Home » ایک لاکھ ایکڑ پر مشتمل پانچ ہزار ارب روپے کا نیا لاہور شہر کس کی ضرورت؟

ایک لاکھ ایکڑ پر مشتمل پانچ ہزار ارب روپے کا نیا لاہور شہر کس کی ضرورت؟

by ONENEWS

ایک لاکھ ایکڑ پر مشتمل پانچ ہزار ارب روپے کا نیا لاہور شہر کس کی ضرورت؟

وزیراعلیٰ پنجاب جناب عثمان بزدار کے حوالے سے الیکٹرونک اور سوشل میڈیا نے گزشتہ 22ماہ سے یہ تاثر قائم کیا ہے وہ کمزور وزیراعلیٰ ہیں، ان کی گرفت کمزور ہے،22ماہ میں چار چیف سیکرٹری، چار آئی جی اور اسی طرح بیورو کریسی کی درجنوں شخصیات کی بار بار تبدیلی کو جواز بنایا گیا ہے۔گزشتہ ہفتے وفاق میں مائنس ون کی گونج سنائی دے رہی تھی اور رواں ہفتے وزیراعلیٰ پنجاب کے لئے چار نام باقاعدہ شائع اور نشر کیے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف مسلم لیگ(ن) کے باغی ارکان کی تعداد بھی ہر آنے والے دن میں بڑھ رہی ہے، مرکز میں یا صوبہ پنجاب میں تبدیلی آتی ہے یا نہیں آتی۔ یہ سب کچھ آج کے کالم میں زیر بحث لانا مقصود نہیں۔

گزشتہ ہفتے جب سے وزیراعلیٰ پنجاب نے لاہور میں دبئی اور سنگاپور طرز پر ایک لاکھ ایکڑ سے زائد رقبے پر پانچ ہزار ارب روپے کے خرچے سے نیا شہر بنانے کی منظوری دی ہے اور اس کے لئے باقاعدہ ریور راوی فرنٹ اتھارٹی کے قیام کا اعلان کیا ہے اور نئے شہر کے قیام سے لاہور کو ماحولیات، پانی اور ٹریفک کے مسائل کا حل قرار دیا ہے اور اہل ِ پاکستان کو نوید سنائی ہے، بڑی جھیل تین بیراج، ہائی رائز بلڈنگ کے لئے پانچ ہزار ارب روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب جناب عثمان بزدار کی طرف سے ریور راوی فرنٹ اتھارٹی قائم کرنے اور دبئی اور سنگاپور طرز پر نیا شہر بنانے کے اعلان کے بعد میرے موقف میں تبدیلی آئی ہے، مَیں گزشتہ 22ماہ سے الیکٹرونک، پرنٹ اور سوشل میڈیا پر جناب عثمان بزدار کے خلاف جاری کمزور وزیراعلیٰ ثابت کرنے کے پراپیگنڈے کو مسترد کرتا ہوں، اس کے لئے مَیں کسی بھی صحافی دوست کے ساتھ مناظرے کے لئے تیار ہوں، مَیں اینکر حضرات اور تجزیہ نگار حضرات سے درخواست کروں گا کہ وہ بھی اپنی رائے تبدیل کریں، کیونکہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اس تاریخی منصوبے کو شروع کرنے اور مکمل کرنے کا اعلان کر رہے ہیں،جس پر دُنیا بھر میں مقبول عام دبنگ وزیراعلیٰ کا خطاب حاصل کرنے والے میاں شہباز شریف بھی دو سال تک پیپر ورک کرا کرا کر بریفنگ لے لے کر ناقابل ِ عمل قرار دے کر ہاتھ کھڑے کر چکے ہیں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ کمزور سمجھے جانے والے وزیراعلیٰ عثمان بزدار صاحب میاں شہباز شریف کے اس خواب کو شرمندہئ تعبیر دینا چاہ رہے ہیں جس کے لئے سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے دو سال تک ایک لاکھ سے زائد ایکڑ زمین کی ٹرانسفر اور رجسٹریاں بند رکھیں اور46 کلو میٹر تک زمین مالکان کو نوٹس جاری کئے، تگڑے بیورو کریٹ احمد چیمہ اور دیگر افسران کو ہائی رائز بلڈنگ، راوی کے پانی کے استعمال، ریور راوی فرنٹ اتھارٹی کی فزیبلٹی پر لگائے رکھا۔سابق دلیر اور مقبول وزیراعلیٰ میاں شہبازشریف نے ہزاروں کسانوں، سینکڑوں دودھ فروشوں، سینکڑوں سبزی فروشوں اور درجنوں الیچی اور سٹرابری کے فارموں کے مالکان کو جو احتجاج کر رہے تھے اور دہائی دے رہے تھے کہ لاہور کو دودھ سبزیاں یہ زرخیز علاقہ فراہم کرتا ہے۔ پاکستان میں الیچی اور سٹرابری کی پیداوار اس علاقے سے شروع ہوئی،آج بھی الیچی کی پہچان شرقپور روڈ ہے، راقم کو یاد ہے کہ بیگم کوٹ سگیاں، شاہدرہ، شرقپور روڈ میں سبزی فروشوں، کسانوں، دودھ فروشوں کی ایکشن کمیٹیاں بنیں۔

شرقپور روڈ بیگم کوٹ اور46کلو میٹر کے علاقے میں میاں ذکاء الرحمن، میاں محمود کی قیادت میں جلوس نکلے، تمام سیاسی مذہبی جماعتوں اور تنظیموں نے ریور منصوبے کو کسان دشمن منصوبہ قرار دیا اور کہا گر الیچی اور سبزیوں کے باغات اوجاڑ کر راوی منصوبہ بنایا گیا تو اہل لاہور کو کبھی تازہ دودھ اور سبزیاں نہیں ملا کریں گے۔ میاں شہبازشریف نے ہزاروں خاندانوں کے احتجاج کو پس ِ پشت ڈالتے ہوئے اس منصوبے کو شروع کرنے کی ضد پکڑے رکھی۔ ایک درجن کے قریب کسانوں کی طرف سے عدالت عالیہ سے بھی رجوع کیا گیا اور لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس عائشہ اے ملک کی عدالت میں ابھی بھی سماعت جاری ہے کسی احمد داؤد کی طرف سے وقار اے شیخ ایڈووکیٹ دلائل دے رہے ہیں ان کا موقف ہے ایل ڈی اے اور لوکل گورنمنٹ کے پاس اتنی اراضی ایکوائر کرنے کے لئے فنڈ نہیں ہیں، منصوبے کے لئے کوئی این او سی نہیں لیا گیا۔ منصوبے سے ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہو گا، درخواست گزار نے استدعا کی ہے، راوی اربن زون منصوبے کے لئے ایک لاکھ ایکڑ زمین ایکوائر کرنے کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے۔

یہ کہانی سنانے کا مقصد یہ ہے بلاخوف منصوبے مکمل کرنے والے سابق وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف ریور راوی منصوبہ شروع نہ کر سکے، تین سال بعد46کلو میٹر تک بند کی گئی،رجسٹریاں اور ٹرانسفر دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دی۔ شہباز شریف کے حوالے شے مشہور تھا جو فیصلہ کر لیتے ہیں اس سے پیچھے نہیں ہٹتے،کمزور لہجے اور میڈیا کے مطابق کمزور قرار پانے والے وزیراعلیٰ عثمان بزدار ان حالات میں پانچ ہزار ارب روپے کا منصوبہ شروع کرنے جا رہے ہیں، جب گزشتہ22ماہ سے پنجاب کے ترقیاتی کاموں کے لئے ایک روپے ایشو نہیں ہو سکا، پنجاب بھر کی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، ضلعی حکومتیں سڑکوں کی مرمت کرنے سے معذوری کا اظہار کر رہی ہیں۔ ایک نیا ہسپتال نہیں بن سکا، رہی سہی کسر کورونا اور لاک ڈاؤن نے پوری کر دی ہے۔ وزیراعظم سے لے کر وزیر خزانہ تک ملکی معیشت کی ڈوبتی ناؤ کو پار لگانے کے لئے دُنیا بھر کے دوستوں کے آگے ہاتھ پھیلا رہے ہیں،ہزاروں افراد بے روزگار ہو رہے ہیں، لاہور جیسے شہر میں واسا جیسے بڑے محکمے کے پاس فالتو بجٹ نہیں ہے، ڈاؤن سائزنگ کی جا رہی ہے، تنخواہ دینے کے لئے پیسے نہیں ہیں، لاہور میں اگر کسی سڑک پر مرمت کے لئے کام شروع ہوا ہے تو وہ حصے مکمل ہو کر بقیہ سڑک کی تکمیل کے لئے بجٹ کے منتظر ہیں۔

وفاقی اور صوبائی ملازمین تنخوہوں میں اضافہ نہ ہونے پر احتجاج کر رہے ہیں۔ ان حالات میں جب پرانا لاہور بجٹ نہ ہونے کی وجہ سے کھنڈر بن رہا ہے، میٹرو بند ہے، ٹرین کا منصوبہ بجٹ کا منتظر ہے، میٹرو ملازمین کو تین تین ماہ سے تنخواہیں نہیں ملیں، ابتری کے حالات میں وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی طرف سے پانچ ہزار ارب روپے سے نیا شہر بسانے کا منصوبہ دینا اور ایک لاکھ ایکڑ زمین کسانوں سے زبردستی لینے کا فیصلہ مذاق سے زیادہ نہیں ہے۔ خدارا قوم سے مذاق نہ کیا جائے، پہلے سے موجود لاہور کی حدود و قیود طے کی جائیں، پرانے لاہور میں رہنے والوں کی ضروریات کا جائزہ لیا جائے، ڈیڑھ کروڑ آبادی کے زیر استعمال سڑکوں کی مرمت کا انتظام کیا جائے۔پنجاب بھر کی اہم سڑکیں فیصل آباد روڈ، جی روڈ، ملتان روڈ، جڑانوالہ روڈ جو ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں ان کو مرمت کرایا جائے، ہسپتال اور پنجاب کے سکول بجٹ نہ ہونے کی وجہ سے ویران ہو رہے ہیں ان کا جائزہ لیا جائے، خیالی پلاؤ نہ پکائے جائیں، زمینی حقائق کے مطابق فیصلے کئے جائیں، ایک لاکھ ایکڑ پر کاشت کاری کرنے والوں کو بے روزگار نہ کیا جائے۔

لاہور شہر کو پیرس بنانے کا دعویٰ کرنے والے دبئی اور سنگاپور طرز کا شہر نہیں بنا سکے تو جناب والا یہ موجودہ حکومت کے بس میں بھی نہیں!

خدارا عوام کی ضروریات کا خیال کیا جائے جو ہر آنے والے دن میں ان کی پہنچ سے دور اور مہنگی ہو رہی ہیں۔

مزید :

رائےکالم

You may also like

Leave a Comment