Home » ایک پہیہ ٹریکٹر…… ایک کار کا

ایک پہیہ ٹریکٹر…… ایک کار کا

by ONENEWS

ایک پہیہ ٹریکٹر…… ایک کار کا

میرے ایک دوست جو انگریزی اَدب کے مقتدرعَالم ہیں اوریونیورسٹی میں درس و تدریس کے مبارک پیشہ سے وابستہ ہیں، پچیس سال پہلے نہر کنارے امریکن سکول لاہور، میں انگریزی پڑھاتے تھے۔ اگرچہ اُن کا تعلق جھنگ کے دیہاتی پس ِ منظر سے تھا، مگر اعلیٰ کردار کے علاوہ انگریزی لب و لہجہ اور زبان پر دسترس سکول کے ہراتالیق کو متاثر کرتی تھی۔اُن کی ایک ہم پیشہ خاتون جس کا تعلق لاہور کے ایک صاحب ِ ثَروت گھر انے سے تھا، اُن میں دلچسپی لینے لگی۔بالآخرایک دن خاتون نے اُنہیں شادی کی پیشکش کر دی۔میرے دوست نے خاتون سے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ جب تک وہ سی ایس ایس نہیں کر لیتے یا کم از کم انگریزی اَدب کے سرکاری سطح پر لکچررنہیں لگ جاتے، تب تک وہ شادی جیسی اہم ذمہ داری سے دور رہنا چاہتے تھے۔ان دنوں انہوں نے پنجاب پبلک سروس کمیشن میں انگریزی کی لیکچرر شپ کے لئے انٹرویو دے رکھا تھا۔ چند دنوں بعد نتیجہ آیا تو اُن کا نام کامیاب امیدواروں کی فہرست میں تھا۔ اُن کی پہلی تعیناتی گورنمنٹ کالج جھنگ میں ہوئی، چونکہ عدم موبائل کا زمانہ تھا،لہٰذاگھر کے ٹیلی فون پر اُن کی ہم پیشہ خاتون نے کال کردی۔ خیروعافیت اور مبارکبادکے چند رسمی جملوں کے بعد خاتون نے اُنہیں یاد دلایاکہ آپ نے شادی کو سرکاری ملازمت سے مشروط کیا تھا۔ لہٰذا اب توشادی کے لئے پیشرفت ہونی چاہئے۔

جواب میں میرے دوست نے جو کہا وہ لائق توجّہ ہے۔”دیکھئے، محترمہ! ہم دونوں بہت اچھے دوست رہے ہیں،مگر آپ مجھے اتنا ہی جانتی ہیں جتنا اور جیسا آپ نے مجھے دیکھا یا میں نے آپ کو بتایا،اور وہ کچھ جو مَیں نے آپ کو نہیں بتایا یاظاہر نہیں ہونے دیا اُس کے بارے میں آپ کو قطعاً کچھ معلوم نہیں ہے۔ دراصل، زندگی میں ہم جہاں بھی رہتے ہیں، پڑھتے ہیں یا کام کرتے ہیں ہماری بطورِ انسان عموماً یہ کوشش ہوتی ہے کہ اپنے بارے میں صرف اچھی باتیں دوسروں پر ظاہر کریں، اورجو ہم میں اچھی نہیں ہیں وہ بھی اچھی بنا کر پیش کریں۔ہماری توجہ مسلسل اس بات پر مرکوز رہتی ہے کہ ہمارے منہ سے کوئی ایسی بات سہواًبھی نہ نکل جائے جو ہماری خاندانی، معاشرتی یا معاشی پس منظر پر اُنگلی اُٹھاتی ہو۔ہم دونوں نے بھی دورانِ عرصہئ واقفیت، بطورِ رفیق پیشہ کے یہی کچھ کیا۔ شادی دواشخاص کا نہیں،بلکہ دو خاندانوں کا بندھن ہوتا ہے۔ شادی سے پہلے دونوں خاندانوں کو ایک دوسرے کے رہن سہن، رسم و رواج، میل ملاپ اور ترجیحات کا بخوبی پتہ ہونا چاہئے۔ دونوں کے منفی اور مثبت رجحانات کا خاطرخواہ علم ہونا چاہئے۔میری خواہش ہے کہ شادی کا فیصلہ کرنے سے پہلے مَیں آپ کو اپنے بارے آج وہ کچھ بھی بتا دوں جوپہلے آپ کو معلوم نہیں ہے۔ اگرتصویر کا دوسرا رخ دیکھ کر بھی آپ اپنے فیصلے پر قائم ہیں تو مجھے قبول ہے۔ہم چھ بہن بھائی ہیں،جن میں سب سے بڑا میں ہوں۔ میرے والدصاحب ریٹائرڈ سکول ٹیچرہیں اوربوجہ علالت بستر پرہیں۔ والدہ اوربہنیں گھرکاساراکام کرتی ہیں۔ ہماری اپنی کھیتی باڑی ہے،جہاں ہماری خواتین مردو ں کے شانہ بشانہ کام کرتی ہیں۔مجھے تین بھائیوں اور دو بہنوں کی تعلیم اور شادیوں میں والدین کا ساتھ دینا ہے۔ ایسے ماحول میں آپ میرے ساتھ رہنا پسند کرو گی تو مجھے منظور ہے“۔

دوست کے بقول،تفصیلی پس منظر جان لینے کے بعد خاتون کی طرف سے اُنہیں دوبارہ ٹیلی فون کال کبھی نہ آئی۔

مندرجہ بالا واقعہ بظاہر ایک لڑکے اور لڑکی کے پیشہ ورانہ تعلق اور شادی کی طرف بڑھتی ہوئی بات سے متعلق ہے۔ اس واقعہ کے اندر ہمارے معاشرہ کے لئے قابل ِ عمل سبق موجود ہے۔ آج خواتین مل بیٹھیں،بزرگ کسی مجلس میں اکٹھے ہوں یا دوستوں میں غیر رسمی گپ شپ چل رہی ہوتوجس امرپر سب سے زیادہ بحث، افسوس اور پچھتاوے کی بات ہو رہی ہوتی ہے، وہ شادیوں کی ناکامی ہے۔دیہات میں رہائش پذیر آبادی کی ہر بات طشت ازبام ہوتی ہے۔ بستی یاگاؤں کا بچہ بچہ اُن کے خاندانی، معاشی اور معاشرتی پس منظر یا مقام سے بخوبی آگاہ ہوتا ہے، لیکن شہروں میں بسنے والے ہم وطنوں کی پہچان پر غیر معروفیت کا پردہ پڑا ہوتا ہے۔دکھ درد بانٹناتودور کی بات،سالہاسال پڑوس میں رہنے کے باوجود بسا اوقات پڑوسی کے نام تک کا پتہ نہیں ہوتا۔ اس سے بڑھ کرافسوس کی بات بھلاکیا ہو سکتی ہے کہ دربار داتا صاحب کے سامنے ایک ہی گھرمیں ایک سومعصوم بچوں کو بہیمانہ طریقے سے قتل کر دیا گیا،مگرکسی پڑوسی کوکانوں کان خبر نہ ہوئی۔ایسے میں خاندانوں کے مزاج کو سمجھے، ر ہتل اور وسیب کوپرکھے بغیرجب رشتے ناطے ہوتے ہیں تو وہ کبھی ایک گاڑی کے دو متوازن پہیے ثابت نہیں ہوتے،بلکہ ایک پہیہ ٹریکٹر کا اور دوسرا کار کا ثابت ہوتا ہے۔

آج جب اولاد کی تعلیم، اخلاق اور مزاج ہماری منشا کے مطابق نہیں ڈھلتے تواس کی وجوہات جہاں ہم سوشل میڈیا کے استعمال اور دیگر عوامل میں ڈھونڈتے ہیں وہاں میاں بیوی کی معاشرتی عدم موافقت،عادات و رہن سہن کے مختلف معیارات بھی ہیں، کیونکہ یہ عدم موافقت انہیں اُس خوشی سے دور رکھتی ہے، جو شادی کے بندھن کا مغز ہے۔ ایسے میں اگر تمام موافقت اور توازن کے قیام کی کوششیں ناکام ہو جائیں تو اسلامی روح کے عین مطابق علیحدگی اُس سنگم سے کہیں بہتر ہوتی ہے جس میں ہر وقت کی نوک جھوک، گالم گلوچ، مار پیٹ ہی حاصلِ اَمر ہو۔ اگرچہ آج کا نوجوان شادی کے لئے ”محبت“ نامی تعلق کا زینہ چڑھتا ہے (اس پر اگلے کالم میں قلم آرائی ہو گی)۔ اگر اُس کا ”جوہرِ محبت“ رہتل،وسیب اور اُس کی ذاتی عادات سے ٹکراتا ہو گا تو ایسی شادی وقوع پذیر ہوتے ہی اختتام کی جانب سرپٹ دوڑرہی ہو گی۔ معاشرتی لاکھ مجبوریاں سہی، مگر والدین کو بلا تحقیق و تصدیق اپنی اولاد کے رشتے متعین کرنے یا اُن کے آگے سرتسلیم خم کرنے سے پہلے چارسُو پھیلے ہوئے نتائج سے سبق ضرور حاصل کر لینا چاہئے، تا کہ ساری زندگی ریزہ، ریزہ پچھتاوے کی بھٹی میں نہ جھلسنا پڑے۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment