Home » ایکسر سائز امن2021ء: چند تاثرات

ایکسر سائز امن2021ء: چند تاثرات

by ONENEWS

ایکسر سائز امن2021ء: چند تاثرات

اگلے روز (14فروری) منوڑہ کے ساحلوں کے پانیوں میں پاک بحریہ کی ایک کثیر القومی مشق ”امن ایکسر سائز2021ء“ کے نام سے چلائی اور دکھائی گئی۔ اس میں سوزو ساز پر مبنی مظاہرے شامل تھے،یعنی شمشیرو سناں بھی اور طاؤس و رباب بھی…… جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے چیئرمین جنرل ندیم رضا اس تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔ انہوں نے پاک بحریہ کی اس میری ٹائم (سمندری) مشق کو احسن طریقے سے منعقد کرنے پر بحریہ کی پیشہ ورانہ کاوشوں کو سراہا۔ ان کے ساتھ ہی پاک بحریہ کے نیول چیف ایڈمرل امجد خان نیازی بھی اس صوفے پر فرو کش تھے۔ سب سے پہلے اس مشق میں حصہ لینے والی بحریاؤں کے بینڈوں نے عسکری دُھنیں بجا کر ایک سماں باندھ دیا اور حاضرین سے داد سمیٹی۔اس کے بعد وہ سپیشل رائفل ڈرل تھی جو پاک میرین دستوں کی طرف سے دکھائی گئی اور اس کے بعد اصل مظاہرہ شروع ہوا جو سپیشل فورسز کی طرف سے کاؤنٹر ٹیررازم ڈرل کے طور پر پیش کیا گیا۔اس ”امن 2021ء“ مشق میں 45 ممالک کی بحریاؤں (Navies) نے حصہ لیا۔ مختلف ممالک کے بحری جہازوں کا عملہ مختلف وردیوں میں ملبوس جب ایک ہی مقصد کے حصول کے لئے آپریٹ کر رہے ہوں تو یہ ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔

ہر ملک کی نہ صرف اپنی اپنی عسکری اصطلاحیں اور ڈرلیں ہوتی ہیں، بلکہ اپنی اپنی SOPs بھی ہوتی ہیں، لیکن جب 45 ممالک کی بحریاؤں نے کسی ایک ہی مقصد کے لئے آپریشن میں جانا ہو تو یہ ڈرلیں اور اصطلاحیں بھی یک دل و یک جان و یک زبان ہونی چاہئیں۔اس یکسانی کا حصول ایک بڑا چیلنج ہے جو بار بار کی مشق و تمرین کا متقاضی  ہوتا ہے۔ اس کی مثال شادی کی ان رسومات سے دی جا سکتی ہے جو مختلف معاشروں میں مختلف ہوتی ہیں۔ڈانس، آلاتِ موسیقی، گیت و سنگیت، لباس اور صدا کاروں کی دھنوں کا زیر و بم جب ایک ہی دھن اور تھاپ میں ڈھالنا مقصود ہو تو اس کے لئے جس پریکٹس اور ریہرسل کی ضرورت ہوتی ہے،اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ یہ ”امن……2021ء“ ایکسر سائز اپنے مقصد کے لحاظ سے ایک ایسی ہی ایکسر سائز ہے جو چلائی جا  رہی ہے اور جس میں مختلف ممالک کے بحری جنگی جہاز دشمن کی طرف سے دہشت گردانہ حملوں کی روک تھام کے لئے اکٹھے ہو کر آپریٹ کر رہے ہیں۔ عسکری بینڈز کی شکل میں موسیقی کے الاپ اور تانیں اور سپیشل فورسز کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں تیز رفتار کشتیوں، ہیلی کاپٹروں اور ساحلی تنصیبات پر دہشت گردوں کی پکڑ دھکڑ اور چھاتہ بردار ٹروپس کا ساحل پر اُتر کر سپیشل ڈرلز کے زمینی دستوں کے ساتھ ملاپ کے مناظر بڑے دلچسپ اور حیران کر دینے والے تھے۔ حاضرین و ناظرین میں ایک بڑی تعداد غیر ملکی سفارت کاروں، مشق میں حصہ لینے والی بحریاؤں کے افسروں اور جوانوں (ملاحوں) اور پاکستان کی مسلح افواج کے اہلکاروں کی تھی۔

کئی ممالک کے سینئر نیول افسروں نے پاک بحریہ کے چیف سے ملاقاتیں کیں۔ اس انٹرایکشن میں دفاعی اشتراک اور میری ٹائم سیکیورٹی کے موضوعات پر ڈسکشن میں حصہ لیا۔ایڈمرل امجد خان نیازی نے بھی غیر ملکی بحریاؤں کے عسکری زعما اور اکابرین کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ”امن……21“ ایکسر سائز میں اس خطے میں امن ِ عامہ اور  میری ٹائم سیکیورٹی کی مساعی کو آگے بڑھانے میں ایک بھرپور کردار ادا کیا۔ نیوی چیف نے بھی جواباً اس کثیر القومی بحری مشق میں حصہ لینے والے بحری کمانڈروں کے جہازوں کو وزٹ کیا۔ اس وزٹ میں انڈونیشیا، سری لنکا اور روس کی بحریاؤں کے ایڈمرل شامل تھے۔

قارئین کی توجہ اس طرف مبذول کروانی بھی ضروری ہے کہ45 ممالک کی بحریاؤں میں امریکہ، روس اور چین جیسے بڑے ممالک کے دستے بھی شامل تھے۔ مَیں بالخصوص روسی بحریہ کا ذکر کرنا چاہوں گا۔

روس نے جو بحری جنگی جہاز اس ایکسر سائز میں بھیجا وہ بحیرہئ اسود(بلیک سی) میں لنگر انداز بحری بیڑے کا حصہ تھا۔ اس جہاز کا نام ”ایڈمرل گری گورو وچ“ (Admiral Grigorovich)  تھا۔ اس بحری جنگی جہاز کے ساتھ دو چھوٹے جنگی جہاز اور بھی تھے۔ گری گورو وچ 4000 ٹن کا ایک بڑا فریگیٹ ہے جس میں میزائل نصب کئے جا سکتے ہیں۔ ان کے علاوہ تار پیڈو(آبدوزوں کو غرقاب کرنے کے لئے CL طیارہ شکن توپیں اور آبدوز شکن میزائل بھی لے جائے جا سکتے ہیں ……

جو قارئین جدید بحری اصطلاحوں سے باخبر نہیں ان کے لئے فریگیٹ، کروزر، تباہ کن اور تیز رفتار کشتیوں کی تفصیلات اس مختصر کالم میں بیان نہیں کی جا سکتیں۔ اس کے لئے ان کو ان جدید بحری پلیٹ فارموں کی ارتقائی تاریخ کا مطالعہ کرنا ضروری ہو گا۔

جب ایڈمرل امجد خان نیازی نے ایڈمری گری گورو وچ کا وزٹ کیا تو روسی وزارتِ دفاع کی طرف سے ان کو اس فریگیٹ کے ویپن سسٹم پر ایک تفصیلی بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ اس پر جو مواصلاتی سازو سامان (Equipment)  نصب ہے اس کی تفصیل کیا ہے۔(یہاں یہ بتانا شاید ضروری ہو کہ ایڈمرل امجد خان نیازی جو پاک بحریہ کے نیول چیف ہیں ان کے نام کے ساتھ ”ایڈمرل“ کا جو سابقہ لگا ہوا ہے وہ ان کا رینک ہے، جبکہ ایڈمرل گری گورو وچ میں ایڈمرل کا سابقہ، اس بحری جنگی جہاز کے نام کا حصہ ہے۔بحریہ میں جنگی جہازوں کے نام ان کے آبائی ممالک کے معروف اور سینئر افسروں کے ناموں پر رکھے  جاتے ہیں جیسے یو ایس ایس آئزن ہاور اور یو ایس ایس روز ویلٹ وغیرہ۔

یہ بحری جہاز جہاز(ایڈمرل گری گورو وچ)2016ء میں رشین بحریہ میں شامل کیا گیا تھا۔ اس لئے یہ ایک نسبتاً جدید روسی جہاز ہے۔اس ایکسر سائز میں اس کی شمولیت پاکستان اور روس کے مابین تیزی سے بڑھتے ہوئے گہرے بحری دفاعی تعاون کی آئنہ دار ہے۔ مزید برآں گزشتہ دو عشروں میں روس نے پاک فضائیہ کے جے ایف17- لڑاکا طیاروں کے لئے انجن بھی ایکسپورٹ کئے ہیں۔یہ بتانے کی ضرورت بھی نہیں کہ JF-17 لڑاکا طیارہ چین اور پاکستان کی مشترکہ کاوشوں کا ثمر ہے۔ روس اگرچہ انڈیا کو جنگی سازو سامان اور ہتھیار سپلائی کر رہا ہے، لیکن وہ پاکستان کو بھی دفاعی ساز و سامان بیچ رہا ہے۔

ایڈمرل گری گورو وچ، فریگیٹ قسم کے جہازوں کی ایک اصلاحی برانڈ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جب بھی اس جہاز کی طرح کے اور جہاز بنائے جائیں گے اور ان میں اسلحہ بارود کو رکھنے اور لے جانے کی گنجائش یکساں ہوں گی،ان کی رفتار، ہارس پاور، ڈس پلیس منٹ (Displace ment) یکساں ہو گی، دشمن سے نبرد آزما ہونے کی ٹیکنیکل صلاحیتیں برابر ہوں گی اور دشمن کی طرف سے اس پر وار کرنے کے امکانات اور ان واروں سے بچاؤ کی تدابیر یکساں ہوں گی تو ان تمام بحری جہازوں کو ”گری گورو وچ کلاس“ کا نام دیا جائے گا۔ہر بڑے اور بھاری بحری  اسلحہ کی ”قسم بندی“ (Categorization) انہی اصولوں پر کی جاتی ہے۔

کسی ملک نے اگر ان کو خریدنے کا آرڈر دینا ہو تو وہ صرف گری گورو وچ کلاس کا حوالہ دے گا۔ 2016ء میں جب یہ جہاز روس میں بنایا گیا تھا تو اس کا انجن جو یوکرائن کی شپ یارڈ یانٹر (Yantar) میں تیار کیا گیا تھا اس کی مزید سپلائی یوکرائن نے روس کو روک دی تھی۔ آپ کو یاد ہو گا کہ یوکرائن ہی میں ٹی72-، ٹی90- ٹینکوں کے انجن بھی تیار کئے جاتے ہیں جن کی سپلائی بھی روک دی گئی تھی۔اب جن ممالک کے پاس یہ ٹینک ہیں وہ روس سے نہیں،بلکہ براہِ راست یوکرائن سے یہ ٹینک (اور ان کے انجن وغیرہ) خرید رہے ہیں۔ (انڈیا ان ممالک میں سے ایک ہے)۔

انڈیا نے موقع غنیمت جانا اور گری گورو وچ کلاس کے جو دو جہاز یوکرائن میں زیر تعمیر تھے ان کو خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔ چنانچہ اکتوبر 2018ء میں انڈیا نے نہ صرف دونوں جہاز خرید لئے بلکہ یوکرائن سے اپنے گوا  شپ یارڈ میں دو مزید گری گورووچ کلاس جہاز بنانے کا معاہدہ بھی کر لیا ہے۔ ان جہازوں کی ٹوٹل قیمت2.5 ارب ڈالر ہے۔ یوکرائن میں بنائے جانے والے دونوں گری گورو وچ کلاس جہاز انڈیا کو 2024ء میں ڈلیور کر دیئے جائیں گے۔

درجِ بالا تفصیل بتانے کا مقصد یہ ہے  کہ روس نے اپنا ایڈمرل گری گورووچ کلاس کا جو جہاز اس ”امن……2010ء“ ایکسر سائز میں بھیجا ہے اور پاکستانی نیول چیف کو اس جہاز کی جو وزٹ کروائی ہے تو اس کا مقصد یہ بھی ہے کہ پاکستان اپنی شپ یارڈ میں ایسے ہی جہاز بنانے کا اگر ارادہ رکھے تو روس اس کی مدد کرنے کو تیار ہو گا۔ یہ کلاس، روس کے کسی شپ یارڈ میں بھی بنا کر پاکستان کے حوالے کی جا سکتی ہے۔اگر انڈیا کے پاس اس کلاس کے چار جہاز ہوں تو پاک بحریہ کے پاس کم از کم ایک جاز تو اس کلاس کا ہونا چاہئے۔

پاک بحریہ کے پاس اِس وقت گیارہ فریگیٹ ہیں جن برانڈکے نام ذوالفقارکلاس، طارق کلاس اور عالمگیر کلاس ہیں۔ان کا فُل لوڈ (Displace ment) 3200 سے لے کر 4200ٹن تک ہے۔ ان کے علاوہ پاکستان، چین سے  چار فریگیٹ خرید رہا ہے جن کی کلاس054 A/P کہلاتی ہے۔یہ جہاز فی الوقت چین کے ایک شپ یارڈ (Hudong) نزد شنگھائی میں زیر تعمیر ہیں۔ پاکستان نے ان میں سے دو کی خرید کا سودا 2017ء میں کیا تھا،جبکہ مزید دو فریگیٹ خریدنے کا سودا (Deal)جون2018ء میں کیا گیا۔ یہ چاروں بحری جنگی جہاز پاک بحریہ کو2021ء کے اختتام تک مل جائیں گے۔…… اس کی مزید تفصیل بھی دی جا سکتی ہے لیکن کالم کی سپیس مانع ہے اس لئے یہ ذکر پھر کسی اور وقت……!

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment