جنگ بندی کے بغیر امریکی افواج کے انخلاء کے لئے ہرگز تیار نہیں تھے۔ امریکی بھی اپنی شکست کو کسی معاہدے میں چھپا کر یہاں سے لوٹنے کی منصوبہ بندی کر چکے تھے انہیں معلوم ہو چکا تھا کہ وہ یہاں جنگ جیت نہیں سکتے لیکن وہ دنیا کو اپنی شکست کا تاثر بھی نہیں دینا چاہتے تھے اس لئے وہ چاہتے تھے کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر بٹھایا جائے جس کے لئے انہیں پاکستان کی ضرورت تھی پاکستان نے یہ کام کر دکھایا اور فروری 2020ء کو امریکیوں اور طالبان کے درمیان ایک امن معاہدہ ہو گیا جس کی بہت ساری شقوں میں ایک شق مئی 2021ء میں امریکیوں کا افغانستان سے مکمل انخلا بھی تھی جس کے بارے میں بائیڈن انتظامیہ نے ”سوچ و بچار“ کرنا شروع کر دیا ہے۔ایک طرف طالبان پر ”وعدہ خلافیوں“ کے الزامات لگائے جا رہے ہیں انہیں امن معاہدہ سبوتاژ کرنے کا ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے افغان حکومت بھی طالبان پر جنگ بازی کے الزامات عائد کر رہی ہے۔ دوسری طرف نئی امریکی انتظامیہ مسئلہ افغانستان کے حل کے لئے پاکستان کے کردار کو ماضی میں پاکستان کی کاوشوں کی تعریف و توصیف کر رہی ہے لیکن ساتھ ساتھ معاملات کو بہتر بنانے کے لئے ”مزید کاوشوں“ کے لئے بھی ابھار رہے ہیں۔

تاریخ کے طالبعلم کے طور پر مجھے پہلے بھی یقین تھا اور اب بھی ہے کہ امن معاہدہ قائم رہے یا نہ رہے، امریکی فوجی چلے جائیں یا اپنا وقتِ قیام بڑھالیں جنگ تو ہر صورت میں ہو کر رہنی تھی اور ہو کر رہے گی کیونکہ امن معاہدے کا امریکیوں کے لئے مقصدِ اولین با عزت واپسی اور مقصد آخریں کابل میں ایسی حکومت کا قیام ہے جو امریکی مفادات کی نگران و نگہبان ہو۔ باقی سب درمیانی شقیں ایسی ہی ہیں طالبان کا اولین مقصد یا مقصدِ وحید جارح افواج کی اپنی سرزمین سے رخصتی تھا اور ہے باقی تمام قول و قرار ایسے ہی تھے طالبان امریکیوں نے انخلاء کے ساتھ ہی افغان حکومت کو تہس نہس کرنے کا پروگرام رکھتے تھے اور ہیں۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment