0

ایوان میں وزیراعظم کی تقریر اور؟؟؟

ایوان میں وزیراعظم کی تقریر اور؟؟؟

”کورونا“ کی وجہ، بلکہ خوف کے باعث ہم جیسے حضرات کا گھر میں مقید رہنا، کئی مسائل کا باعث بنا ہوا ہے۔اب تو اپنے پاس پڑی کتابیں بھی پڑھتے پڑھتے کچھ اور کتابوں کی ضرورت محسوس ہونے لگی ہے،ہمارے محلے دار اور سیر صبح کے ساتھی مرزا منور بیگ اس حوالے سے مالا مال ہیں، تاہم ان سے کتاب مانگنے کی ہمت نہیں ہوتی کہ انہوں نے بقول خود ایک اچھی کتاب ایک دوسرے ساتھی کو دی اور پھر واپس نہیں ہوئی،جب بھی مرزا منور بیگ نے ان سے مہذبانہ انداز سے پوچھا ”کتاب پڑھ لی“ تو جواب ملا، ”ابھی نہیں“ گفتگو آگے بڑھی تو پتہ چلا کہ بزرگوار کے پاس کتاب ابھی جوں کی توں ہے، سو ہم نے کتاب مانگنے کی بجائے تذکرہ کیا تو انہوں نے پیشکش کر دی کہ وہ ایک کتاب جو نئی آئی ہے، میل کر دیتے ہیں۔ وہ کھول کر پڑھ لی جائے، اب ہم ان کو یہ تو بتانے سے رہے کہ لیپ ٹاپ بھی بوڑھا ہو چکا اور ہم دن بھر اس کے ذریعے دفتری فرائض ہی پورے کرتے رہتے ہیں۔بہرحال یہ کوشش بھی ناکام ہے اور آج کل پھر سے بے نظیر بھٹو کی خود نوشت ”دختر مشرق“ کے دوسرے ایڈیشن سے حالات حاضرہ کا جائزہ لے رہے ہیں،اسے اتفاق ہی کہہ سکتے ہیں کہ ہفتہ رفتہ ان کے یوم پیدائش کا بھی تھا، ان کی جماعت پیپلزپارٹی نے یہ تقریب بڑی سادگی سے منا لی، ان کے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری نے گڑھی خدا بخش جا کر قبر پر حاضری دی، فاتحہ خوانی کی اور پھول چڑھا کر اسلام آباد چلے آئے،جہاں انہوں نے ایک بار پھر قومی اسمبلی میں جذباتی تقریر کر ڈالی، کہ ان سے پہلے وزیراعظم عمران خان ایوان میں آئے اور انہوں نے ایک طویل تقریر میں اپنے موقف کا دفاع کیا۔انہوں نے زیادہ زور کورونا اور احتساب پر دیا اور کہا کہ جو لوگ ان کی باتوں میں تضاد تلاش کرتے ہیں وہ غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ کورونا کے حوالے سے پہلے روز سے ان کا ایک ہی موقف ہے کہ وہ سخت لاک ڈاؤن کے حق میں نہیں تھے کہ صحت کے ساتھ ساتھ روزگار کے مسائل جڑے ہوئے ہیں۔ عمران خان کی تقریر پسند بھی ہوئی اور تنقید کا باعث بھی بنی، اسی بناء پر بلاول بھٹو زرداری اور خواجہ آصف نے ان کو مناظرے کا چیلنج بھی دے دیا۔

وزیراعظم نے جو بجٹ سیشن کے پہلے روز طویل وقفے کے بعد ایوان میں آئے اور کچھ کہے بنا چلے گئے تھے وہ بجٹ تقریر کا دن تھا، تاہم جمعرات کو خوب دِل کی بھڑاس نکالی، ہماری حیرت تو یہ ہے کہ انہوں نے اپوزیشن کی طرف سے انتقامی الزامات کے جواب میں یہ تو کہا کہ ان کی کسی سے ذاتی لڑائی نہیں ہے،لیکن روایت کے مطابق تعاون کا ہاتھ نہیں بڑھایا۔یوں ان کی تقریر جواب اور جواب الجواب کا موضوع بن کر رہ گئی۔وزیراعظم عمران خان نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو کھسکا ہوا، متعصب انسان قرار دیا، تاہم اپنی تقریر میں کشمیر کا ذکر کرنے کے باوجود اِس سوال کا جواب نہیں دیا کہ بھارت سلامتی کونسل میں دو سال کے لئے عارضی رکنیت حاصل کرنے میں کس طرح کامیاب ہوا اور اسے بھاری تعداد میں ووٹ کیسے ملے ان میں برادر مسلمان ممالک کے ووٹ شامل ہیں،بلکہ کہا جاتا ہے کہ جب ماضی میں یہ مسئلہ سامنے آیا تو پاکستان نے بھارت کی حمایت کی اور تجویز کنندگان میں شامل ہوا اور اب ووٹ بھی دیا ہے، اس سلسلے میں چند روز قبل وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اسی حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کی،لیکن اس حوالے سے کوئی بات نہیں کی تھی۔

اب یار لوگوں نے کپتان کی اس فی البدیہہ تقریر(وہ عادی ہیں) کو کئی زاویوں سے دیکھنا شروع کر دیا اور ایک بڑا طبقہ تانے بانے وفاقی وزیر سائنس فواد حسین چودھری کے حالیہ انٹرویو اور کابینہ کے اجلاس میں بعض وزراء کے اعتراضات سے ملا رہا ہے،اور فواد حسین چودھری کی اس وضاحت کا بھی ذکر کرتا ہے جو انہوں نے تازہ تازہ کی کہ انٹرویو میں حالات کا تجزیہ کرنے کو کہا گیا اور جو وہ اپنی دانست میں جانتے ہیں، وہ بیان کر دیا، اس سے اتفاق کرنے والے بھی ہیں اور وہ بھی ہیں جن کو اختلاف ہے اور یہ ان کا حق ہے۔ان کا مزید کہنا ہے کہ جماعت کے بعض وزراء کو گلے اور شکایتیں ہیں،جو ان کے خیال میں جائز ہیں۔تاہم سب عمران خان کی قیادت میں متحد ہیں اور لیڈر واحد عمران خان ہیں، کوئی دوسری آپش نہیں۔یہ سب ایسے ہی چل رہا ہے اور بات میں سے بات نکالی جا رہی ہے،ہمارے اپنے خیال میں کچھ تبدیلی تو ضرور ہے،لیکن ابھی کوئی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہو گا،ہمارا اپنا تجزیہ بھی یہی ہے کہ ایسے حالات کو پنجابی میں ”دُھونی“ کہتے ہیں، جو بجھ بھی سکتی اور شعلہ بھی بن جاتی ہے، فی الحال انتظار ہی بہتر عمل ہے۔

بات کتاب اور بے نظیر بھٹو سے شروع ہوئی اور حالات حاضرہ پر چلی گئی کہ آج بعض حضرات اس دور بلکہ ادوار سے آج کے حالات کا موازنہ بھی کر رہے ہیں، ہم تو ان سب سے درخواست کریں گے کہ وہ سب بیٹی اور باپ کی ایک ایک کتاب ضرور پڑھیں۔محترمہ کی ”دختر مشرق“ اور ذوالفقار علی بھٹو کی ”اگر مجھے قتل کیا گیا“ ایسی ہی کتابیں ہیں جو آج کے دور میں بھی ”متعلقہ“ (Relevent) ہیں، اور ان سے کافی روشنی ملتی ہے۔ غالباً خان صاحب بھی کسی ”موڑ“ پر چونکے ہیں۔ قارئین! اس بار محترمہ کی پیدائش اور سالگرہ کے حوالے سے نہیں لکھ سکے کہ ذہنی رجحان نہیں ہوا، تاہم ”وہ بہت یاد آئیں،اور ہر ہر لمحے یاد آ رہی ہیں“۔

مزید :

رائےکالم





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں