0

اچانک لاک ڈاؤن؟؟

دو چار روز پہلے وزیراعظم عمران خان ٹیلی ویژن پر آئے اور کورونا وائرس کے عالمی متاثرین کی تعداد کا موازنہ پاکستانی متاثرین سے کیا۔ پلڑا پاکستان کے حق میں جھکا ہوا تھا۔ ریاضی کا مضمون اعداد و شمار کا کھیل ہے۔ اس تناظر میں اس وبا کا گراف پاکستانی حکومت کے لئے بہت خوش آئند تھا۔ انہوں نے مارچ سے لے کر اب تک لاک ڈاؤن کا ایک عمومی رن ڈاؤن ناظرین کے سامنے رکھا اور ثابت کیا کہ انہوں نے اس سلسلے میں جو اقدامات اٹھائے ان کے طفیل دنیا کے دوسرے کئی ممالک کے مقابلے میں پاکستان کے حالات بہت بہتر رہے۔ ساتھ ہی انہوں نے عیدالفطر کا بطور خاص حوالہ دیا کہ ان ایام میں عوام نے اس خطرے کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے جس لاپرواہی کا ثبوت دیا اس نے پاکستانیوں کو کافی جانی نقصان پہنچایا۔لیکن عیدالفطر کے بعد سمارٹ لاک ڈاؤن کے تجربے نے پاکستان کو بہت حد تک اس ابتلاء سے محفوظ رکھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب چونکہ بقرعید سر پر آ گئی ہے اس لئے اس دوران احتیاط برتی جائے۔

حکومت کی طرف سے عید کی صرف تین رخصتیں دی گئیں تاکہ لوگوں کا انٹرایکشن کم سے کم ہو…… ماسک کا استعمال، فاصلے کا خیال اور بار بار صابن سے ہاتھ دھونے میں کیا قباحت ہے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ ناظرین و سامعین کی اکثریت نے ان کی تقریر کا کوئی خاص نوٹس نہ لیا۔ میں نے ان کے خطاب کے بعد پاک پتن میں اپنے چھوٹے بھائی کو فون کیا اور باتوں باتوں میں پوچھا کہ کورونا کا کیا ’حال‘ ہے؟ انہوں نے برجستہ جواب دیا: ”یہاں تو“ 95فیصد لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ یہ کورونا بھی کوئی وبا ہے۔ لوگ پہلے کی طرح ایک دوسرے سے مل جل رہے ہیں۔ ایک دوسرے کے ہاں کال آن کر رہے ہیں اور بازاروں میں ہجوم و اژدہام کا وہی عالم ہے جو کورونا کے ”ڈرامے“ سے پہلے تھا“…… پھر یکے بعد دیگرے کئی دوستوں سے فون پر بات ہوئی۔ ان سب کا تعلق ملک کے بڑے شہروں (پشاور، راولپنڈی، اسلام آباد، کراچی، کوئٹہ وغیرہ) سے نہیں تھا بلکہ مختلف قصبات میں رہنے والوں سے تھا۔ مثلاً شنکیاری (کے پی)، چیچہ وطنی (پنجاب)، خضدار (بلوچستان) اور پنوعاقل (سندھ) وغیرہ۔

مجھے حیرانی اس بات پر تھی کہ کورونا بڑے بڑے شہروں ہی میں کیوں حملے کر رہا ہے۔ قصبوں اور دیہات میں اس کا وہ زور کیوں نہیں جو معروف شہروں میں دیکھا، سنا اور پڑھا جا رہا ہے۔ میڈیا کی اطلاعات اور خبروں کو جھٹلانا بہت عجیب سا لگ رہا تھا۔ایک سوچ یہ بھی تھی کہ کیا کورونا نے کوئی خاص علاقے منتخب کئے ہوئے ہیں کہ جن میں آبادیوں کی کثرت ہو یا جن میں ٹیسٹنگ کی سہولیات میسر ہوں یا جن میں بڑے بڑے ہسپتال موجود ہوں؟…… اگر ایسا نہیں تو کم آبادی والے علاقوں میں کورونا کا زور کم کیوں ہے حالانکہ وہاں کے لوگ نہ ماسک پہنتے ہیں، نہ فاصلے کے قائل ہیں اور نہ ہاتھوں کو بار بار دھوتے ہیں۔

پھر یہ خبریں بھی تھیں کہ بڑی عمر کے لوگوں کو کورونا جلد پکڑتا ہے جبکہ جواں سال لوگ اس سے زیادہ متاثر نہیں ہوتے اور بچے تو بالکل بھی نہیں ہوتے۔ لیکن یہ دیکھئے کہ کراچی ہمارا سب سے بڑا شہر ہے، آبادی ڈھائی کروڑ ہے، کچی پکی آبادیوں میں ایک ایک کمرے میں چار چار چارپائیاں بچھی ہیں لیکن وہاں کورونا کا کوئی شور سننے یا دیکھنے میں نہیں آتا۔ ان دنوں کراچی میں بارشوں کا زور ہے، سڑکیں، نالے، گلیاں اور غریب لوگوں کے گھروں میں 3،3فٹ پانی کھڑا ہے۔ لوگ سینکڑوں کی تعداد میں باہر گلیوں میں نکل کر کسی اونچی جگہ کی تلاش میں اِدھر اُدھر بھاگ رہے ہیں۔ تین چار گھنٹوں کے بعد جب پانی اترتا ہے اور بارشی ریلوں میں کمی آتی ہے تو لوگ معمول کے کام کاج میں مصروف ہو جاتے ہیں …… اور کسی کو بھی کورونا لاحق نہیں ہوتا۔

تاہم دوسری طرف ملتان کے نشتر میڈیکل کالج یونیورسٹی کے جواں سال وائس چانسلر کو کورونا کا شکار ہوتا دیکھا گیا۔وہ ضعیف العمری کا شکار بھی نہ تھے لیکن کورونا کی زد میں آ گئے۔ اپنے اسی اخبار(پاکستان) میں جناب جبار مفتی کے ایک کالم میں چار پانچ معروف اصحاب کو کورونا ہوا اور وہ چل بسے۔ ان کی عمریں 50 اور 60 برس کے درمیان بتائی گئی تھیں۔ چنانچہ یہ متھ (Myth) کہ کورونا کا حملہ ان لوگوں پر زیادہ ہوتا ہے جن کی قوتِ مدافعت (پیرانہ سالی کے سبب) کم ہو جاتی ہے یا وہ سانس کی بیماری میں مبتلا تھے یا ان کے پھیپھڑے کمزور تھے اس لئے ان کو کورونا نے آ دبوچا تو وہ بھی بے معنی ثابت ہوتی ہے۔ اگر اپنے گھر سے شروع کروں تو میرے ایک جواں سال بیٹے اور بیٹی کا کورونا ٹیسٹ آیا اور وہ تقریباً ایک ڈیڑھ ماہ تک آئسولیشن میں رہے۔ ان کو کبھی نہ سانس کی تکلیف ہوئی تھی اور نہ ان کے پھیپھڑے کمزور تھے۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ آخر یہ کورونا ہے کیا بلا؟…… ایک دم پھیلتا ہے تو بوڑھے یا جوان کو نہیں دیکھتا۔ بس کشتوں کے پشتے لگاتا چلا جاتا ہے۔

میں وزیراعظم کی تقریر کی بات کر رہا تھا۔ خیال تھا کہ پبلک ان کی باتوں پر کان دھرے گی اور یہ بڑی عید خیریت سے گزر جائے گی۔ لیکن اُس شام یہ خبر آئی کہ حکومت پنجاب نے 8روز کے لئے صوبے بھر میں لاک ڈاؤن کر دیا ہے۔ صرف چند دکانیں کھلیں گی اور باقی سب کچھ بند……تاجروں نے اس لاک ڈاؤن کو مسترد کر دیا۔ لاہور، فیصل آباد اور دوسرے کئی شہروں میں پکڑ دھکڑ شروع ہو گئی۔ پولیس نے زبردستی دکانیں بند کروا دیں۔ آج جب یہ سطور لکھ رہا ہوں تو 29تاریخ (جولائی) کی شام ہے، بازار کا چکر لگایا ہے۔دکانیں بند ہیں، بازاروں میں رش کم کم ہے، لوگ ماسک کا استعمال کر رہے ہیں۔ لیکن یہ میں لاہور کینٹ کی بات کر رہا ہوں۔ ابھی ابھی دو تین دوستوں کو اندرون شہر فون کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ وہاں بھی لاک ڈاؤن پر عمل ہو رہا ہے، پبلک تاجروں کی بات کا کوئی خاص نوٹس نہیں لے رہی اور گھروں میں نکلنے سے احتیاط برت رہی ہے۔ یہ لاک ڈاؤن 5اگست تک ہے۔

یکم اگست کو عیدالاضحی ہے۔ یعنی اس عید سے چار دن پہلے اور چار دن بعد تک لاک ڈاؤن کے احکامات دیئے گئے ہیں۔ اگر خدا کا فضل و کرم شاملِ حال رہا تو کورونا کی وجہ سے شرحِ اموات کا جو گراف اواخر جولائی میں کم ہوا ہے، وہ انشاء اللہ اگست میں بھی کم ہوگا۔ اور اگر عوام نے ”واقعی“ احتیاطی تدابیر اپنائیں تو شائد ان علاقوں میں بھی کورونا کا زور ٹوٹ جائے جو گزشتہ 4، 5ماہ سے اس وائرس کی وجہ سے خاصے ’بدنام“ ہو چکے ہیں۔

میں بازار کا ”بے فضول“ سا چکر لگا کر بیڈ (Bed)پر دراز ہو گیا اور سوچنے لگا کہ عمران خان نے کورونا کی جو پکچرپینٹ کی تھی اس کے مطابق تو حالات نارمل تھے لیکن پھر یہ کیا ہوا کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے میں اچانک 8روز کا لاک ڈاؤن کر دیا۔ حسبِ عادت موبائل کو ہاتھ میں لے کر دبایا تو ایک خبر پر نظر پڑی۔ لکھا تھا:

اسپین کے کھلتے ہی ایک خطرناک حد تک اضافہ

یہ کسی رافیل مائنڈر (Raphael Minder) کا مضمون تھا اور میڈرڈ (سپین) میں کسی اخبار میں شائع ہوا تھا۔ اس کو پڑھنے کے بعد معلوم ہوا کہ کورونا وائرس کا خطرہ واقعی ایک حقیقی خطرہ ہے۔ یہ خطرہ کبھی کم ہو جاتا ہے تو کبھی بڑھ جاتا ہے، کبھی شرحِ اموات ہوش ربا ہو جاتی ہے اور کبھی صفر تک بھی آ جاتی ہے…… میری نگاہوں میں کورونا وائرس کی ابتدائی تاریخ گھومنے لگی…… شائد دسمبر 2019ء میں اس کے اکا دکا واقعات چین میں رونما ہوئے۔ پھر امسال کا مارچ آ گیا اور ووہان (چین) میں یکایک شرح اموات بڑھ گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے کورونا ایران میں آ پہنچا اور خدا کا شکر ہے کہ ہمیں بروقت خبردار کر دیا۔ وگرنہ ہم تو یہی سمجھ رہے تھے کہ ووہان ایسی دلی ہے جو ہنوز دور ہے۔

پھر یہ ہوا کہ ایک دو ہفتوں کے اندر اندر اٹلی اور اسپین میں بہت تیزی سے یہ وبا پھیلی۔ وہاں سے امریکہ، فرانس، برطانیہ، جرمنی اور ساری دنیا میں اس کے جان لیوا اثرات محسوس ہونے لگے۔ انڈیا اور پاکستان کی باری بعد میں آئی۔ خدا کا شکر ہے کہ پاکستان نے پہلے مکمل لاک ڈاؤن کیا اور پھر اسے کھول دیا، پھر سمارٹ لاک ڈاؤن اور پھر مکمل طور پر اٹھا لیا گیا۔ اس آنکھ مچولی کا پاکستان کو بڑا فائدہ ہوا۔ انشاء اللہ 8دنوں کی یہ آنکھ مچولی بھی پاکستان کے فائدے میں جائے گی…… ہم اسپین کی بات کریں تو وہاں کورونا کا زور اتنا پھیلا کہ دو ماہ (اپریل، مئی) میں 28000لوگ لقمہ ء اجل بن گئے۔ بتایا گیا کہ ان میں اکثریت 70برس سے زائد عمر والوں کی تھی!…… حکومت نے مکمل لاک ڈاؤن کر دیا لیکن وہی ہوا جس کا خدشہ ہمارے وزیراعظم ظاہر کرتے آ رہے ہیں۔ غریب لوگ بے روزگار ہو گئے اور فاقوں سے مرنے لگے، ناچار 21جون کو حکومت نے ملک بھر میں نافذ ہنگامی حالت ختم کر دی۔ لیکن جونہی یہ لاک ڈاؤن ختم ہوا، مرنے والوں کی تعداد چھ گنا بڑھ گئی…… اور یہی وہ اضافی کثرت (Surge) تھی جس کا ذکر اس درج بالا انگریزی زبان کی خبر میں کیا ہوا تھا……

غرناطہ، اشبیلیہ اور قرطبہ اسپین (اندلس) کے وہ شہر جن پر مسلمانوں نے سینکڑوں برس حکومت کی۔ قرطبہ کی مسجد پر علامہ اقبال کی لافانی نظم ان کی شاہکار نظموں میں شامل ہے۔ اسی طرح الحمرا کے باغات اور محلات اندلس کے اموی دور کی بہترین یادگار ہیں۔ لیکن جب وہاں مسلمانوں کو زوال آیا تو مسجدیں گرجا گھر بنا دی گئیں یا شبینہ کلبوں میں تبدیل کر دی گئیں۔ اسپین کے ساحلِ سمندر (Beaches) سیاحوں کی جنت شمار ہوتے ہیں۔ قرطبہ اور اشبیلیہ کے یہی نائٹ کلب، کسینو (قمار خانے)،سواحلِ سمندر اور عیاشی کے اڈے تھے جو لاک ڈاؤن اٹھاتے ہی پھر سے بیدار ہو گئے۔ زن و شو کے اس بے محابا اختلاط اور اس معاشرے کی مادر پدر آزادی کی وجہ سے دیکھتے ہی دیکھتے کورونا کی وبا نے ایسا زور پکڑا کہ سارا سپین پھر سے اس کی زد میں آ گیا۔ جواں سال عشاق کے جوڑے بالخصوص اس کا شکار ہوئے۔ سپین کے وزیر صحت مسٹر اِلّا (Illa) کا یہ بیان غور طلب ہے جو انہوں نے ملک کی نوجوان نسل کو دیا۔ وہ کہتے ہیں:

“زیادہ تر وباء نائٹ لائف کے مقامات یا ایسی جگہوں پر سلوک سے منسلک ہوتے ہیں جہاں بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوتے ہیں۔”

(کورونا وائرس کے زیادہ تر کیس ان رویوں سے منسلک ہیں جو ”شبانہ زندگی“ کے مقاماتِ خاص ہیں یا ایسی جگہیں ہیں جہاں بڑی تعداد میں لوگ اکٹھے ہوتے ہیں“۔

خدا کا شکر ہے کہ پاکستان ایسے ملکوں میں شامل نہیں جو ”شبانہ زندگی“ کے مقاماتِ خاص شمار ہوتے ہیں۔لیکن جب حکومت کے قائدین بار بار تاکید کرتے ہیں کہ ’ماسک پہنو اور آپس میں فاصلہ رکھو‘ تو اس تجویز یا تاکید یا احتیاط کا مطلب اس کے سوا اور کیا ہے کہ جو کچھ اسپین کے وزیر صحت نے کہا ہے اس کے دوسرے حصے پر عمل کرو…… اس اچانک لاک ڈاؤن کا خیال بھی شائد ہمارے اعیانِ حکومت کو اسپین کی حالتِ زار اور کورونا کی از سر نو ’کثرت‘ (Surge) دیکھ کر آیا ہو!

مزید :

رائےکالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں