Home » ایسی بے بسی؟

ایسی بے بسی؟

by ONENEWS


کرونا نے ونیا کے سیاستدانوں، حکمرانوں اور سیاسی دانشوروں پر یہ ایک بار پھر واضح کر دیا کہ قوموں کے تحفظ کے لئے اسلحہ کے انبار ہی نہیں۔ صحت اور تعلیم کے اعلیٰ معیار کی بھی ضرورت ہے کرونا نے ملکوں کو اندر سے تاریخ کے سرمایہ دارانہ نظام اور راہداری، سرمایہ دار ریاست کی ترجیحاتی منصوبہ بندی کے افلاس اور دوغلا پن کو بے نقاب کر دیا ہے اور ایک واضح پیغام دے دیا ہے کہ صحت اور تعلیم ہی قوموں کے تحفظ کا سب سے بڑا اسلحہ ہیں امریکہ پر کوئی دہشت گرد حملہ نہ ہوا۔ وہاں کوئی نیا 9/11 سامنے نہیں آیا، لیکن امریکہ میں نائن الیون سے ہزار گنا زیادہ اموات ہو گئیں۔ اٹلی پر 1940ء کی نوعیت کا کوئی اتحادی حملہ نہیں ہوا۔ لیکن اٹلی کے شہر لاشوں سے اٹ گئے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریوں کے بعد سرمایہ دارانہ نظام نے جنگ کو ایک صنعت میں تبدیل کر دیا تھا۔ امریکی اسلحہ کے ڈھیر ویت نام، کوریا سے لیکر مشرق وسطیٰ تک گزشتہ ستر برس سے جنگ کے میدان میں ڈھوئے جاتے رہے اور کامیاب تجارت جاری رکھی گئی۔ لیکن کسی ایک ممکنہ Pandamicکے لئے ایسی ریسرچ نہ کی۔

اربوں ڈالر سے سٹار وار کے لئے ریسرچ ہوتی ہے۔ ایٹم بم کے استعمال کے بعد جاپانیوں کی بھٹکتی ہوئی روحوں پر ہائیڈروجن بم کے تجربات کئے گئے۔ چین بین البر اعظمی میزائل تیار کئے۔ اندھیرے میں دشمن تلاش کرنے والی بندوق اور میزائل بنا ئے، لیکن سماج کے اندر شہروں کے بیچوں بیچ پھیل جانے والے وائرس کو نہ دیکھ سکے۔ پاکستان جیسے تیسری دنیا کے نام نہاد جمہوری ممالک کی ریاست گنجان شہروں کی تاریک جگہوں میں رہنے والے جمہوریت پسند اور انسانی حقوق کے لئے آواز بلند کرنے والوں کو فوری پابہ زنجیر کرنا تو ضروری خیال کرتی ہے۔ لیکن ملک میں ہر روز انسانوں کو موت کی طرف دھکیلنے والے یرقان، ہیضہ، ملیریا، ہیپاٹائٹس، ذہنی امراض اور پولیو جیسے خوفناک وائرس کی طرف دھیان دینے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی۔ کرونا نے سرمایہ دارانہ جمہوریت کے حکمرانوں کے کردار کو طشت ازبام کر دیا ہے لاہور میں نوے کروڑ روپے سے قائم کردہ کرونا سنٹر بند ہو گیا ہے صرف ایک ماہ اور چند روز میں نوے کروڑ روپیہ اس سنٹر نے کھا لیا جہاں رکھے جانے والے مریض ناچتے گاتے کہہ رہے تھے ہمیں تو کوئی بیماری نہیں۔اب جو بیمار تھے وہ متعلقہ حکام کی بے حسی کا رونا روتے رہے اور اب پتہ چلا کہ کرونا سنٹر بند کر دیا گیا ہے۔ ایسی بد انتظامی پر حکومت نے کیا نوٹس لیا ہے اور ذمہ داروں سے کیا پوچھ گچھ ہوئی قوم اس بارے میں جاننا چاہتی ہے۔ کئی روز سے یہ خبر پھیل چکی تھی۔لیکن حکومت کی طرف سے کوئی واضح جواب نہیں۔ اپوزیشن کے خلاف حکومت کے اقدامات جاری ہیں۔

حکومت نے اپوزیشن کے خلاف اپنی جارحانہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ لیکن جس کرپشن کے خاتمے کے نعرے اور مقصد کے لئے اپوزیشن کا ناطقہ بند کیا گیا ہے کیا اس وقت حکومتی وسائل کے استعمال اور انتظامی تساہل کے حوالے سے بھی اقدامات نظر آ رہے ہیں۔ موجودہ بجٹ نے سونے پر سہاگہ، مرے کو مارے شاہ مدار والا کردار ادا کیا ہے، گزشتہ ایک سال سے مہنگائی میں ہوش ربا اضافہ ہو رہا ہے۔ کرونا کی آمد کے بعد دوا ؤں اور حفاظتی سامان کی قیمتوں میں ہونے سے جو طوفان آتا ہے۔ اس سے ہر کوئی واقف ہے۔ لیکن کرونا کے بعد محنت کش طبقات کے لئے نہ صرف روزی کمانے کے امکانات ختم ہو رہے ہیں بلکہ ان کی قوت خرید میں کمی کا اندازہ لگانا م ان کے لئے مشکل ہے۔ جو بازار میں آٹے دال، ٹماٹر اور پیاز کی قیمتوں سے ہی واقف نہیں ہیں۔ حکومت بکرے کے گوشت کو نو سو روپے کلو بتاتی رہی جبکہ شہروں میں گوشت بارہ سو روپے اور 1000گرام کی بجائے 850گرام بک رہا ہے۔ تاجر نہ صرف ٹیکس نہیں دے رہے بلکہ مہنگائی میں بھی اضافہ من مانی سے کر رہے ہیں اور کوئی شنوائی نہیں۔ بجٹ میں تعلیم اور صحت کیلئے برائے نام رقم رکھی گئی ہے وزیر اعظم کو تعلیم کے لئے کام کرنے کا شوق ہے۔ انہوں نے میانوالی میں نمل یونیورسٹی قائم کی ہے۔

اقتدار میں آنے سے قبل وہ تعلیمی بجٹ میں اضافے کی بات بار بار کرتے تھے انہیں شاید علم ہو گا کہ ان کی حکومت اس وقت دنیا کی واحد حکومت ہے جس نے برسر اقتدار آنے کے بعد دو برسوں میں تعلیمی بجٹ کم کیا ہے پوری دنیا میں اس کی نظیر نہیں ملتی، یہی حال صحت کی بھی ہے، کرونا کی آمد کے بعد حکومت کو احساس ہو جانا چاہئے تھا کہ ملک میں صحت کے لئے اب زیادہ روپے اور وسائل کی ضرورت ہے گردشی قرضہ کس طرح کم کرنا ہے۔ اس کا ذکر تو نہیں ہوا صورتحال یہ ہے کہ ملک میں کاروبار ٹھپ ہے۔ سات بجے کے بعد دوکانوں اور بازاروں میں بجلی کا استعمال نہیں، ریسٹورنٹ، شادی ہال، شاپنگ سنٹر اور لاہور کے پوش علاقوں کے چندھیا دینے والی روشنیاں بھی بند ہیں، گرمی کا ابھی آغاز ہی ہوا ہے اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا آغاز ہو چکا ہے بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے الزام عائد کیا ہے، مشیر خزانہ حفیظ شیخ کی کمپنی میں بھارتی حصہ دار ہیں۔

یہ اس قرض کے پس منظر میں نام آتے ہیں جس کے حوالے سے یہ کہا جا رہا ہے کہ حکومت نے بعض غیر ملکوں مالی ایجنسیوں سے ساڑھے تیرہ فیصد شرح سود پر قرض لیا اور پاکستان کو شدید نقصان پہنچایا اور اس میں حفیظ شیخ نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اس وقت سٹیٹ بنک آف پاکستان اور دیگر اہم مالیاتی اداروں پر آئی ایم ایف کے سابقہ ملازمین بیٹھے ہوئے ہیں، ساڑھے تیرہ فیصد پر غیر ملکی قرض سستے ڈالروں میں سود کی ادائیگی ہے۔ اس سے پاکستانی معیشت پر کس طرح کا دباؤ آیا ہو گا یہ اندازہ لگانا مشکل ہے، خواجہ آصف نے ان کا نام ای سی ایل پر ڈالنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ اگر یہ سب صحیح ہے تو چینی، آٹا، سکنڈل کی طرح ساڑھے تیرہ فیصد قرض پر بھی ایک تحقیقاتی کمیٹی بننی چاہئے اور ایسی جے آئی ٹی بنے جو پانامہ اور آٹے چینی کے حوالے سے بنائی گئی تھی۔ اگرچہ اس قوم کی بے بسی تو سب پر واضح ہے لیکن ان اقدامات سے شاید مستقبل میں لوگ پاکستان کو لوٹنے سے پہلے سوچ لیا کریں۔

مزید :

رائےکالم





Source link

You may also like

Leave a Comment